حضرت مولانا عبد الرحمٰن جامی رحمۃ اللہ (متوفی 898ھ) ایک صوفی، نعت گو شاعر اور لغت و ادب کے امام کی حیثیت سے حلقہ اہلِ سنت میں معروف ہیں خاص طور پر واعظین و خطباء آپ کے ان اشعار کو جو آنحضرتﷺ کی محبت و عقیدت میں کہے گئے ہیں، اپنے مخصوص انداز میں پڑھتے ہیں تو کیف و سرور کا ایک سماں بندھ جاتا ہے۔ لیکن کیا حضرت مولانا جامی رحمۃ اللہ کی تصانیف دیگر صوفیائے کرام کی تصانیف کی طرح الحاقات سے بری ہیں؟ یا سبائیوں نے الحاقات کر کے ان میں اہلِ سنت والجماعت کے عقیدہ و مسلک کے خلاف باتیں درج کر دی ہیں؟
پروفیسر یوسف سلیم چشتیؒ مرحوم لکھتے ہیں:
صوفیہ کے اشعار میں تدسیس اور الحاق کی وبا اس قدر عام ہو چکی تھی کہ جب مولانا جامیؒ بغداد آئے تو ان دنوں وہاں روافض کا ہجوم تھا انہوں نے مولانا کی کتاب سلسلۃ الذہب پر چند اعتراضات کیے تھے ایک رافضی نے سیدنا علیؓ کی شان میں چند مبالغہ آمیز اشعار لکھ کر مولانا سے منسوب کر دیئے ایک دن جامع مسجدِ بغداد میں مجلسِ مناظرہ قائم ہوئی، جس کا مقصد یہ تھا کہ روافض اپنے اعتراضات پیش کریں گے، مگر پہلے ان اشعار پر اعتراض ہوا جو ایک رافضی نے مولانا سے منسوب کر دیئے تھے سنی علماء نے ان اشعار پر اعتراض کیا۔
(اس داستان کی تفصیل کے لیے حیاتِ جامی مؤلفہ ڈاکٹر علی اصغر حکمت، مطبوعہ تہران، صفحہ83 ملاحظہ فرمائیے)
مجھے اس واقعے سے صرف یہ دکھانا مقصود ہے کہ اسماعیلیہ، قرامطہ اور روافض کا یہ محبوب مشغلہ تھا کہ وہ صوفی شعراء کے کلام میں سیدنا علیؓ کی شان میں ایسے مبالغہ آمیز اشعار، جن سے (الوہیتِ علیؓ یا تنقیصِ معاویہؓ نعوذ باللہ) پر استدلال ہو سکے، اپنی طرف سے شامل کر دیا کرتے تھے۔
اگر یہ سوال ہو کہ انہیں اس کی جرأت کیسے ہوتی تھی؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ تمام صوفی سلسلے اور تمام صوفی افراد بلا استثناء احدی حضرت علیؓ کو نہایت مکرم محترم اور لائقِ توقیر سمجھتے ہیں، اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ سلاسلِ اربعہ میں سے تین سلسلے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر منتہی ہوتے ہیں، لہٰذا صوفی شعراء نے جہاں خلفاءِ ثلاثہؓ کی منقبت میں زورِ قلم صرف کیا ہے وہاں حضرت علیؓ کی منقبت میں بھی اپنی عقیدت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس لیے روافض اور قرامطہ کو مبالغہ آمیز اشعار شاملِ کلام کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آ سکتی تھی، فرض کیجیے کہ مولانا جامیؒ نے اکیس شعر کی ایک نظم سیدنا علیؓ کی شان میں لکھی تو اگر کوئی شخص دو تین ایسے شعر جن میں سیدنا علی المرتضیٰؓ کو خدا بنا دیا گیا ہو، اس نظم میں چپکے سے شامل کر دے ( اور اس کو تدسیس کہتے ہیں) تو کیا دشواری لاحق ہو سکتی ہے؟
(اسلامی تصوف میں غیر اسلامی نظریات کی آمیزش: صفحہ 45، 46 تحت نور بخشی سلسلہ)