غیر نسبی روابط - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

غیر نسبی روابط

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 1 از 2

1: حضرت عثمان اموی رضی اللہ عنہ کاتبِ وحی تھے۔  

2: سیدنا عثمان اموی رضی اللہ عنہ خلیفہ راشد تھے۔  

3: حضرت عثمان اموی رضی اللہ عنہ کی بدولت چودہ سو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اللہ کی رضا کی سند ملی۔  

4: حضرت عثمان اموی رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا بنتِ رسول اللہﷺ کی علالت کے باعث غزوۂ بدر میں شریک نہ ہو سکے، مگر آپﷺ نے ان کو بدریوں میں شمار فرمایا اور غنائم میں سے حصہ عطا کیا۔  

(بخاری: جلد1 صفحہ522 مناقب عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ، الاستیعاب: جلد 3 صفحہ156 حرف العین تحت ذکر عثمان بن عفانؓ، اسد الغابہ: جلد 3 صفحہ 207 تحت عثمان بن عفانؓ)  

5: غزوۂ تبوک کے موقع پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جیشِ عسرہ کی تیاری کے لیے سرکارِ دو عالمﷺ کی خدمت میں زرِ کثیر پیش کیا تو آپﷺ نے فرمایا:  

ما ضر عثمان ما عمل بعد ھذا الیوم  

(مستدرک حاکم: جلد3 صفحہ102 کتاب معرفۃ الصحابہؓ)  

آج کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو کوئی کام نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔  

6: حدیبیہ کے موقع پر سرورِ دو عالمﷺ نے حضرت عثمانؓ کو اپنا سفیر بنا کر مکہ روانہ فرمایا۔  

(بخاری: جلد 1 صفحہ523 باب مناقب عثمان بن عفانؓ، مشکوٰۃ: صفحہ542 کتاب الفتن تحت مناقب عثمان بن عفانؓ)  

7: اسی موقع پر آپﷺ نے اپنے دائیں دستِ مبارک کو حضرت عثمانؓ کا ہاتھ قرار دیا۔  (ایضاً)  

8: فتح مکہ کے موقع پر آنحضرتﷺ نے سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ کے گھر کو دار الامن قرار دیا۔  

(مسلم: جلد 2 صفحہ102 باب فتح مکہ)  

9: غزوۂ حنین میں جب کفار کے قیدیوں کو زیرِ حراست رکھنے کی ضرورت پیش آئی تو آنحضرتﷺ نے اس کا نگران حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کو بنایا۔  

(المصنف لعبد الرزاق: جلد5 صفحہ 381 تحت وقعۃ حنین)  

10: علاقہ نجران جب فتح ہوا تو آنحضرتﷺ نے اس کے صدقات پر حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کو عامل اور امیر مقرر فرمایا۔  

(سنن الدار قطنی: جلد2 صفحہ14 روایت نمبر 46، تحت کتاب الطلاق)  

11: قبیلہ بنی ثقیف کے اسلام لانے پر ان کے بت کو پاش پاش کرنے کے لیے آپﷺ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہما کا انتخاب فرمایا۔  

(البدایہ والنہایہ: جلد 5 صفحہ30، 33 تحت قدوم وفد ثقیف علی رسول اللہﷺ)  

12: سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کاتبِ وحی ہیں۔  

(جوامع السیرۃ: صفحہ26 تحت کتابہ)  

13: آنحضرتﷺ نے حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو علاقہ تیماء کا امیر مقرر فرمایا۔  

(المحبر: صفحہ 126 تحت امراء رسول اللہﷺ)  

14: آنحضرتﷺ نے سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو قبیلہ بنی فراس کے صدقات پر عامل مقرر فرمایا۔  

(الاصابہ: جلد6 صفحہ 516 تحت یزید بن ابی سفیانؓ)  

15: آنحضرتﷺ کے ملاقاتی اور مہمان سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے گھر ٹھہرتے تھے۔  

(طبقات ابنِ سعد: جلد7 صفحہ 149 تحت بانی الہمدانی)  

16: حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کاتبِ وحی تھے۔  

(جوامع السیرۃ: صفحہ 27 تحت کتابہ)  

17: حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو آنحضرتﷺ نے قطعہ اراضی کی تعیین پر روانہ فرمایا۔  

(التاریخ الکبیر للبخاری: جلد2 صفحہ 75 قسم الثانی، تحت باب وائل بن حجر)  

18: آنحضرتﷺ کے قص شعر یعنی بال مبارک تراشنے کی سعادت حضرت امیرِ معاویہؓ کو حاصل ہوئی۔  

19: آنحضرتﷺ نے حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کو مکہ پر حاکم بنایا۔  

20: حضرت خالد بن سعید اموی رضی اللہ عنہ کو عہدِ نبویﷺ میں بنی مذحج کے صدقات پر اور صنعاء و یمن پر حاکم و عامل بنایا۔  

21: حضرت ابان بن سعید بن العاص اموی رضی اللہ عنہ کو آنحضرتﷺ نے پہلے سرایا پر عامل بنایا، پھر بحرین کا۔  

(منہاج السنہ: جلد3 صفحہ175، 176 فصل قال الرافضی: و اما عثمان فانہ ولی امور المسلمین من لا یصلح الولایہ)  

22: عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کو طائف اور اس کے ملحقات کا عامل بنایا۔  

(تہذیب التہذیب: جلد5 صفحہ 491 تحت عثمان بن ابی العاص الثقفی)

سرِ دست ان بائیس حوالہ جات پر اکتفا کرتا ہوں اور مصنف نام و نسب کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جو قبیلہ مکروہ و مبغوض اور قابلِ نفرت تھا اس کو یہ مناصب کیوں عطا کیے گئے؟ ہم نے تطویل کے خوف سے دورِ صدیقی اور دورِ فاروقی کے مناصب کو چھوڑ دیا ہے۔ حافظ ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:  

وکان بنو امیہ اکثر القبائل عمالاً للنبیﷺ 

(منہاج السنہ: جلد2 صفحہ145 فصل قال الرافضی: الوجہ الخامس فی بیان وجوب اتباع مذہب الامامیہ)  

نبیﷺ کے مقرر کردہ عاملین میں دوسرے خاندانوں کی نسبت بنو امیہ کے لوگوں کی کثرت تھی۔

قاضی ابو بکر بن العربی رحمۃ اللہ لکھتے ہیں:  

وعجباً لاستکبار الناس ولایۃ بنی امیہ، و اول من عقدهم الولایۃ رسول اللہﷺ  

(العواصم من القواصم: صفحہ 234 تحت النبیﷺ اول من عقد الولایۃ بنی امیہ)  

تعجب ہے کہ لوگ بنو امیہ کی حکومت و اقتدار سے ناک بھوں چڑھاتے ہیں، حالانکہ جس ذاتِ گرامی قدر نے انہیں سب سے اول حکومت پر متعین فرمایا وہ رسول اللہﷺ کی ذات ہے۔

حافظ ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ ایک مقام پر مزید لکھتے ہیں:  

ان بنی امیہ کان رسول اللہﷺ یستعملھم فی حیاتہ، واستعملھم من بعدہ من لا یتھم بقرابۃ فیہم ابوبکر الصدیق و عمر  

(منہاج السنہ: جلد3 صفحہ175 فصل قال الرافضی: و اما عثمان فانہ ولی امور المسلمین من لا تصلح الولایہ)  

آنحضرتﷺ نے اپنی حیاتِ طیبہ میں بنو امیہ کو عامل بنایا، پھر آپﷺ کے بعد سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے بنو امیہ کو اعلیٰ مناصب پر فائز فرمایا اور یہ حضرات بنو امیہ کی قرابت سے متہم نہ تھے۔

معروف ندوی مؤرخ حضرت مولانا شاہ معین الدین صاحب ندوی مرحوم بنو امیہ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:  

صفحہ 1 از 2