عالم کا فاعل اصول عالم کے لیے علت تامہ ہے نہ کہ حوادث کے…

عالم کا فاعل اصول عالم کے لیے علت تامہ ہے نہ کہ حوادث کے لیے پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 10

عالم کا فاعل اصولِ عالم کے لیے علتِ تامہ ہے نہ کہ حوادث کے لیے پر رد

اگر کہا جائے کہ وہ عالم کے اصول کے لیے علتِ تامہ تو ہے لیکن حوادث کے لیے نہیں یا یہ کہا جائے کہ وہ ایک ایسے ارادہ ازلیہ کے ساتھ ارادہ کرنے والا ہے جو کہ ازل میں اس کی مراد کے اقتران کو مستلزم ہے لیکن وہ ارادہ ازلیہ جو مراد کو مقارن اور متصل ہے وہ اصولِ عالم کے ساتھ متعلق ہے نہ کہ اس کے حوادث سے۔‘‘

تو ان کوجواب میں کہا جائے گا کہ یہ بات کئی وجوہ سے باطل ہے :

اول : ان میں سے: مفعولِ معین کا اپنے فاعل کے ساتھ مقارنہ خاص طور پر اس کے ساتھ ازلاً اور ابداً مقارنہ صریح عقول کے اعتبار سے ممتنع ہے بلکہ عقل اوّلی میں بھی تصورِ تام کے بعد یہ ممتنع ہے۔ اوراگر وہ یہ کہیں کہ علومِ ضروریہ کے انکار پر ان عقلاء کا کوئی بھی گروہ متفق نہیں جن کا جھوٹ پر اتفاق ناممکن ہے ۔

[جواب ]: تو ان کو جواب میں کہا جائے گا کہ کوئی حر ج نہیں کیونکہ یہ تو ایسا قول ہے جس پرعقلاء میں سے کوئی بھی گروہ متفق نہیں بلکہ جمہورِ عقلاء اگلے پچھلے وہ سب انتہائی درجے کی نکیر کرتے ہیں ،اس کا صرف ایک ہی گروہ قائل ہے جواس قول کو آپس میں بعض بعض سے تقلیدا اور اندھا اعتماد کرتے ہوئے نقل کرنے والے ہیں باہم ایک دوسرے کی موافقت کر تے ہوئے ۔جب اس گروہ کے افراد اس قول کو دوسرے کی موافقت میں اختیار کرنے والے ہیں تو اس صورت میں عمداً جھوٹ بولنا اور جھوٹ بولنے پر اتفاق اور امور مشتبہ پر اتفاق ایک ممکن امر ہے (یعنی باہمی گھٹ جوڑ کرکے کسی باطل پر متفق ہونا )؛جیسے کہ وہ مذاہب ِ باطلہ جن کا فساد بدیہی عقل سے معلوم ہے۔ بخلاف ان اقوال کے جس کا لوگ اتفاقی طور پر اقرار کرتے ہیں ۔ یعنی بغیر تقلید کے اور دوسروں کی دیکھا دیکھی کے پس ان میں سے کوئی بھی ایسی شے نہیں ہے جس کا بدیہی عقل سے فساد معلوم ہو اسی وجہ سے تو کفار کے عام اقوال اور اسی طرح اہل بدعت جو کہ مشرکین اور نصاریٰ اور روافض اور جہمیہ ہیں ان کے عام اقوال ایسے ہیں جن کا فساد بدیہی عقل سے معلوم ہے لیکن وہ ایسے اقوال ہیں کہ ان میں سے صرف ایک گروہ اس کا قائل ہے اور وہ آپس میں بعض بعض سے نقل در نقل حاصل کر رہے ہیں ۔

دوم : یہ کہا جائے گاکہ یہ بات حق ہو تو پھر عالم میں حوادث کا حدوث ممتنع ہو جائے گا اور حوادث کے لیے کوئی بھی محدث اور موجب اور پیدا کرنے والا نہیں ہوگا اور یہ ان امور میں سے ہے جن کا فساد عقلِ بدیہی کے ساتھ نسبتاً زیادہ ظاہرہے کیوں کہ علت جب علتِ تامہ ازلیہ ہوئی اور اس کا معلول اس کے ساتھ مقارن ٹھہرا تو جو شے حادث ہے اگر وہ اس کا معلول ہے تو بتحقیق وہ معلول متاخر ہوا یا بعض معلول کے علتِ تامہ سے متاخر ہوا اور علتِ تامہ کے بارے میں یہ بات ممکن نہیں کہ وہ معلول سے متاخر ہو جائے نہ کل معلول سے اور نہ بعض معلول سے ،پس جو بھی شے حادث ہے ،پیدا ہونے والی ہے وہ علتِ تامہ ازلیہ کی وجہ سے حادث نہیں ہوتی اور واجب الوجود ذات تو ان کے نزدیک علتِ تامہ ازلیہ ہے پس یہ بات لازم آئی کہ اس سے کوئی بھی شے حادث نہ ہو نہ بالواسطہ نہ بلا واسطہ ۔

اس مقام پر جس بات کے ذریعے وہ عذر پیش کرتے ہیں یعنی ان کا یہ کہنا کہ حوادث کا تاخر بوجہ استعداد کے تأخرکے ہے یا اس کے امثال دوسرے فاسد اقوال تو بے شک یہ بات تو اُس چیزوں کے بارے میں کہی جا سکتی ہے جن کے وجود کی علت اور استعداد و قبول کی علت الگ الگ ہو ں جس طرح کہ سورج سے روشنی پیدا ہوتی ہے بتحقیق وہ کبھی نرم کرنے والی اور کبھی تر کرنے والی ہوتی ہے یعنی وہ پھلوں کو خشک ہونے کے بعد ان کو نرم کرتی ہے اُس رطوبت کی وجہ سے جو اس میں پائی جاتی ہے پس پانی کی رطوبت اور سورج کی گرمی آپس میں جمع ہو جاتی ہیں پس وہ پھلوں کو پختہ کر دیتی ہے اور نرم کر دیتی ہے اور کبھی ان کو خشک بھی کرتی ہے اور جس طرح کہ پھلوں کے پکنے کا عمل مکمل ہونے کے بعد ان سے رطوبت کا استمداد منقطع ہو جاتا ہے (یعنی پھر زمین سے رطوبت حاصل نہی کرتے )پس صرف حرارت رہ جاتی ہے جو کہ رطوبت میں اثر کرتی ہے پس وہ ان کو خشک کر دیتی ہے جس طرح کہ سورج اور آگ اور ان کے علاوہ دیگر گرم اجسام دوسرے اشیا ء کو خشک کر تی ہیں ۔

مقصود تو یہ ہے کہ ان جیسی امثال میں کبھی کبھی فاعل کا فعل قابل (اثر قبول کرنے والا)کے عدم استعداد کی وجہ سے متاخر ہو جاتا ہے اور اگر یہ بات فرض کر لی جائے جس کا وہ دعویٰ کرتے ہیں یعنی عقلِ فعال کہ اس کی کوئی حقیقت ہے تو پس بتحقیق اس کے فیض کا تاخر قوابل کے استعداد پیدا ہونے تک اس باب میں سے ہوگا ۔

رہا واجب الوجود جو کہ اپنے ماسوا سب کے لیے فاعل ہے اور وہ فاعل جس کا فعل کسی دوسرے امر پر موقوف نہیں ہے نہ اس کا استعداد نہ اس کا امداد یعنی دوسرے میں اضافہ کرنا اور اثر کرنا نہ اس کا قبول اور اس کے علاوہ تاثیرات بلکہ اس کی خود ذات ہی فعل کو مستلزم ہے پس اگر یہ بات فرض کر لی جائے کہ وہ علتِ تامہ ازلیہ ہیں تو یہ بات ضروری ہوگئی کہ اس کے پورے کا پورا معلول اس کے ساتھ مقارن ہو اور اس کے مفعولات میں سے کوئی شے بھی کوئی جز بھی اس سے مؤخر نہ ہو اور جب یہ بات مشاہدہ سے ثابت ہے کہ اس کے مفعولات میں سے کوئی شے (لاعلی التعیین )اس سے مؤخر ہے اگرچہ وہ مفعول بالواسطہ ہو تو یہ بات معلوم ہوئی کہ وہ ازل میں علتِ تامہ نہیں اور یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ وہ علت بنا ہے بعد اس کے کہ وہ علت نہیں تھا ۔

اگر کہا جائے کہ حرکتِ فلکیہ ہی حوادث کے حدوث کا سبب ہیں ۔

صفحہ 1 از 10