روافض کا غلو - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

روافض کا غلو

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 3

روافض کا غلو

روافض نے انبیاء کرام علیہم السلام اور ائمہ کی شان میں اس حد تک مبالغہ آمیزی کا مظاہرہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر انھیں رب بنا لیا۔اور اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کو ترک کردیا جس کا حکم انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا۔انبیاء علیہم السلام کی توبہ و استغفار کے ضمن میں جو نصوص وارد ہوئی تھیں ان کی تکذیب کرنے لگے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ مساجد میں جمعہ و جماعت کا نام نہیں حالانکہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا کہ انہیں بلند کیا جائے ‘ اور اللہ کے ذکر سے آباد کیا جائے ۔ ان کے ہاں ان مساجد کی کوئی توقیر و حرمت نہیں ۔اگر مسجدوں میں نماز پڑہتے بھی ہیں تو اکیلے اکیلے پڑھتے ہیں ۔ مگر قبروں پر [قبے ومزارات] بنا کر مقابر کی تعظیم و تکریم میں پیش پیش نظر آتے ہیں ۔مشرکین کی مشابہت میں ان پر اعتکاف بیٹھتے اور ان کا حج کرنے کے لیے ایسے ہی جاتے ہیں جیسا کہ بیت اللہ کا حج کرنے کے لیے سفر کیا جاتاہے۔ اس کی حد یہ ہے کہ بعض شیعہ ان زیارتوں کو حج بیت اللہ کے مقابلہ میں ترجیح دیتے ہیں ۔ان میں ایسے بھی ہیں جو بیت اللہ کے حج کیساتھ ان مقابر کے حج سے مستغنی ہوتا ہے ؛ اسے گالیاں دیتے اور برا بھلا کہتے ہیں ۔ اور ایسے ہی نماز باجماعت اور جمعہ کے ساتھ ان کا معاملہ ہے ۔ یہ لوگ بالکل عیسائیوں کی طرح ہیں جو اللہ کی بندگی پر بتوں کی پوجا کو ترجیح دیتے ہیں ۔ [جب کہ ]رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کایہ ارشاد گرامی صحیح احادیث میں ثابت ہے؛ آپ نے فرمایا:

’’ اللہ یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے انھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔‘‘آپ انکے فعل سے ڈراتے تھے ۔ [صحیح بخاری کتاب الصلاۃ، باب (۵۵) (ح:۴۳۵۔۴۳۶) صحیح مسلم۔ کتاب المساجد۔ باب النھی عن المسجد علی القبور (ح:۵۲۹،۵۳۱)]

نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات سے پانچ روز قبل ارشاد فرمایا:

’’ آگاہ ہوجاؤ ! جولوگ تم سے پہلے ہوا کرتے تھے ‘ وہ انبیاء کرام علیہم السلام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا کرتے تھے؛ تم ہر گزقبروں کو مسجدیں نہ بنانا ‘ میں تمہیں اس چیز سے منع کرتا ہوں ۔‘‘

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا :

’’وہ بدترین لوگ ہوں گے جن کی زندگی میں قیامت آئے گی اور جو لوگ قبروں کو مسجدیں بناتے ہوں گے۔‘‘[صحیح ابن حبان(۲۳۱۹)، مسند احمد(۱؍۴۰۵)]

یہ روایات امام احمد اور محدث ابن حبان نے اپنی صحیح میں ذکر کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید ارشاد فرمایا:

(( اَللّٰہُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِیْ وَثْنًا یُّعْبَدُ؛ اِشْتَدَّ غَضْبُ اللّٰہِ عَلٰی قَوْمٍ اِتَّخَذُوْا قُبُوْرَ اَنْبِیَائِہِمْ مَسَاجِدَ۔)) [موطا امام مالک(۱؍۱۷۲) کتاب قصر الصلاۃ فی السفر ح:۸۵، بدون السند، مسند احمد(۲؍۲۴۶)]

’’اے اللہ میری قبر کو بت نہ بنانا جس کی عبادت کی جائے اس قوم پر اللہ کا شدید غضب نازل ہوا جنھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔‘‘

شیعہ کے مشہور عالم شیخ المفید۔جو کہ موسوی اور طوسی کا شیخ ہے۔ نے ’’حج المشاہد‘‘ کے نام سے ایک کتاب تحریر کی ہے جس میں مخلوقات کی قبروں کی زیارت کو اس حج بیت اللہ سے تعبیر کیا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے جائے قیام قرار دیا ہے ۔ [ اکابر شیعہ نے شیخ المفید کی کتاب کے علاوہ بھی متعدد کتب مقامات مقدسہ کی زیارت پر لکھی ہیں اور عوام کے یہاں اسی طرح مقبول و متداول ہیں جیسے قرآن کریم۔ شیعہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے کہ مقامات مقدسہ کو مکہ مکرمہ۔ خانہ کعبہ اورسات آسمانوں کے مقابلہ میں افضل قرار دیا جائے۔ میں نے ایک مرتبہ فارسی زبان کے ایرانی رسالہ’’پرچم اسلام‘‘ مجریہ ۱۰؍محرم۱۳۶۶ھ بروز جمعرات میں حسب ذیل عربی اشعار اوران کا فارسی ترجمہ دیکھا تھا۔ اس رسالہ کا ایڈیٹر عبدالکریم فقیہی شیرازی ہے؛ شعر یہ ہیں : ہِیَ الطَّفُوْفُ فَطُفْ سَبْعًا بِمَعْنَاہَا فَمَا لِمَکَّۃَ مَعْنًی مِّثْلَ مَعْنَاہَا اَرْضٌ وَلٰکِنَّمَا السَّبْعُ الشِّدَادُ لَہَا دَانَتْ وَطَاْطَاَ اَعْلَاہَا لِاَدْنَاہَا (یہ اشعار اور ان کا ترجمہ پہلے گزر چکا ہے۔) الطفوف طف کی جمع ہے یہ ارض کربلا کا نام ہے۔ اس میں ایک فرضی قبر ہے جس کی تزئین و آرائش پر شیعہ نے کروڑوں روپیہ صرف کیا اور یہ کہہ کر اپنے لیے تسکین و اطمینان کا سامان بہم پہنچایا ہے کہ یہ نبیرۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی قبر ہے یہ شاعر ان کفریات کے سامع و قاری کو اس فرضی قبر پر سات مرتبہ طواف کرنے کا حکم دیتا ہے اور بتاکید کہتا ہے کہ جو فضیلت ان کی تعمیر کردہ فرضی قبر کی بناء پر اس کربلا کو حاصل ہے وہ سرزمین مکہ کو خانہ کعبہ کی وجہ سے کہاں نصیب! پھر یہاں تک کہتا ہے کہ اس کی نشیب ترین زمین کے سامنے سات آسمانوں کی بلند ترین جگہ سجدہ ریز ہے۔غالباً اس کا اشارہ عرش اعظم کی جانب ہے۔ رسالہ کے ایڈیٹر عبد الکریم شیرازی کو یہ خطرہ دامن گیر تھا کہ شائد اس کے عام قارئین ان کفریہ اشعار کو سمجھنے پر قادر نہ ہوں اس لیے اس نے بکمال امانت و دیانت فارسی زبان میں اشعار کا ترجمہ کردیا۔ شیعہ کے علماء آج تک اپنے ائمہ کی قبروں کی زیارت کو حج سے زیادہ افضل قرار دیتے ہیں ۔ اور یہ سارا مواد اس دور میں نٹ پر خود شیعہ علماء کی زبانی تحریری اور تقریری ہر دو صورتوں میں مل سکتا ہے۔ آج بھی شیعہ کہتے ہیں : عرفہ کے دن اللہ تعالیٰ خود عرغات میں اپنے مہمانوں کو ایسے چھوڑ کر حضرت حسین کی قبر کی زیارت کے لیے آتے ہیں ؛ اور زائرین قبر حسین کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کردیتے ہیں ۔]

بیت اللہ ہی وہ سب سے پھلا گھر ہے جسے اللہ کی عبادت کے لیے تعمیر کیا گیا۔ پس اس کے علاوہ کسی اور گھر کا طواف نہیں کیا جاسکتا؛ اور صرف اس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی جائے گی؛ اور صرف بیت اللہ کے حج کا حکم دیا جائے گا۔

صفحہ 1 از 3