سیدنا حسینؓ کی تعظیم و توقیر ہر صورت میں واجب ہے - دفاعِ…

سیدنا حسینؓ کی تعظیم و توقیر ہر صورت میں واجب ہے

  مولانا اقبال رنگونی

حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب قاسمیؒ لکھتے ہیں:

سیدنا حسینؓ صحابی ہیں اور بلاشبہ صحابی ہیں اور صاحبِ روایت صحابی ہیں اور اہلِ بیت صحابی ہیں تو بلا شبہ وہ تمام آثار اور لوازم صحابیات اور تمام حقوق ان کے لیے ماننے پڑیں گے جو کتاب و سنت نے مقامِ صحابیت کے لیے ثابت کیے ہیں اور ہمیں تاریخی طور پر نہیں بلکہ بطور عقیدہ کے اس پر ایمان لانا پڑے گا کہ سیدنا حسینؓ بوجہ صحابی ہونے کے متقن عدول پاک باطن صاف ظاہر محبت جاہ و جلال سے بری ہوس و اقتدار سے بالا تر اور تمام ان رزائل نفس سے پاک تھے جو ان مقدسین سے بنص قرآن و سنت دھو دیے گئے ہیں۔

پھر سیدنا حسینؓ نہ صرف صحابی رسولﷺ ہیں بلکہ قرابتِ رسولﷺ کی خصوصیت سے بھی مالا مال ہیں جو اہلِ بیت کا مخصوص حصہ تھا اور اس کی بناء پر ان کی قلبی تطہیر اور رجس و نجس باطن سے پاکی اور بھی زیادہ مؤکد ہو جاتی ہے اور قلبی تطہیر کا کم سے کم درجہ یہ ہے کہ قلب دنیاوی رزائل حب جاہ و مال اور ہوس و اقتدار اور ریاست سے بری ہو جائے اور آدمی عبدالدینار اور عبدالدرہم نہ رہے اس لیے سیدنا حسینؓ کے صحابی ہونے کی علاوہ اہلِ بیت میں سے ہونے کی وجہ سے بھی بلاشبہ ان رزائل سے قلب پاک اور بری مانا جانا بطور عقیدہ کے ضروری ہے۔

(شہید کربلا: صفحہ 78)

اس لیے سیدنا حسینؓ کی توقیر و تعظیم واجب ان کے حق میں بدگوئی حرام، ان سے حسنِ ظن اور ان پر اعتماد و ثقہ لازم ان سے رضا بلا تخصص و استثناء بوجہ رضائے الٰہی و رضائے نبوی کے ضروری ہے ان کی بدگوئی کرنا یا ان پر زبان و طعن و ملامت کرنا یا ان پر نکتہ چینی کرنا ممنوع شرعی ٹھہرا کہ یہی اہلِ سنت والجماعت کا مذہب ہے جس پر قدیماً و حدیثاً، علماء، عرفاء، فقہاء و محدثین اور صوفیاء توارث کے ساتھ جمے چلے آرہے ہیں اور اسی کو قرآن و حدیث کی رو سے اپنا قطعی عقیدہ جانتے ہیں۔

(ایضاً صفحہ 62)

حضرت حکیم الاسلام قدس سرہ آگے چل کر لکھتے ہیں:

سیدنا حسینؓ کے جزو رسول ہونے کی وجہ سے انہیں اخلاق نبوت سے جو خلقی اور فطری مناسبت ہو سکتی ہے وہ یقیناً دوسروں کے لحاظ سے قدرتاً امتیازی شان لیے ہوئے ہونی چاہیے اور اس مناسبت کے معیار سے اگر دوسروں کی رسائی بڑے بڑے مجاہدات و ریاضات اور مدتوں کی صحبت و معیت کے بعد ممکن تھی تو اہلِ بیت بالخصوص حضراتِ حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے لیے وہ اس خلقی مناسبت کے سبب زیادہ مجاہد اور طول صحبت کی متقاضی نہ تھی پھر اور لوگ تو بیرونی مجالس اور مجامع ہی میں اللہ کے رسولﷺ کی صحبت سے فائدہ اٹھا سکتے تھے لیکن ان اہلِ بیت کو اندرون خانہ بھی یہ دولت نصیب تھی اس لیے نبوت کے اخلاقی رنگ سے جس قدر وہ ہم آہنگ ہو سکتے تھے دوسروں کے لیے اتنے مواقع نہ تھے اس لیے بحیثیت اہلِ بیت نبوی ہونے کے حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے بارے میں فضائل و مناقب کی روایات بکثرت وارد ہوئی ہیں کہیں ان کو (سیدالشباب اہل الجنۃ)فرمایا گیا، کہیں ان کو حضور اکرمﷺ اپنا محبوب ظاہر فرما کر اللہ سے درخواست کی کہ آپ بھی انہیں اپنا محبوب بنا لیں، کہیں ان سے حضورﷺ نے اپنی محبت کا برسرِ ممبر اعلان فرما کر دعا مانگی کہ یا اللہ جو بھی اس سے محبت کرے تو بھی اس سے محبت فرما یعنی محب حسین کو محب خداوندی ہونے کی دعا اور بشارت دی، نیز وہ حضور اکرمﷺ کی افضل بنات سیدہ فاطمۃ الزہراءؓ کے جگر گوشہ ہیں اس لیے ان کی محبوبیت یوں بھی دوہری ہو جاتی ہے اور اس لیے ان پر طعنہ زنی اور اتہام تراشی کرنے والا صرف سیدنا حسینؓ کو ہی ستانے والا نہیں بلکہ سیدہ فاطمہؓ کو ایذا پہنچا رہا ہے جو انجام کار اللہ کے رسولﷺ کو ایذا رسانی ہے جیسا کہ اِنَّما فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ منِّی فمَنْ اذَاھا فقَدْ اذَانِی (فاطمہ میرا جگر گوشہ ہے جس نے اسے ستایا اس نے مجھے ستایا) سے ظاہر ہے۔

پس جب کہ سیدنا حسینؓ کے شرف صحبت صحابیت قرب و قرابت اور حضور اکرمﷺ سے صورتاً و سیرتاً اشبہیت کی وجہ سے اور بھی حقوق بڑھ جاتے ہیں تو ان کی ذات گرامی پر مخلصانہ اعتناد و اعتماد بھی زیادہ واجب اور ضروری ہوجاتا ہے۔(ایضاً صفحہ 79)

آپ لکھتے ہیں: 

سیدنا حسینؓ کی پوری زندگی محبت نبویﷺ کی وجہ سے غیرت و حمیت سے معمور ہے جس سے اخذ حقوق اور دفع مظالم کے افعال کا ظہور ہوا حتیٰ کے اسی دفع مظالم اور رد منکرات کے کاموں میں اپنی جان پاک بھی جان آفرین کو دے کر شہادتِ عظمیٰ کے مقام پر جا پہنچے۔(ایضاً صفحہ 124)