فنون حرب و سیاست میں تطور و ترقی
علی محمد الصلابیپچھلے زمانہ میں اقوام کے درمیان جنگ زمین کے کسی ٹکڑے پر قبضہ کرنے کے لیے، کسی شہر یا قبیلہ پر ظلم و زیادتی کے سبب ہوا کرتی تھی، لیکن عہدِ رسالت اور عہد خلفائے راشدینؓ میں اصول و مبادی کی خاطر جنگ شروع ہوئی، مسلمان اپنے عقیدہ کو روئے زمین پر غالب دیکھنا چاہتے تھے، لہٰذا ان کی ٹکر فاسد اور منحرف عقائد سے ہوئی، مثلاً مشرکین و مجوس کے عقائد۔ لیکن جنگی ترقی کا دائرہ یہیں تک محدود نہیں رہا بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جنگ نے ایک نیا اسلوب اختیار کیا، وہ یہ کہ مسلم مجاہدین جنگ سے قبل اپنے دشمنوں کو اسلام، یا جزیہ، یا مقابلہ کا اختیار دیتے، چنانچہ مسلمانوں کی ان فتوحات سے ایک نادر و انوکھی سیاست وجود پذیر ہوئی جس کو تمام اقوامِ عالم نے پسند کیا، الا یہ کہ جس کے دل میں عدل و مساوات کے خلاف بغض ہو جس کے نتیجہ میں وہ فتنہ پردازی اور نافرمانی و سرکشی پر اتر آئے، اس طرح کے لوگوں نے بسا اوقات مسلمانوں کو شدت اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔
(عصر الخلفاء الراشدین: دیکھیے۔ عبدالحمید بخیت صفحہ 216)