واقعہ شہادت خلیفہ دوم سیدنا عمررضی اللہ عنہ - ردِ رافضیت |…

واقعہ شہادت خلیفہ دوم سیدنا عمررضی اللہ عنہ

  مولانا اقبال رنگونی

صفحہ 1 از 5

واقعہ شہادتِ خلیفہ دوم سیدنا عمرؓ

حضورﷺ کی پیش گوئی سیدنا عمرؓ کی پُرخلوص دعا اور خواب کی تعبیر سچ بن کر سامنے آئی آپؓ نے اللہ تعالیٰ سے جو مانگا اور جس طرح مانگا اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا آپ کو مدینہ منورہ میں رہتے ہوئے اعلی درجہ شہادت کی موت نصیب فرمائی۔

آپؓ کی شہادت کا واقعہ اس طرح رونما ہوا کہ مدینہ منورہ میں حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کے پاس ابو لولو فیروز نامی ایک غلام تھا جو عیسائی مذہب رکھتا تھا اور روم سے قید ہو کر آیا تھا مگر اصل سے فارسی (مجوسی) تھا کسی زمانہ میں اہل روم میں سے قیدی بنا کر لے گئے تھے یہ غلام اپنے مذہب پر پختگی سے قائم رہنے کے ساتھ قوی تعصب اور حمیت کو بھی پوری طرح دل میں لیے ہوئے تھا۔

نہاوند کا معرکہ ختم ہو کر بہت سے قیدی جب مدینہ منورہ لائے گئے تو ابو لولو پر غم کا پہاڑ ٹوٹا قیدیوں میں سے بچوں کے سروں پر ہاتھ پھیرتا اور کہتا تھا

اکل عمر کبدی ۔۔۔۔ عمر نے میرا جگر کھا لیا ہے۔

مگر باوجود ان خیالات کے مسلمانوں میں رہ کر بے خوف و خطر نہایت آزادی سے زندگی بسر کر رہا تھا آدمی ہوشیار اور طرح طرح کی صنعت و دستکاریوں میں ماہر تھا۔ اس لیے سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ نے پوری آزادی دے کر دو درہم یومیہ کا ٹیکس اس پر لگا دیا تھا ایسے ماہر اور صناع پر یومیہ دو درہم کچھ بھی نہ تھے۔

(اشاعت اسلام: صفحہ 229)

ایک دن اس نے حضرت عمرؓ سے شکایت کی کہ میرے مالک مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے مجھ پر بڑا بھاری محصول مقرر کیا ہے آپ کم کرا دیجیئے سیدنا عمرؓ نے تعداد پوچھی تو اس نے کہا روزانہ دو درہم آپؓ نے پوچھا کہ تو کون سا کام کرتا ہے اس نے کہا نجاری و نقاشی آہن گری۔ ارشاد فرمایا ان صنعتوں کے مقابلے میں یہ کوئی بڑی رقم نہیں فیروز کو اس جواب سے سخت غصہ آیا اور وہ اس وقت وہاں سے نکل کر چلا گیا تاہم سیدنا عمرؓ نے ارادہ کر لیا تھا کے آپؓ اس بارے میں حضرت مغیرہؓ سے گفتگو کریں گے۔( وفي نيته ان يلقى المغيرۃ ويكلمه يخفف)

(المقصد العلی فی زوائد ابی یعلی الموصلی: جلد 3، صفحہ 170)

پھر سیدنا عمرؓ نے اس سے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ تو ایسی چکی بنا سکتا ہے جو ہوا کے ذریعے سے آٹا پیسے اگر ایسا ہے تو مسلمانوں کے لیے ایک چکی بنا دے اس نے کہا بے شک ایسی چکی میں آپ کے لیے بنادوں گا جس کا چرچہ مشرق و مغرب میں ہو جائے گا اس نے اس گفتگو میں آپؓ کو قتل کرنے کی دھمکی دی تھی اور سیدنا عمرؓ بھی اس کو فوراً سمجھ گئے تھے چنانچہ اس کے چلے جانے کے بعد فرمایا لقد اوعدني العبد الان

غلام مجھ کو قتل کی دھمکی دے کر گیا ہے

مگر آپؓ نے اس پر اس سے کسی قسم کی کوئی باز پرس نہیں کی اور نہ اس کو نظر بند کیا اور نہ اپنی حفاظت کا خاص سامان کیا۔ پھر آپؓ نے سیدنا مغیرہؓ کو بلایا اور ان کو تقوی سے کام لینے کی تاکید کی اور فرمایا کہ جن کو خدا نے تمہارا دست نگر بنایا ہے ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔

(الموافقہ: صفحہ 67)

اس واقعہ کے دو تین دن بعد جب سیدنا عمرؓ صبح کی نماز کے لیے نکلے تو فیروز زہریلا خنجر لے کر بہت پہلے مسجد میں چھپا بیٹھا تھا جب نماز کے لیے صفیں درست ہو چکیں تو سیدنا عمرؓ امامت کے لیے آئے اور جونہی نماز شروع کی اس نے اچانک آپؓ پر خنجر سے حملہ کر دیا اور آپؓ پر چھ وار کیے جن میں سے ایک آپؓ کے ناف کے نیچے جا لگا سیدنا عمر فاروقؓ نے فوراً حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کا ہاتھ پکڑ کر امامت کے لیے آگے کر دیا اور خود زخم لگنے کی وجہ سے گر پڑے اور آپؓ کے منہ سے یہ الفاظ نکلے

كان امر الله قدرا مقدورا۔۔۔۔۔۔ اور اللہ کا حکم پورا ہو کر رہنے والا تھا (طبقات: جلد 3 صفحہ 265)

( سیرت عمرؓ بن خطاب صفحہ 241 امام ابن جوزی رحمۃاللہ)

سیدنا عبدالرحمن بن عوفؓ نے مختصر نماز پڑھائی اس دوران فیروز ملعون نے تقریباً 12 مزید لوگوں پر بھی خنجر سے وار کیے جن میں سے چھ حضرات وہیں شہید ہوگئے جب وہ وہاں سے بھاگنے کی کوشش کرنے لگا تو ایک شخص نے اس پر اپنی چادر پھینک دی جس سے وہ قابو آگیا اور جب اسے فرار کی کوئی راہ نہ ملی تو اس نے وہیں اپنے ہی خنجر سے خودکشی کرلی۔

(مستدرک: جلد 3، صفحہ 98)

( تاریخ الخلفاء: صفحہ 137)

( مروج الذہب: جلد 2، صفحہ 258)

سیدنا عمر فاروقؓ نے اسی حال میں نماز ادا کی اور پھر اسی زخمی حالت میں آپؓ کو گھر لایا گیا.

صحابہؓ پر اور تمام مسلمانوں پر صدمے کی یہ کیفیت تھی کہ گویا آج تک ان پر اس قسم کی کوئی مصیبت پیش نہیں آئی اور ان کا صدمہ حق بجانب تھا دوربین اور خواص حضرات تو جانتے تھے کہ آپؓ کی بابرکت زندگانی فتن اور حوادثات کے لیے سد راہ ہے۔ آپؓ کا اس عالم سے اٹھ جانا اور مسلمانوں میں اختلاف و فتن کا ظہور پذیر ہونا گویا لازم و ملزوم ہیں مگر وہ طبقہ جو ان احساسات سے خالی الذہن لیکن آپؓ کے عدل ورافت کے خوشگوار سایہ میں تربیت پا رہا تھا اس پر خاص سے زیادہ اس صدمہ کا اثر تھا۔

امتثال احکام شرع کی بنا پر بظاہر گو صبر و سکون تھا مگر دلوں میں قلق و اضطراب کے دریا معجزن تھے۔ چہرہ پر اداسی چھائی ہوئی تھی مسلمانوں کی تو یہ حالت تھی مگر حضرت عمرؓ کو نہ اپنی جان کا کچھ خیال تھا اور نہ ان مہلک زخموں کی تکالیف پر کچھ اظہار کلفت بلکہ وہی مسلمانوں کی محبت و ہمدردی اب بھی انہیں مشغول کیے ہوئے تھی۔

(اشاعت اسلام: صفحہ 231)۔

سیدنا عمرؓ نے سب سے پہلے پوچھا کہ میرا قاتل کون ہے؟لوگوں نے کہا کہ فیروز آپؓ نے فرمایا

الحمد لله الذي لم يجعل قاتلي يحاجني عند الله بسجدة سجدها له قط

(طبقات: جلد 3 صفحہ 263)

خدا کا شکر ہے کہ میری موت کسی مسلمان کے ہاتھ سے نہیں ہوئی۔

(تاریخ الخلفاء: صفحہ 138)

آپؓ کے خادم خاص حضرت اسلم کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمرؓ کو یہ دعا کرتے سنا ہے۔

اللهم لا تجعل قتلي على يدي عبد قد سجد لك سجدة يحاجني بها يوم القيامة

(طبقات: جلد 3، صفحہ 263)

اے اللہ میرا قتل اس شخص کے ہاتھوں نہ ہو جس نے تیرے سامنے کبھی ایک سجدہ بھی کیا ہو تاکہ وہ روز قیامت اس سجدہ کو لے کر میرے مقابلہ میں نہ آئے آپؓ کو فکر ہوئی کہ شاید کوئی مسلمان اس مشورہ میں شریک ہو اس لئے جب صحابۂ کرامؓ آپؓ کی عیادت کیلئے آتے تو آپؓ پوچھتے تھے۔ أعن ملأ منكم كان هذا

صفحہ 1 از 5