عبیداللہ بن زیاد کو اس کے کیے کی سزا دنیا میں کس طرح ملی
مولانا اقبال رنگونیسیدنا حسینؓ کے ساتھ جن ظالموں نے زیاتی کی اس کا سرغنہ عبیداللہ بن زیاد تھا اس نے جب آپؓ کے دانتوں سے گستاخانہ سلوک کیا تو حضرت زید بن ارقمؓ (یا حضرت انسؓ) نے اسے سختی سے ڈانٹا اور کہا کہ ان کے لب مبارک سے چھڑی ہٹا لو میں نے حضورﷺ کو بارہا ان لبوں کا بوسہ لیتے ہوئے دیکھا ہے۔
وَرَأْسُ الحَسْنَیْنِ حُمِلَ اِلَی قُدَّامِ عبیداللہ بن زِیَادِ وَھُوَ الَّذِیْ ضَرَبَهُ بالْقُضَیْبِ علَی ثنَایاہٗ وَھُوَ الَّذِیْ ثَبَتَ فِی الصَّحیْحِ(منہاج: جلد 8 صفحہ 140، جلد 4 صفحہ 577)
ایک دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ابن زیاد نے یہ شرمناک کام کیا اور ساتھ ہی آپؓ کے چہرے مبارک کی خوبصورتی کے بارے میں کچھ کہا تو حضرت انسؓ نے فوراً کہا کہ ان کا چہرہ حضور اکرمﷺ سے کتنی مشابہت رکھتا ہے (اور تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم یہ حرکت کر رہے ہو) ابن زیاد کی اس گستاخی کی سزا اسے اللہ نے دنیا میں دے دی وہ اور اس کے ساتھی ابراہیم بن مالک اشتر کے ہاتھوں (66ھ) موصل میں قتل کیے گئے۔
عمارہ بن عمیر کہتے ہیں:
جب ابن زیاد اور اس کے ساتھیوں کا سر لایا گیا اور ان سب کو مسجد کے ایک صحن میں ساتھ ساتھ رکھا گیا تو میں وہاں گیا، اس وقت وہاں موجود لوگ کہہ رہے تھے کہ آگیا، آگیا، اچانک ہم کیا دیکھتے ہیں کہ ایک سانپ نکلا اور وہ ان کے سروں کے درمیان سے نکلتا ہوا ابن زیاد کے نتھوں میں داخل ہوگیا تھوڑی دیر بعد وہ نکلا پھر کہیں اور غائب ہو گیا تھوڑی دیر بعد لوگوں نے پھر کہا، وہ آیا، وہ آیا چنانچہ دو تین مرتبہ اس طرح سانپ آتا اور جاتا رہا۔
حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ (1403ھ) لکھتے ہیں:
یہ درحقیقت چاہ کندرا چاہ درپیش کی کھلی مثال ہے یعنی اگر اس نے سیدنا حسینؓ کے سر کی بے حرمتی اپنی چھڑی سے کی تو خدا نے اس کے سر کی بے حرمتی اس جانور کے ذریعے سے کرائی جو حدیث کی نص سے قبروں میں معذبین پر مسلط کیا جاتا ہے بندوں کی بے حرمتی سے خدا کا کسی کی بے حرمتی فرمانا کہیں زیادہ اشد ہے العیاذباللہ تعالیٰ۔
(شہید کربلا: صفحہ 133)
عبیداللہ بن زیاد نے جس طرح سیدنا حسینؓ کا سر مبارک اپنے سامنے رکھا تھا تو اس کے سر کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا اور جیسا کرو گے ویسا بھرو گے کا یہ عبرتناک منظر بھی دنیا نے دیکھا تھا۔
عبدالملک بن عمیر کا بیان ہے کہ:
میں عبیداللہ بن زیاد کے دربار میں گیا تو دیکھا کہ اس کے سامنے سیدنا حسینؓ کا سر ایک طشتری میں رکھا ہوا ہے۔ اللہ کی قسم پھر کچھ عرصہ نہ گزرا تھا کہ میں مختار بن عبیداللہ ثقفی کے دربار میں گیا تو میں نے عبیداللہ بن زیاد کا سر ایک طشت میں اس کے سامنے رکھا ہوا دیکھا۔ پھر ایک وہ وقت آیا کہ میں نے مصعب بن عمیر کے دربار میں مختار کا سر سامنے رکھا ہوا دیکھا اور بخدا اس پر بھی کچھ عرصہ نہ گذرا تھا کہ میں نے ایک طشتری میں مصعب کا سر عبدالملک بن مروان کے سامنے رکھا ہوا دیکھا ۔
(البدایہ: جلد 8، صفحہ 194)
