شیخ الاسلام حافظ ابنِ تیمیہ حنبلیؒ (متوفی 728ھ) کا فرمان صفحاتِ گزشتہ میں گزر چکا ہے۔ ایک جگہ آپ مزید لکھتے ہیں:
وَلِهٰذَا اتَّفَقَ أَهْلُ السُّنَّةِ عَلَى أَنَّهُ لَا تُفَسَّقُ وَاحِدَةٌ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ، وَ إِنْ قَالُوا فِی إِحْدَاهُمَا إِنَّهُمْ كَانُوا بُغَاةً، لِأَنَّهُمْ كَانُوا مُتَأَوِّلِينَ مُجْتَهِدِينَ، وَالْمُجْتَهِدُ الْمُخْطِئُ لَا يُكَفَّرُ وَلَا يُفَسَّقُ
(منہاج السنۃ: جلد2 صفحہ 205 فصل قال الرافضی مع ان رسول اللہﷺ لعن معاویۃ الخ)
ترجمہ: اور اسی لیے اہلِ سنت کا اس امر پر اتفاق ہے کہ ان دونوں گروہوں میں سے کوئی بھی فاسق نہیں ہے، اگرچہ وہ ایک دوسرے کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ باغی ہیں، کیونکہ وہ مجتہد ہیں تاویل کرنے والے اور مجتہدِ مخطئی (جو) نہ کافر ہوتا ہے، نہ فاسق۔