نجف اشرف میں کلیۃ علوم الدین کے ڈیڈ(عمید) مرتضیٰ عسکری نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جن مؤرخین نے بھی عبداللہ بن سبا کے احوال پر گفتگو کی ہے، ان کے اکثریتی طبقے نے اپنی معلومات امام طبری سے اخذ کی ہیں، اور یہ کہ طبری نے اس سلسلے میں مشہور اخباری و راوی سیف بن عمر کی روایات پر تکیہ کیا ہے جنہیں علمائے جرح و تعدیل نے مجروح (ناقابلِ اعتبار) قرار دیا ہے۔ مرتضیٰ عسکری کا بیان ہے کہ چنانچہ جب ہم سیف کی شخصیت پر تحقیق کے لیے کتبِ رجال کی طرف رجوع کرتے ہیں، تو ہم دیکھتے ہیں کہ رجالی ائمہ اسے ان الفاظ میں موصوف کرتے ہیں کہ وہ مجہول راویوں کی ایک بہت بڑی جماعت سے روایت کرتا ہے وہ حدیث میں ضعیف ہے، اس کی کوئی حیثیت نہیں (لیس بشیء) وہ متروک الحدیث ہے حدیثیں گھڑتا (وضع کرتا) تھا، روایت کے باب میں وہ ساقط الاعتبار ہے، وہ ثقہ راویوں کی طرف منسوب کر کے من گھڑت (موضوع) روایات نقل کرتا ہے، اس کی عام احادیث منکر ہیں، اور وہ وضعِ حدیث اور زندقہ (ملحدانہ الحاد)کے الزام سے متہم ہے۔
حوالہ:
(سيف بن عمر الضبی التميمی الكوفی مؤلف كتاب (الفتوح والردة) وكتاب(الجمل وسير عائشہ وعلی) توفی سنۃ 170هـ ابن الندين الفهرست صفحہ137)
(العسكری مرتضىٰ 1972م، عبداللہ بن سبا واساطير اخرى دار الغدير بيروت صفحہ17)
ہم (اس کے جواب میں) یہ کہتے ہیں کہ بیشک علمائے جرح و تعدیل نے اسے مجروح قرار دیا ہے چنانچہ اس کے بارے میں (امام) نسائی نے فرمایا ہے ”سیف بن عمر الضبی ضعیف“ ہے.
(ابنِ حبان محمد البستی المجرحين من المحدثين والضعفاء والمتركين، تحقیق محمود ابراهيم زايد حلب :صفحہ 14)
ابو حاتم رازی نے اس کے متعلق کہا ہے:
ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میرے والد سے سیف بن عمر الضبی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا وہ متروک الحدیث ہے، اور اس کی حدیثیں(روایت کے اسلوب میں) واقدی کی حدیثوں سے مشابہت رکھتی ہیں، ابنِ معین نے اس کے بارے میں فرمایا ہے: سیف حدیث کا ضعیف ہے۔
(ابن ابی حاتم الرازی عبدالرحمٰن، الجرح والتعديل مطبعۃ جمعيۃ دائرة المعارف العثمانيۃ، حيدر آباد الدكن: ط1جلد 2 صفحہ 378)
امام ذہبیؒ نے اس کا تذکرہ کرتے ہوئے صرف اسی قول پر اکتفا کیا ہے کہ:
ابنِ معین اور دیگر ائمہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
(الذهبی مجمد بن احمد بن عثمان، الكاشف فی معرفۃ من له روايۃ في الكتب الستۃ، تحقيق عزت علي عيد عطيہ وزميلہ، 1972م، نشر دارالكتب الحديثۃ القاهرة جلد 1صفحہ416)
ابنِ حجرؒ کے نزدیک:
سیف حدیث میں ضعیف ہےـ
(ابن حجر العسقلانیؒ، احمد بن علی، تقريب التهذيب، تحقیق عبدالوهاب عبد اللطيف 1975م ط 2 نشر دار المعرفۃ بيروت: جلد1صفحہ344)
لیکن(یہ نکتہ ملحوظِ خاطر رہے کہ) احادیثِ نبویہ شریفہ کے باب میں اس کی مرویات پر جو طعن اور جرح کی گئی ہے، وہ لازمی طور پر ان تاریخی اخبار و واقعات پر لاگو نہیں ہوتی جنہیں وہ روایت کرتا ہے۔ کیونکہ احادیثِ نبویہﷺ شریعت کا وہ حصہ ہیں جن پر احکام کی بنیاد رکھی جاتی ہے، جن سے حلال و حرام اخذ کیا جاتا ہے، اور جن کے ذریعے حدود نافذ کی جاتی ہیں، پس احادیث کا تعلق تشریعِ اسلامی کے ایک ایسے بنیادی اصل سے ہے جو کہ سنّتِ نبویہ غراء (روشن سنت) ہے۔
تاریخی اخبار (واقعات) کی روایت کا معاملہ (احادیث سے) مختلف ہے کیونکہ یہ تاریخی اخبار اگرچہ اہم تو ہیں لیکن ان کی اہمیت احادیثِ نبویہ کے مرتبے تک نہیں پہنچتی، اور نہ ہی ان سے کوئی ایسے شرعی احکام صادر ہوتے ہیں جن کی پابندی لازم ہو۔ کیونکہ(رسولﷺ کے علاوہ)ہر انسان کی بات قبول بھی کی جا سکتی ہے اور چھوڑی بھی جا سکتی ہے، سوائے اس قول کے جو رسول اللہﷺ سے صحیح سند کے ساتھ ثابت ہو۔ اور آئیے ہم دوبارہ جرح و تعدیل کی ان کتابوں کی طرف رجوع کریں جنہوں نے سیف کو بطورِ محدث تو مجروح قرار دیا ہے، تاکہ ہم یہ دیکھ سکیں کہ بطورِ مؤرخ اور اخباری (تاریخی راوی) ان کا سیف کے بارے میں کیا حکم ہے۔
چنانچہ امام ذہبی نے فرمایا ہے:
سیف ایک (ماہر) اخباری اور (تاریخ کا گہرا) علم رکھنے والا تھا۔( الذهبی محمد بن احمد بن عثمان، ميزان الاعتدال، تحقیق محمد علی البجاوی، 1963م، دار أحياء الكتب العربيۃ ط1القاهرة: جلد 2 صفحہ255)
حافظ ابن حجرؒ نے فرمایا ہے:
وہ حدیث میں ضعیف ہے (لیکن) تاریخ میں بنیادی ستون اور مستند (عمدہ) ہے۔
(ابنِ حجر العسقلانیؒ احمد بن علی تقريب التهذيب مرجع سابق جلد 1صفحہ 344)
تو پھر ہم کیوں کچھ اقوال کو تو لے لیتے ہیں اور کچھ دوسرے اقوال کو چھوڑ دیتے ہیں؟ اور حقیقت تو یہ ہے کہ عبد اللہ بن سباء کے احوال و اخبار پر تنہا سیف بن عمر ہی وہ واحد ماخذ اور مصدر نہیں ہے جس نے ان روایات کو مخصوص کر رکھا ہو، بلکہ ابن سبا اور اس کے گروہ کے احوال متقدمین(قدیم)علماء اور سیف بن عمر کے علاوہ دیگر ایسے راویوں سے بھی منقول ہو کر وارد ہوئے ہیں جیسے کہ:
الف) یحییٰ بن حمزہ زبیدی کی کتاب (طوق الحمامہ)میں سوید بن غفلہ جعفی کوفی متوفی سن (80ھ/699ء)سے منقول ہے کہ وہ امیرالمؤمنین علیؓ کے دورِ خلافت میں ان کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا میں کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا ہوں جو ابوبکرؓ اور عمرؓ کا برے الفاظ میں تذکرہ کر رہے تھے، اور وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ بھی اپنے دل میں ان دونوں کے لیے ایسے ہی منفی جذبات چھپائے ہوئے ہیں، اور ان برائی کرنے والوں میں عبداللہ بن سبا بھی شامل ہے۔ یہ سن کر سیدنا علیؓ نے فرمایا: میرا اس خبیث اور سیاہ بخت سے کیا لینا دینا! پھر انہوں نے فرمایا اللہ کی پناہ کہ میں ان دونوں کے لیے اپنے دل میں خیر اور بھلائی کے سوا کچھ اور چھپاؤں۔ اس کے بعد انہوں نے ابنِ سباء کی طرف پیغام بھیجا اور اسے مدائن کی طرف جلا وطن کر دیا، اور خود منبر کی طرف بڑھے یہاں تک کہ جب لوگ جمع ہو گئے تو انہوں نے ان دونوں ابوبکرؓ و عمرؓ کی خوب مدح و ثنا فرمائی، اور پھر ارشاد فرمایا اگر مجھے کسی بھی شخص کے بارے میں یہ پتہ چلا کہ وہ مجھے ان دونوں پر فضیلت دیتا ہے، تو میں اسے مفتری (جھوٹا تہمتی) کی حد (یعنی اسی کوڑے) لگاؤں گا۔
(الٰہی ظهير، احسان، السنہ والشيعۃ نشر إدارة ترجمۃ السنة الهور، باكستان صفحہ8 نقلا عن طوق الحمامۃ ليحيى بن حمزة الزبيدی)
ب) حافظ ابنِ عساکرؒ نے زید بن وہب جہنی کوفی متوفی سن (90ھ/709ء) سے روایت کی ہے انہوں نے کہا: امیر المؤمنین علیؓ نے فرمایا :میرا اس خبیث اور سیاہ بخت یعنی عبد اللہ بن سباء سے کیا لینا دینا! وہ ابوبکرؓ اور عمرؓ کی عیب جوئی اور تنقیص کیا کرتا تھا۔ (ابن عساكر، مختصر تاريخ دمشق مرجع سابق م 12، صفحہ 222)
ج) امام ابن سعد نے اپنی کتاب الطبقات میں ابراہیم بن یزید نخعی متوفی سن (96ھ/714ء)سے روایت کی ہے کہ ایک شخص ابراہیم نخعی کے پاس آیا کرتا تھا اور ان سے علم سیکھتا تھا۔ اسی دوران اس نے کچھ لوگوں کو علیؓ اور عثمانؓ کے معاملے کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا، تو اس نے اپنے دل میں کہا: کیا میں اس شخص سے علم حاصل کر رہا ہوں؟ جبکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ لوگ علیؓ اور عثمانؓ کے معاملے میں باہم دست و گریبان اور اختلاف کا شکار ہیں، چنانچہ اس نے ابراہیم نخعی سے اس کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے فرمایا: نہ تو میں سبئ (عبد اللہ بن سبا کے نظریات کا حامل)ہوں اور نہ ہی مرجئی(ارجاء کا عقیدہ رکھنے والا) ہوں۔
(ابن سعد، ابو عبداللہ محمد بن سعد الزهري الطبقات الكبرىٰ جلد 6 صفحہ 192 طبعۃ دار صادر بيروت)
د) حافظ ابنِ عساکرؒ نے تاریخ دمشق میں شعبی(عامر بن شراحیل حمیری یمنی)متوفی سن (103ھ/721ء)سے روایت کی ہے، انہوں نے فرمایا: سب سے پہلے جس شخص نے (اسلام میں عقائد کے باب میں) جھوٹ گھڑا وہ عبداللہ بن سباء تھا۔ اور اسی طرح ابن عساکر نے ابن الطفیل(عامر بن واثلہ لیثیؓ) جو کہ آخری رحلت فرمانے والے صحابی ہیں اور ان کی وفات سن (110ھ/728ء)میں ہوئی، سے روایت کی ہے، انہوں نے بیان کیا: میں نے مسیب بن نجیہ کو دیکھا کہ وہ اسے پکڑ کر لا رہے تھے جبکہ لوگ اس کے گرد شور مچا رہے تھے یعنی ابن السوداء (ابن سبا)کو اور علیؓ اس وقت منبر پر تشریف فرما تھے تو علیؓ نے دریافت فرمایا: اس کا کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے عرض کیا:یہ اللہ اور اس کے رسولﷺ پر جھوٹ باندھتا ہے۔
(ابنِ عساكر مختصر تاريخ دمشق: مرجع سابق م 12 صفحہ221)
ھ) امام (ابن جریر)طبری نے نقل کیا ہے کہ قتادہ بن دعامہ سدوسی متوفی سن (117ھ/735ء)جب اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانِ عالی شان تلاوت فرماتے:
”فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ“ (پس جن لوگوں کے دلوں میں کجی اور ٹیڑھاپن ہے) تو وہ فرماتے: اگر اس سے مراد حروریہ(خوارج) اور سبئیہ(عبد اللہ بن سبا کے پیروکار)نہیں ہیں، تو پھر میں نہیں جانتا (کہ اس سے کون مراد ہے)(الطبری، ابوجعفر محمد بن جرير، جامع البيان في تفسير القران، وبهامشہ تفسير غرائب القران للنسيابوري، نشر دار الجيل، بيروت، جلد 3 صفحہ 119)
جیسا کہ بالکل واضح ہے، ان روایات کے ناقلین میں سے کسی نے بھی یہ ذکر نہیں کیا کہ یہ روایات سیف بن عمر سے نقل کی گئی ہیں جو اس بات کی صریح دلیل ہے کہ یہ تاریخی خبر نقل کرنے میں سیف بن عمر تمیمی منفرد نہیں ہے، بلکہ یہ دیگر راویوں سے بھی مروی ہے جن میں سے بعض تو سیف پر زمانی اعتبار سے مقدم (پہلے)ہیں۔ اور اس کے باوجود کہ استاد مرتضیٰ عسکری سیف کی روایت کو قبول کرنے سے اس حجت کے ساتھ انکار کرتے ہیں کہ علمائے جرح و تعدیل نے اسے مجروح قرار دیا ہے بطورِ محدث، نہ کہ بطورِ اخباری (تاریخی راوی) ہم یہ دیکھتے ہیں کہ وہ خود ابو مخنف کی روایات کو بلا جھجک قبول کر لیتے ہیں، جبکہ علمائے جرح و تعدیل نے ابو مخنف کو بطورِ محدث اور بطورِ اخباری دونوں حیثیتوں سے مجروح اور ناقابلِ اعتبار قرار دیا ہے۔
(ابو مخنف هو لوط بن یحیی ٰبن سعد الازدی الكوفی الاخباری، جرحہ العلماء محدثا واخباريا. ابن حجر العسقلانی، لسان الميزان، نشر مطبعۃ مجلس ادارة المعارف النظاميۃ بحيدر اباد الدكن جلد 4 صفحہ 492)
ابو مخنف کے بارے میں امام ابن معین نے فرمایا ہے:
وہ کچھ بھی نہیں ہے (یعنی روایت میں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔(ابنِ حجر العسقلانی لسان الميزان: مرجع سابق :جلد 4 صفحہ 492)
*مام ذہبیؒ نے اس کے متعلق فرمایا ہے:
اور وہ تاریخ میں کوئی مستند یا بنیادی ستون نہیں ہے جیسا کہ سیف کا معاملہ ہے، بلکہ وہ تو ایک تباہ حال اور ناقابلِ اعتبار اخباری راوی ہے جس پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔(الذہبی، ميزان الاعتدال مرجع سابق جلد 3 صفحہ419)
اور اسی طرح کے اوصاف کے ساتھ حافظ ابنِ حجر عسقلانیؒ نے لسان المیزان میں اس کی مذمت و تعریف کی ہے۔(ابن حجر لسان الميزان مرجع سابق :جلد 4 صفحہ 492)
ابو مخنف نے خلیفہ راشد سیدنا عثمانؓ کے فتنے کے واقعات میں سبئیہ گروہ کا کوئی تذکرہ نہیں کیا، بلکہ اس کے ہاں عبد اللہ بن سباء کا سب سے پہلا تذکرہ علیؓ کے دورِ خلافت سے ملتا ہے چنانچہ وہ ذکر کرتا ہے کہ معرکہ نہروان کے بعد علیؓ کے پاس ‘عبد اللہ بن سبا عبداللہ بن وہب الراسبی الہمدانی جو خوارج کا سرغنہ تھا اور وہی ابن سباء ہے (جبکہ صحیح عبارت یوں ہے: وہ اور ابن سبا) آئے، اور اس کے ہمراہ حجر الکندی، عمرو بن الحمق الخزاعی اور حیّہ بن جوین البجلی ثم العرنی بھی تھے انہوں نے آپ سے ابوبکرؓ اور عمرؓ کے بارے میں آپ کی رائے دریافت کی، تو آپ ان پر سخت غضبناک ہوئے اور فرمایا: کیا تم لوگ اب دنیا کے تمام کام چھوڑ کر اسی کام کے لیے فارغ ہوئے ہو؟
(ابوالشعر هند حركۃ المختار بن ابی عبيد فی الكوفۃ، مرجع سابق، صفحہ 332. نقلا عن انساب البلاذري، مرجع سابق جلد 5 صفحہ 59)
یہ روایت سیف بن عمر کے علاوہ کسی دوسرے اخباری کے ہاں اس بات کا پہلا اشارہ ہے کہ ابن سبا، سیدنا علیؓ کی خلافت کے استحقاق کا عقیدہ رکھتا تھا۔ اور اس میں ایک ایسے اخباری کے ہاں ابن سباء کے وجود کا ثبوت بھی ملتا ہے جس پر خود مرتضیٰ عسکری پورا بھروسہ کرتے ہیں۔ پھر ابو مخنف علیؓ کی شہادت کے بعد سبئیہ کا مختصر طور پر تذکرہ کرتا ہے جس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ وہ گروہ تھا جو علیؓ سے وفاداری کا دم بھرتا تھا۔ اور زیاد بن ابیہ نے حجر بن عدی الکندی اور ان کے ساتھیوں کو ”السبئیۃ الجانیۃ“(جنایت کار سبئی)اور”الترابیۃ السبئیۃ“(مٹی سے منسوب سبئی گروہ) کے اوصاف سے ملقب کیا۔ ابو مخنف نے ذکر کیا ہے کہ شبث بن ربعی ریاحی نے مختار ثقفی کے ساتھیوں کا تمسخر اڑایا اور انہیں سبئیہ قرار دیا اسی طرح کوفہ کے اشراف و عمائدین نے بھی مختار اور اس کے پیروکاروں کو سبئیہ کہا اور یہ بات مختار ثقفی کے خلاف ان کے اس احتجاج کے دوران کی ہے جو معرکۂ ”جبانہ السبع“ سے پہلے ہوا تھا جس میں مختار کو سن 66 ہجری میں فتح حاصل ہوئی تھی۔ چنانچہ انہوں نے کہا تھا: مختار نے اور اس کے سبئی گروہ نے اپنے اسلافِ صالحین سے براءت و بیزاری کا اظہار کیا ہے۔ بالکل اسی طرح خوارج نے بھی علیؓ کے ساتھیوں کو سبئیہ کے نام سے پکارا ۔اور یہ تمام روایات جو ابو مخنف سے مروی ہیں، اور اس سے پہلے کی وہ روایات جو سیف اور دیگر راویوں سے منقول ہوئیں، یہ سب اس بات کا فائدہ دیتی ہیں کہ عبد اللہ بن سباء اور اس کے پیروکار حقیقت کی دنیا سے تعلق رکھتے تھے نہ کہ تخیل کی دنیا سے جیسا کہ مرتضیٰ عسکری نے دعویٰ کیا ہے۔ اور مرتضیٰ عسکری کا اس تاریخی خبر کو محض اس بنیاد پر مجروح اور مسترد کر دینا کہ یہ سیف سے مروی ہے، اپنی جگہ پر درست اور محلِ نظر نہیں ہے کیونکہ یہ خبر سیف کے علاوہ دیگر مأخذ سے بھی وارد ہوئی ہے۔ پس عبداللہ بن سبا کے اخبار و احوال کے لیے تنہا سیف ہی واحد مصدر نہیں ہے، جس طرح کہ حافظ ابن عساکر کی روایات کے طرق اور اسانید بھی صرف سیف پر منحصر نہیں ہیں، بلکہ انہوں نے اپنی تاریخ میں ایسی متعدد روایات درج کی ہیں جن کی سند میں سیف سرے سے موجود ہی نہیں ہے، اور وہ تمام کی تمام روایات ابنِ سبا کے وجود کو ثابت کرتی ہیں اور اس کے احوال کی تصدیق کرتی ہیں۔
حوالہ جات:
حجر بن عدي: عده البخاري من التابعين، وكان من شيعۃ علي في الجمل وصفين روى ابن سيرين أن ابن زياد، وهو أمير للكوفۃ خطب خطبہ أطال فيها، فنادى حجر بن عدي: الصلاة، فمضى زيد في خطبتہ، فصحبہ عدي بحجر وشاركہ آخرون، فكتب زياد إلى معاويۃ يشكو إليه بغي حجر بن عدي على أميره في بيت اللہ، فكتب معاويۃ إلى زياد أن سرح بہ إلي، فلما جيء بہ إلى معاويۃ أمر بقتلہ متعظا بعاقبۃ عثمان، وما جر اله تمادي الذين اجترأوا عليہ ابن العربي، أبوبكر محمد بن عبداللہ، ابن العربي العواصم من القواصم، تحقيق محب الدين الخطيب ط 3 المكتبۃ السلفيۃ بمصر، هامش صفحہ 212۔
حجر بن عدی: امام بخاریؒ نے انہیں تابعین میں شمار کیا ہے، اور وہ (جنگِ)جمل اور صفین میں سیدنا علیؓ کے ساتھیوں(شیعہ)میں سے تھے۔ ابنِ سیرین نے روایت کیا ہے کہ زیاد بن ابی سفیان نے، جب وہ کوفہ کا گورنر تھا، ایک طویل خطبہ دیا، تو حجر بن عدی نے آواز لگائی: نماز کا وقت ہو گیا ہے! مگر ابنِ زیاد اپنے خطبے میں مصروف رہا، تو حجر نے اس کی طرف کنکری پھینکی اور دیگر لوگوں نے بھی اس کام میں ان کا ساتھ دیا۔چنانچہ زیاد نے معاویہؓ کو خط لکھا جس میں اس نے اللہ کے گھر میں اپنے امیر کے خلاف حجر بن عدی کی اس سرکشی کی شکایت کی۔ تو سیدنا معاویہؓ نے زیاد کو لکھا کہ اسے میرے پاس بھیج دو۔ پس جب انہیں سیدنا معاویہؓ کے پاس لایا گیا، تو انہوں نے سیدنا عثمانؓ کے انجام سے عبرت پکڑتے ہوئے ان کے قتل کا حکم دے دیا، اور یہ کہ ان لوگوں کی درازیِ دستی نے سیدنا عثمانؓ پر کتنا بڑا فتنہ ڈھایا تھا جنہوں نے ان پر جرات کی تھی۔
(حوالہ:ابنِ العربی، ابو بکر محمد بن عبداللہ، العواصم من القواصم، تحقیق: محب الدین الخطیب، تیسرا ایڈیشن، المکتبۃ السلفیۃ مصر، حاشیہ صفحہ 212)
(البلاذری احمد بن يحيىٰ (ت 297هـ)، انساب الأشراف، جلد 4، جلد 5 القدس)
(الطبري تاريخہ مرجع سابق جلد 5 صفحہ 775)
(الطبری تاريخہ، مرجع سابق جلد 5 صفحہ 25)
(الطبری تاريخہ مرجع سابق جلد 5 صفحہ 44)
(البلاذری، انساب الأشراف، مرجع سابق جلد 5 صفحہ صفحہ 212 والطبری تاريخہ مرجع سابق جلد 5 صفحہ 272 جلد 6 صفحہ 25 صفحہ 44، وابو الشعر هند مرجع سابق 333)
جس طرح اہلِ سنت کے مراجع کے علاوہ خود شیعی مصادر بھی متنوع اور کثیر ہیں جنہوں نے عبد اللہ بن سبا کے وجود کو ثابت کیا ہے۔ اور ان شیعی مصادر میں فرق و مذاہب کی وہ مستند کتابیں شامل ہیں جن میں سرِ فہرست الناشئ الاکبر (متوفی 293ھ)کی کتاب:مسائل الامامۃ ومقتطفات من كتاب الأوسط في المقالات(ابنِ عساكر تاريخ مدينہ دمشق مخطوط في المكتبۃ الأزهريۃ رقم(714)ورقۃ 124ب)
القمی(متوفی301ھ)کی کتاب المقالات والفرق(الناشئ الأكبر مرجع سابق صفحہ22-23)
النوبختی (متوفی310ھ) کی کتاب فرق الشيعہ ہے۔(القمي مرجع سابق صفحہ 20، 52)
اور اسی طرح کتبِ رجال بھی اس کا ثبوت پیش کرتی ہیں،جن میں سے ایک رجال الکشی ہے (جس کا مؤلف ابو عمرو محمد بن عمر، متوفی 340 ہجری ہیں)
(النوبختي ابومحمد الحسن بن موسىٰ 1931 تصريح ريتر استنبول صفحہ 23)
انہوں نے اس کتاب میں ایک سے زائد ایسی مستند اور باقاعدہ اسانید سے مروی روایات نقل کی ہیں جو ابن سباء کی حقیقت وجود کی تصدیق کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ محمد بن الحسن الطوسی(متوفی460ھ)کی کتاب رجال الطوسی بھی اس کی شاہد ہے اور یہ تمام شیعی مراجع ابن سبا کے وجود کو ثابت کرتے ہیں اور متأخرینِ شیعہ میں سے ان لوگوں کی علمی مذمت کرتے ہیں جنہوں نے عبد اللہ بن سباء کے وجود کا انکار کرنے یا اس کے احوال و اخبار میں شک و شبہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔لیکن اس سب کے باوجود، استاد مرتضیٰ عسکری نے ان تمام راویوں کے اخبار کو مسترد کر دیا، اور ثقہ حفاظِ حدیث نے جو کچھ نقل کیا تھا اس پر انہوں نے قناعت نہیں کی، اور انہوں نے ملل و نحل فرق و مذاہب کی کتابوں پر سخت طعن و تشنیع کی۔ اور بات یہیں تک محدود نہیں رہی کہ انہوں نے صرف علمائے اہل سنت کے اخبار و روایات کو رد کیا ہو، بلکہ انہوں نے تو خود ائمہ و اکابرینِ شیعہ کی لکھی ہوئی باتوں کو بھی یکسر رد کر دیا۔(الطوسی محمد بن الحسن (ت460هـ) رجال الطوسی بغداد صفحہ51)