صرف رغبت کی شادی کرو
علی محمد الصلابیایک شخص سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا جب کہ آپؓ سوار ہو کر کسی مہم پر جا رہے تھے، اس نے عرض کیا: امیر المومنینؓ! میں آپؓ کی خدمت میں ایک ضرورت کے تحت حاضر ہوا ہوں۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس وقت جلدی میں ہوں اگر چاہو تو میرے پیچھے سوار ہو جاؤ اور اپنی ضرورت بیان کرو۔ اس نے عرض کیا: میرا ایک پڑوسی ہے اس نے غصہ میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے اور اب سخت پریشانی میں مبتلا ہو گیا ہے۔ اس کی حالت دیکھ کر میرا یہ ارادہ ہے کہ اپنی جان و مال کے ذریعہ سے نیکی کماؤں بایں طور کہ میں اس سے شادی کر لوں اور رات گزار کر طلاق دے دوں اور پھر وہ اپنے پہلے شوہر کی زوجیت سے منسلک ہو جائے؟ حضرت عثمان بن عفانؓ نے فرمایا: ایسا مت کرو صرف رغبت کی شادی کرو۔
(موسوعۃ فقہ عثمان بن عفان: صفحہ، 81 چوں کہ حلالہ کی شادی سے رسول اللہﷺ نے منع فرمایا ہے، اسلام میں ایسا شخص ملعون ہے اس لیے سیدنا عثمان بن عفانؓ نے اس کو منع کر دیا۔ شادی بیوی بنا کر رکھنے کی نیت سے کرنی چاہیے وقتی لطف اندوزی اور طلاق دینے کے لیے نہیں کرنی چاہیے۔ (مترجم)