مصنفِ نام و نسب تحریر کرتے ہیں:
مودودی مرحوم جن سے ہمیں کئی مسائل میں اختلاف ہے اور پھر وہ ہمارے مسلک کے بھی نہیں، سچ تو یہ ہے کہ مودودی مرحوم بنیادی طور پر دیوبندی یا وہابی تھے۔
(نام و نسب: صفحہ534)
الجواب:ہمیں مصنفِ نام و نسب کی دیانت پر تعجب ہے کہ کس دھڑلے سے انہوں نے مودودی کو دیوبندی قرار دے دیا ہے اور مودودی کی مذکورہ تحریر کردہ تمام تر باتوں کو دیوبندیت کے کھاتے میں ڈال دیا ہے مودودی نے انبیاءِ کرام علیہم السلام، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور سلفِ صالحین پر تنقید و افتراء کو جس طرح اپنی حیات کا مشن بنا لیا تھا، اس کی جتنی تردید حضرات علمائے دیوبند رحمہم اللہ نے کی ہے، شاید کسی مکتبِ فکر کو اس کے عشرِ عشیر کی بھی توفیق نہ مل سکی ہو علمائے دیوبند نے بالمشافہ مودودی سے مل کر ان کی کوتاہیوں پر انہیں متنبہ کیا، تقاریر کے ذریعے اور کتابوں کے ذریعے ان کے مسموم و مذموم عقائد کی تشہیر سے عوام الناس کو محفوظ و مامون رکھنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں اپنی کتابوں کے حوالہ جات نقل کرنے کے بجائے مصنفِ نام و نسب ہی کے دو ہم مسلک اور ذمہ دار علماء کے حوالہ جات پیش کر دیتا ہوں:
1: جناب مولوی ارشد القادری صاحب لکھتے ہیں:
علمائے دیوبند جماعتِ اسلامی کے نظامِ فکر و عمل کو باطل اور دین و ملت کے لیے مہلک سمجھتے ہیں۔
(جماعتِ اسلامی: صفحہ7، 8 تحت: جماعتِ اسلامی علمائے دیوبند کی نظر میں)
2: جناب مولوی مشتاق احمد نظامی نے اپنی کتاب جماعتِ اسلامی کا شیش محل میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد صاحب مدنی، شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری، حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی، مفکرِ اسلام حضرت مولانا شمس الحق افغانی، خیر العلماء حضرت مولانا خیر محمد صاحب جالندھری رحمہم اللہ کے بیانات سے مودودی کے افکار و عقائد کے باطل ہونے پر استدلال کیا ہے۔
(جماعتِ اسلامی کا شیش محل: صفحہ، 5، 8 تحت: چند رائیں)
ساری دنیا جانتی ہے کہ علمائے دیوبند مسائلِ منصوصہ، متعارضہ اور مسائلِ غیر منصوصہ میں سیدنا امامِ اعظم ابو حنیفہؒ کے مقلد ہیں اور ٹھیٹھ حنفی ہیں بلکہ میں پوری ذمہ داری اور دیانت کے ساتھ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آج پوری دنیا میں عموماً اور برصغیر میں خصوصاً حنفیت کا وجود ہی علمائے دیوبند کے دمِ قدم سے ہے ہم ان شاءاللہ کسی موقع پر امامِ اعظمؒ کے فضائل و مناقب، ان کے دفاع اور ان کی فقہ کی ترویج و تشہیر کے سلسلے میں علمائے دیوبند کی خدمات کو تفصیل سے بیان کریں گے اور یہ بتلائیں گے کہ ہمارے مخالفین جو صرف مدعیِ حنفیت ہیں، ان کا دامن ان تمام تر خدمات و اعزازات سے بالکل خالی ہے ہاں! تو بات ہو رہی تھی تقلید کی کہ علمائے دیوبند مقلد ہیں، جبکہ تقلید کے بارے میں مودودی کا بیان ملاحظہ ہو:
میرے نزدیک صاحبِ علم آدمی کے لیے تقلید ناجائز اور گناہ، بلکہ اس سے بھی کچھ شدید تر چیز ہے۔
(رسائل و مسائل: جلد1 صفحہ244 تحت 155 اخلاقیات، تحت: کیا ایک فقہی مذہب کو چھوڑ کر دوسرا الخ)
تقلید کے بارے میں مودودی کا بیان آپ نے ملاحظہ فرمایا، اب ذرا اس سے بڑھ کر فتویٰ ملاحظہ ہو:
حنفی، سنی، دیوبندی، اہلِ حدیث، بریلوی، شیعہ وغیرہ جہالت کی پیداوار ہیں۔
(ملخص خطباتِ مودودی: صفحہ128 فرقہ بندی کے نقصانات)
نیز: میں نہ مسلکِ اہلِ حدیث کو اس کی تمام تفصیلات کے ساتھ صحیح سمجھتا ہوں اور نہ حنفیت یا شافعیت کا پابند ہوں۔
(رسائل و مسائل: جلد 1 صفحہ 235، 149 اخلاقیات، تحت: تقلید و عدمِ تقلید)
ان تمام تصریحات کے بعد مودودی کو حنفی اور دیوبندی سمجھنا اور بلا تحقیق اسے کتاب میں لکھ دینا نری خیانت یا عدمِ واقفیت نہیں تو اور کیا ہے؟ ایک مقام پر خود مودودی لکھتا ہے:
ہمارا ایمان ہے کہ اس دعوت اور طریقِ کار کے علاوہ دوسری تمام دعوتیں اور طریقہ ہائے کار سراسر باطل ہیں۔
(ترجمان القرآن: جلد26 عدد، 3 صفحہ، 111)
دراصل مودودی ذہنی اور فکری طور پر خودرائی اور غیر مقلدیت کا شکار تھے اور اسی لیے چودہ صدیوں میں انہیں اپنے سوا کوئی حق پر نظر نہ آیا۔
(مودودی عقائد کی حقیقت معلوم کرنے کے لیے درج ذیل کتب کی طرف رجوع فرمائیے:
مودودی مذہب: از قائدِ اہلِ سنت حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحبؒ چکوالی
علمی محاسبہ: از قائدِ اہلِ سنت حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحبؒ چکوالی
الاستاذ المودودی: از محدث العصر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ
فتنہ مودودیت: از ریحانۃ العصر شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا سہارنپوریؒ
مودودی کے ساتھ میری رفاقت کی سرگذشت اور اب میرا مؤقف از حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ
مودودی اور تخریبِ اسلام: از فقیہ حضرت مولانا مفتی رشید لدھیانویؒ
اختلافِ امت اور صراطِ مستقیم: از حکیم حضرت سیدی مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ)