مولانا عبد الرحمٰن جامی رحمۃاللہ کا حوالہ - ردِ رافضیت |…

مولانا عبد الرحمٰن جامی رحمۃاللہ کا حوالہ

  محمد ظفر اقبال

مصنف نام و نسب نے اپنی بات کو مستند و محقق ثابت کرنے کے لیے مولانا جامیؒ (متوفی 898ھ) کا حوالہ پیش کیا ہے، لکھتے ہیں:  

ہم اپنے اس نقطہ نظر کی تائید میں اہلِ سنت والجماعت کی نامور اور معتبر شخصیات کی عبارات و نظریات پیش کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں 

مشہور عاشقِ رسولﷺ اور عارف حضرت مولانا عبد الرحمٰن جامی قدس سرہ السامی النقشبندی فرماتے ہیں:  

جمعے از بیعتش ابا کردند  

و اندر آں سرکشی خطا کردند  

ترجمہ: ایک جماعت نے حضرت علیؓ کی بیعت سے انکار کیا اور اس (جماعت) نے سرکشی میں خطاء کی۔

اپنی اسی تصنیف میں مولانا جامیؒ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:  

و آں خلافے کہ داشت با حیدر  

در خلافت صحابی دیگر  

حق در آنجا بدست حیدر بود  

جنگ با او خطائے منکر بود  

ترجمہ: اور وہ دوسرا صحابی جو بہ سلسلہ خلافت حضرت علیؓ سے اختلاف رکھتا تھا یعنی (سیدنا امیرِ معاویہؓ) اس وقت حق علی المرتضیٰؓ کی طرف تھا اور ان سے جنگ کرنا خطائے منکر تھا، یعنی ناپسندیدہ خطا تھی۔ 

(نام و نسب: صفحہ533)

الجواب:جمہور اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک سیدنا علیؓ و سیدنا امیرِ معاویہؓ کے اختلاف کی نوعیت اجتہادی ہے صفحاتِ گزشتہ میں اکابر علمائے اسلام کے حوالے سے یہ بات بالتفصیل لکھی جا چکی ہے۔ اب موصوف نے مولانا عبد الرحمٰن جامی رحمۃ اللہ کا حوالہ نقل کر کے حضرت امیرِ معاویہؓ اور ان کی ساری جماعت کو سرکش بنا دیا ہے، جس میں بقول حضرت مجدد الفِ ثانیؒ نصف صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شریک ہیں اور یہ بات وہی کہہ سکتا ہے جو زندیق ہو اور جس کا مقصد و منشا دین کو باطل ٹھہرانا ہو۔ 

(مکتوباتِ امام ربانی: دفتر اول مکتوب 251) 

تو کیا کوئی شخص حضرت امیرِ معاویہؓ اور ان کی جماعت (یعنی نصف صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) کو سرکش کہہ کر سُنی رہ سکتا ہے؟ رہی بات جامی کے ان اشعار کی، تو اس پر ہمیں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں، اس کی تردید میں حضرت مجدد الفِ ثانیؒ (متوفی 1034ھ) ہی کا بصیرت افروز تبصرہ ملاحظہ فرمائیے:

و خدمت مولانا عبد الرحمٰن الجامی کہ خطأ منکر گفتہ است نیز زیادہ کردہ است بر خطا ہر چہ زیادت کنند خطا است و آنچہ بعد ازاں گفتہ است کہ اگر او مستحق لعنت است الخ نیز نامناسب گفتہ است چہ جائے تردید است؟ و چہ محلِ اشتباہ؟ اگر ایں سخن در باب یزید می گفت گنجایش داشت اما در مادہ حضرت معاویہؓ گفتن شناعت دارد و در احادیث نبویﷺ باسناد ثقات آمدہ کہ حضرت پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام در حق معاویہ دعا کردہ و فرمودہ اند اللھم علمه الکتاب والحساب وقه العذاب و جائے دیگر در دعا فرمودہ اند اللھم اجعله ھادیاً مھديا و دعاء آنحضرت مقبول ظاہر ایں سخن از مولانا بر سبیل سہو و نسیان سرزدہ باشد و ایضاً مولانا در ہمان ابیات تصریح باسم نای کردہ گفتہ است آن صحابی دیگر ایں عبارت نیز از ناخوشی خبر میدہد رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذۡنَاۤ اِنۡ نَّسِيۡنَاۤ اَوۡ اَخۡطَاۡنَا

(مکتوباتِ امام ربانی: دفتر اول مکتوب 251)

ترجمہ: مولانا عبد الرحمٰن جامیؒ نے حضرت امیرِ معاویہؓ کے بارے میں خطائے اجتہادی کو خطائے منکر کہہ کر زیادتی کی ہے خطاء پر جو زیادتی کی جائے گی، خطا ہو گی پھر اس کے بعد جو مولانا جامیؒ نے کہا ہے: اگر وہ مستحقِ لعنت ہے۔ الخ یہ بات بھی نامناسب کہی ہے یہ تردید کا کون سا مقام تھا؟ اور اس میں اشتباہ کا کون سا محل تھا؟ اگر یہ بات یزید کے حق میں کہی جاتی تو البتہ گنجائش تھی، لیکن سیدنا امیرِ معاویہؓ کے بارے میں ایسا کہنا نہایت گھناؤنی بات ہے حدیثِ نبویﷺ میں ثقہ راویوں کی سند سے آیا ہے کہ آنحضرتﷺ نے حضرت امیرِ معاویہؓ کے حق میں یہ دعا فرمائی: اے اللہ! معاویہ کو کتاب و حساب کا علم عطا فرما اور عذاب سے بچا۔ دوسرے موقع پر یہ دعا فرمائی: اے اللہ! اسے ہادی و مہدی بنا دے۔ 

اور آنحضرتﷺ کی دعا مقبول و منظور ہے ان تمام باتوں کی موجودگی میں معلوم ہوتا ہے کہ مولانا جامیؒ سے یہ قول سہو و نسیان کی بدولت نکل گیا ہے نیز ان اشعار میں مولانا جامیؒ نے نام کی تصریح نہیں کی، بلکہ یہ کہا ہے: اے دوسرے صحابی اس عبارت سے بھی (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) سے ناخوشی کی بو آتی ہے، اس لیے ہم یہی دعا کرتے ہیں: اے اللہ ہماری خطاء و نسیان پر مواخذہ نہ فرما۔ (آمین بجاہ سید المرسلینﷺ)