ہم ان کے (یعنی سیدنا امیرِ معاویہؓ کے) اس طرزِ عمل کو اجتہادی کارنامہ سمجھنے سے قاصر ہیں۔
جناب نے اپنی اس کتاب میں ایک مقام پر لکھا ہے:
انسان خود کو خواہ کتنا ہی دانشور، ذہین و فطین اور صاحبِ علم سمجھے، (مگر اسے) کسی بھی لمحے اپنے محاسبہ اعمال و اقوال سے بے نیاز نہیں ہونا چاہیے۔
(نام و نسب: صفحہ 245)
دعویٰ سنی ہونے کا ہو اور تیور یہ کہ ہم اور سمجھنے سے قاصر جیسے الفاظ؟ ہم اور میں تو اہلِ سنت والجماعت کا شعار نہیں ہے وہاں تو کتاب و سنت کو بھی سلفِ صالحین اور اکابر علمائے اعلام رحمہم اللہ کی تعبیرات و تشریحات کی روشنی میں سمجھنے کی ہدایات دی جاتی ہیں اور قرآنِ مجید کی کسی آیت کی ایسی تشریح یا حدیث کا کوئی ایسا مفہوم جو سلفِ صالحین اور اکابرِ امت سے ثابت شدہ نہ ہو، باطل تصور کیا جاتا ہے کم از کم ہم نے تو اپنے اکابر سے یہی سبق لیا ہے صاحبِ معارف السنن محدث العصر سیدنا مولانا سید محمد یوسف بنوری قدس سرہ (متوفی 1397ھ) فرماتے ہیں:
یہ دنیا حق و باطل کی آماجگاہ ہے یہاں باطل حق کا لبادہ اوڑھ کر آتا ہے بسا اوقات ایک آدمی اپنے غلط نظریات کو صحیح سمجھ کر ان سے چمٹا رہتا ہے، جس سے رفتہ رفتہ اس کے ذہن میں کجی آ جاتی ہے اور بالآخر اس سے صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط سمجھنے کی استعداد ہی سلب ہو جاتی ہے اور یہ بڑی خطرناک بات ہے اہلِ حق و تحقیق کی یہ شان نہیں کہ وہ میں یہ سمجھتا ہوں کی برخود غلط فہمی میں مبتلا ہوں، اور جب انہیں اخلاص و خیر خواہی سے تنبیہ کی جائے تو تاویلات کا ضمیمہ لگانے بیٹھ جائیں اہلِ حق کی شان تو یہ ہے کہ اگر ان کے قلم و زبان سے کوئی نامناسب لفظ نکل جائے تو تنبیہ کے بعد فوراً حق کی طرف پلٹ آئیں۔
(بصائر و عبر: جلد 1 صفحہ192 بیانِ عصمتِ انبیاء و حرمتِ صحابہؓ)
اسی طرح صاحبِ اوجز المسالک ریحانۃ العصر سیدنا مولانا محمد زکریا سہارنپوری قدس سرہ (متوفی 1402ھ) فرماتے ہیں:
حقیقت یہ ہے کہ اس دورِ فساد میں آدمی اس وقت تک محقق نہیں سمجھا جاتا جب تک سلفِ صالحین کے خلاف کوئی نئی ایجاد نہ کرے لہٰذا یہ ناکارہ تو حذو النعل بالنعل ان حضرات کا متبع ہے، اور اس ناکارہ کی تحریر میں کوئی لفظ ان کی تحقیق کے خلاف ہے تو وہ لغو، ناقابلِ التفات اور مردود ہے۔
(مکاتبِ شیخ الحدیث: صفحہ 502، 503)
اور وہ بھی مشاجراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مسئلے میں، جو بابِ ایمان کا ایسا پلِ صراط ہے جو تلوار سے زیادہ تیز اور بال سے زیادہ باریک ہے جہاں سلفِ صالحین نے زبان و قلم دونوں کو لگام دینے کی وصیت کی ہے، کیونکہ اس باب میں افراط و تفریط اور غلو و تنقیص سے دامن بچانا نہایت مشکل ہے، اور ذرا سی کوتاہی سلبِ ایمان کا ذریعہ بن سکتی ہے خصوصاً حضرت امیرِ معاویہؓ کے بارے میں تو نہایت ہی احتیاط کی ضرورت ہے۔
سیدنا مجدد الف ثانیؒ (جنہیں مصنفِ نام و نسب نے امام ربانی جیسی علمی و روحانی شخصیت کے مدحیہ الفاظ سے ذکر کیا ہے۔ (نام و نسب: صفحہ646)
کی ایک جلالی وصیت ملاحظہ ہو:
اے برادر! معاویہ تنہا دریں معاملہ نیست، بلکہ نصفے از اصحابِ کرام کم و بیش دریں معاملہ باوے شریک اند پس محاربانِ امیر اگر کفرہ یا فسقہ باشند، اعتماد از شطرِ دین می خیزد کہ از راہِ تبلیغِ ایشان بما رسیده است، و تجویز نہ کند ایں معنیٰ را مگر زندیقی کہ مقصودش ابطالِ دین است۔
(مکتوباتِ امام ربانی: دفتر اول مکتوب251)
ترجمہ: اے بھائی! اس معاملے میں سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ تنہا نہیں ہیں، بلکہ تقریباً آدھے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ان کے ساتھ اس معاملے میں شریک ہیں پس اگر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ لڑنے والوں کو کافر یا فاسق کہا جائے گا تو پھر دین کے نصف حصے سے ایمان اٹھ جائے گا جو ان حضرات کی تبلیغی مساعی کی بدولت ہم تک پہنچا ہے اور اس بات کو وہی شخص جائز کہہ سکتا ہے جو زندیق ہو، جس کا مقصد ابطالِ دین ہے۔
سیدنا مجدد ثانیؒ کے اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ حضرت امیرِ معاویہؓ اور حضرت علی المرتضیٰؓ کے اختلاف کو اجتہادی نہ سمجھنا، بلکہ عنادی سمجھنا اور ان پر کفر یا فسق کا فتویٰ صادر کرنا زندقہ ہے، جس سے مقصود حمایتِ اہلِ بیتؓ نہیں بلکہ دینِ اسلام ہی میں الحاد و تشکیک پیدا کرنا ہے۔
اب ہم چند حوالہ جات بقیدِ جلد و صفحہ نقل کرتے ہیں جن میں اکابر علماء نے اس اختلاف کو اجتہادی اختلاف تسلیم کیا ہے۔