پانچواں نکتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری…

پانچواں نکتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری ایام میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے احوال و کیفیات و محسوسات

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

اگر اللہ عزوجل کی قضا و قدر پر اسلام نے صبر و رضا کا درس نہ دیا ہوتا تو پیچھے رہ جانے والوں کے لیے اپنے پیاروں کی جدائی کے لمحات کتنے شدید ہوتے اور انسانی جان کی برداشت سے کس طرح باہر ہوتے یہ بیان کرنے کی شاید ضرورت نہیں ہے۔

ذرا غور کریں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جو اپنی عمر فانی کے اٹھارویں سال میں تھیں، جب ان کے سرتاج اور ساری دنیا سے ان کو زیادہ محبوب سید الانبیاء اس دنیا سے رخصت ہوئے تو اس وقت ان پر کیا بیتی ہو گی؟

ابتدا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں معمولی سا درد ہوا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں گئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہائے میرا سر (درد سے پھٹا جا رہا ہے)۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بلکہ ہائے میرا سر (درد سے پھٹا جا رہا ہے)۔‘‘ 

(صحیح بخاری: 5666۔ صحیح مسلم: 2387)

اس دن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر درد شروع ہوا اور وہ مسلسل روز بروز بڑھتا گیا۔ اس سے پہلے کبھی کبھار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی ہلکا کبھی تیز سر درد ہوتا رہتا تھا۔ اس کے باوجود آپﷺ اپنی مقررہ باریوں پر اپنی ازواج کے گھروں میں جاتے رہتے۔ جونہی درد بڑھنا شروع ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھنے لگے کہ آج میں کہاں ہوں گا اور کل میں کہاں ہوں گا۔[2] دراصل آپ کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کی فکر ہوتی۔ چنانچہ آپﷺ نے اپنی ازواج مطہراتؓ سے اجازت لے لی کہ آپﷺ جہاں چاہیں رہیں۔ اس دن سے اپنی وفات تک آپﷺ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ہی رہے اور وہیں دفن کیے گئے۔ اس بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری بڑھنا شروع ہوئی اور آپﷺ کے سر درد میں اضافہ ہو گیا۔ تو آپﷺ نے اپنی ازواج سے اجازت طلب کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیمار داری کے لیے لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر آئیں، سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اجازت دے دی آپﷺ اپنی جس بیوی کے گھر میں تھے وہاں سے آپﷺ سیدنا عباس بن عبدالمطلب اور ایک اور آدمی کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اپنے (اس حدیث سے رافضیہ جو شبہات پیدا کرتے ہیں ان سب کا مفصل جواب کتاب میں آگے آ رہا ہے۔) قدم مبارک زمین پر گھسیٹتے ہوئے نکلے۔ راوی حدیث عبیداللہ کہتے ہیں: چنانچہ میں نے آ کر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو سیدہ عائشہ سے سنی ہوئی حدیث بیان کی تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تو جانتا ہے دوسرا آدمی کون ہے، جس کا نام عائشہ نے نہ لیا؟ بقول راوی میں نے کہا: نہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے۔

بقول راوی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب میرے گھر میں داخل ہوئے اور آپﷺ کا مرض زور پکڑ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میرے اوپر سات منہ بند مشکیزوں کا پانی بہاؤ تاکہ میں لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنے کے قابل ہو جاؤں۔ چنانچہ ہم نے آپﷺ کو ایک ٹب میں بٹھا دیا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا تھا۔ پھر ہم نے ان مشکیزوں سے آپ پر پانی بہانا شروع کر دیا حتیٰ کہ آپﷺ نے اشارہ کیا کہ تم نے میرے حکم کی تعمیل کر دی۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پھر آپﷺ لوگوں کی طرف گئے آپ نے انھیں نماز پڑھائی اور ان سے خطاب کیا۔

شاید بعض لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رغبت سے جو آپ کو اپنی مرض کے ایام سیدہ عائشہ کے گھر میں گزارنے سے تھی۔ یہ سمجھیں کہ آپﷺ کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے خصوصی محبت تھی ان کا یہ سمجھنا بالکل حق ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو جو بے شمار فضائل اور فطری خصوصیات عطا کی تھیں اور جو کمالات عقلیہ ان کو ہبہ کیے تھے اور مضبوط قوت حافظہ، فہم شناس، ذہانت و فطانت، بدیہی حاضر جوابی، معاملہ فہمی پر عبور اور اپنے تصورات ذہنیہ کا مکمل احاطہ و ادراک اور نصوص سے مسائل کو مستنبط و مستخرج کرنے کا خصوصی ملکہ اور اجتہاد کے لیے نادر و نایاب قوت جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کی تھی تو پھر اس میں تعجب کی کیا بات ہے؟!!

اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مرض کے ایام سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں گزارنا پسند کیا اور وہاں ٹھہرنے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے ترجیح دی تاکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپﷺ کی زندگی کے آخری لمحات میں امت کے لیے جو اقوال و افعال آپﷺ کی طرف سے صادر ہوں وہ محفوظ کر لے اور پوری امانت و دیانت کے ساتھ امت تک پہنچا دیں۔ جس میں کوئی شبہ نہیں اور جس کا پوری امت مسلمہ کو اعتراف ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیشتر اقوال و افعال سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حاصل کیے۔ خصوصاً آپﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں امت کی خیر خواہی کے جو ارشادات فرمائے اور آپﷺ کے محسوسات اور آخری لمحات کی کیفیات کو جس باریک بینی اور جس امانت و مہارت کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے صحابہ رضی اللہ عنہم اور کبار تابعین رحمہم اللہ تک پہنچائے وہ سعادت صرف انہی کے حصے میں آئی۔

(سیرۃ السیدۃ عائشۃ ام المؤمنین للندوی: صفحہ 151، 152)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مرض الموت میں فرماتے تھے۔ اے عائشہ! میں ابھی تک خیبر میں زہریلے کھانے کے زہر کی شدت محسوس کرتا ہوں۔ مجھے ایسے لگ رہا کہ میری رگِ جان کٹ رہی ہے۔‘‘

( صحیح بخاری: 4448)

صفحہ 1 از 3