صوبہ کے باشندوں کی اجتماعی پوزیشن کا تحفظ
علی محمد الصلابیہمہ گیر اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر گورنر اسلام کی جملہ تعلیمات کا خیال رکھتے تھے، لیکن اس دور کے گورنر خلفائے راشدینؓ کی تعلیمات کی روشنی میں بعض اجتماعی اعمال انجام دیتے، جن کی انجام دہی اس منصب پر فائز ہوتے ہوئے مشکل ہوتی ہے۔ اسی طرح خلفاء اس بات کے حریص رہے کہ لوگوں کے ساتھ ان کے مقام و مرتبہ کے موافق معاملہ کریں، اور گورنر اسلام میں سبقت اور شرف و منزلت کے حاملین کا احترام ملحوظ رکھیں، چنانچہ کوفہ کے گورنر نے سیدنا عثمان غنیؓ کو خط تحریر کیا، اور اس میں یہ شکایت کی کہ دیہاتی اور بعد کے لوگ سابقین اسلام اور شرف جہاد کے حاملین پر غالب ہوتے جا رہے ہیں۔
(الولایۃ البلدان: جلد 2 صفحہ 82، تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 280)
سیدنا عثمان غنیؓ نے اس کے جواب میں تحریر فرمایا: سابقین اسلام اور فاتحین کو فضیلت حاصل ہے، بعد کے لوگ ان کے تابع ہیں، الا یہ کہ وہ خود اس سے پیچھے ہٹ جائیں، اور یہ لوگ بڑھ کر ان کی ذمہ داریوں اور فضیلتوں کو سنبھال لیں۔ ہر ایک کی منزلت و مقام کی حفاظت کرو، اور انہیں ان کا حق دو، لوگوں کے حقوق و منزلت کی معرفت ہی سے عدل قائم ہو گا۔
(الولایۃ البلدان: جلد 2 صفحہ 82)