عرب کے قیدیوں کی واپسی
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ حکومت میں سب سے پہلے جو قرار داد پاس کی وہ یہ تھی کہ مرتدین کے قیدیوں کو ان کے خاندان والوں کے پاس واپس کر دیا جائے۔ آپؓ نے فرمایا: ’’میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ قیدی بنانا عربوں میں رواج بن جائے۔‘‘
(نظام الحکم فی الشریعۃ والتاریخ الإسلامی: صفحہ 26 عہد راشدی کے اس طرز عمل سے یہ حقیقت آشکارا ہو جاتی ہے کہ خلیفہ کا انتخاب اصحاب حل و عقد اور امت کے باشعور افراد کا کام ہے، اور یہ باشعور طبقہ اس وقت مدینہ میں موجود تھا، اس لیے انہی کے انتخاب کا اعتبار کیا گیا اور پوری ملت اسلامیہ میں سے کسی نے اس سے اختلاف نہیں کیا، عوام الناس اور عام لوگوں کا یہ کام نہیں ہے بلکہ اصحاب حل و عقد نے جو پاس کر دیا ان پر اسے قبول کرنا لازم ہے، جمہوریت اور ڈیمو کریسی کا نظام انتخاب غیر معقول اور غیر اسلامی ہے۔ (مترجم)
حضرت عمرؓ کے اس جرأت مندانہ اقدام نے سارے عربوں میں یہ احساس بیدار کر دیا کہ وہ سب اللہ کی شریعت میں برابر ہیں۔ کسی قبیلہ کو دوسرے قبیلہ پر کوئی فضیلت نہیں ہے مگر یہ کہ بہتر کارکردگی ہو اور اسلام و مسلمانوں کی عظیم ترین خدمات انجام دی ہو۔ مزید برآں اس اقدام کے پیچھے ہی آپ نے دوسرا اقدام یہ کیا کہ مرتدین میں سے جس نے توبہ کر لی اور دشمنانِ اسلام کے خلاف محاذ آرائی میں شریک ہوگیا اسے آپ نے معاف کر دیا۔ اور پھر انہوں نے جنگ میں بہادری کا مظاہرہ کیا، مڈبھیڑ کے وقت خوب بہادری کے جوہر دکھلائے اور ملک کے لیے ایسی و فاداری کا ثبوت دیا جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔
(نظام الحکم فی الشریعۃ والتاریخ الإسلامی: صفحہ 26 یہاں یہ کہنا کہ عورتوں کی بیعت کی ممانعت کی کوئی دلیل مجھے نہیں ملی صحیح نہیں ہے کیونکہ رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے:
عَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَائِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَہْدِیِّیْنَ وَعَضُّوْا عَلَیْہَا بِالنَّوَاجِذِ۔
تم میری سنت اور ہدایت یاب خلفائے راشدینؓ کی سنت کو لازم پکڑو اور اسے مضبوطی کے ساتھ دانتوں سے تھام لو۔‘‘ پس خلفائے راشدینؓ کے عہد میں خواتین کو بیعتِ خلافت میں شریک نہ کیا گیا اور صحابہؓ میں سے کسی نے اس کے خلاف آواز نہ اٹھائی جس سے اس امر پر صحابہؓ کا اجماع و اتفاق ظاہر ہوتا ہے، لہٰذا خواتین کو بیعت اور ووٹ میں شریک کرنا خلفائے راشدینؓ کی سنت کی خلاف ورزی ہے جو کسی طرح جائز نہیں۔ (مترجم)
12۔ منصب خلافت کی جڑیں امت کے دل میں پیوست ہو گئیں اور وہ ان کے اتحاد و قوت کی علامت بن گئی۔ ایک محقق اس عظیم ایمانی طاقت و قوت کو ملاحظہ کرسکتا ہے جس سے صحابہ کرامؓ نوازے گئے تھے، اسی طرح ان کے اعمال میں روحانیت و حقیقت پسندی کا جائزہ بھی لے سکتا ہے کہ وفات رسول کے دن نہایت مختصر سی مدت میں انہوں نے خلافت قائم کر لی تھی، جو مختلف صورتوں میں دنیا کے مختلف خطوں میں کئی صدیوں تک جاری رہی، حالانکہ یہ بہت کمزور ہو چکی تھی، پھر بھی اسے ختم کرنے کے لیے برطانوی سازش کو پورے پچیس 25 سالوں کی ضرورت پڑی، باوجودیکہ اس وقت خلافت کو برطانوی سامراج ’’مرد بیمار‘‘ کہا کرتا تھا، غور کا مقام ہے کہ خلافت میں بلندی و قوت کا کیا راز تھا؟ اور اس کا کتنا اثر و رسوخ تھا جس کے ڈھانے کی ضرورت محسوس کی گئی، جب کہ خلافت کی کئی صدیاں گزر چکی تھیں؟ خاص طور پر اس وقت جب کہ خلافت صرف ظاہری شکل میں باقی تھی اور حقیقت سے دور ہو چلی تھی اس کو ڈھانے کے لیے مکمل پچیس 25 سال لگے۔