ایک اور دلیل
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہماتم کے ناجائز ہونے پر ایک دلیل یہ ہے کہ قرآنِ کریم پارہ 2 میں ہے وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ يُّقۡتَلُ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اَمۡوَاتٌ
ترجمہ: یعنی جو لوگ خدا کی راہ میں شہید ہوں ان کو مردے مت کہو)۔
نیز پارہ 4 میں ہے:
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِیْ سَبِيلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا
ترجمہ: یعنی جو خدا کی راہ میں شہید ہو جائیں ان کی نسبت مردے ہونے کا گمان نہ کرو۔
پھر سیدُ الشہداء کو مردہ قرار دے کر ان کا ماتم کرنا قرآنِ کریم کی ان آیات کی تکذیب کرنا ہے۔
تعزیہ کے عدم جواز پر ایک اور دلیل یہ ہے کہ کتاب من لا یحضرہ الفقیہ صفحہ 37 میں ہے:
مَنْ جَدَّدَ قَبْرًا أَوْ مَثَّلَ مَثَالاً فَقَدْ خَرَجَ عَنِ الاِسلام۔
ترجمہ: یعنی جس شخص نے کسی قبر کی تجدید کی یا اس کی مثال بنائی وہ اسلام سے خارج ہو گیا جب بحکمِ حدیث قبر کی تجدید اور اس کی مثال بنانا بھی کفر ہے تو پھر تعزیہ بنانا بطریق اولیٰ موجب ضلالت ہوا۔