فصل:....خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطاب کا مستحق…

فصل:....خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطاب کا مستحق کون ؟

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 8

فصل:....خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطاب کا مستحق کون ؟

[رافضی کا کہنا ہے کہ اہل سنت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہء رسول کہتے ہیں ؛ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں اور بعد از وفات آپ کو اپنا خلیفہ (نائب و قائم مقام) مقرر نہیں کیا تھا]

[اعتراض]: رافضی مضمون نگار لکھتا ہے: اہل سنت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ رسول کہتے ہیں ، حالانکہ آپ نے اپنی زندگی میں بعد از وفات آپ کو اپنا خلیفہ (نائب و قائم مقام) مقرر نہیں کیا تھا۔ اس کے برعکس اہل سنت حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ رسول نہیں کہتے ۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کئی بار اپنی عدم موجودگی میں مدینہ کا حاکم مقرر کیا تھا ۔ایسے ہی غزوہ تبوک کے موقع پر بھی آپ مدینہ میں خلیفہ بنے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر فرمایا تھا:’’ میرے اور آپ کے سوا کوئی شخص حاکم مدینہ بننے کا اہل نہیں ہے۔کیا آپ کو یہ بات پسند نہیں کہ آپ کو مجھ سے وہی نسبت ہو جو ہارون کو موسیٰ علیہ السلام سے تھی؛ سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔‘‘نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو سالار لشکر مقرر فرمایا؛ اس لشکر میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ تاہم اہل سنت حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ کے لقب سے یاد نہیں کرتے۔ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ مسند خلافت پر فائز ہوئے تو اسامہ رضی اللہ عنہ نے بگڑ کر کہا : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آپ پر امیر بنایا تھا۔ بتائیے ! آپ کو کس نے میرا حاکم بنایا؟ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما دونوں پاپیادہ اسامہ رضی اللہ عنہ کے یہاں پہنچے اور ان کو راضی کیا۔اور آپ دونوں حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو تاحیات امیر کہتے رہے ۔‘‘[انتہی کلام الرافضی]

[جواب]

خلیفہ کی تعریف:

اس کا جواب یہ ہے کہ خلیفہ کا لفظ دو معنوں پر بولا جاتا ہے:

۱۔ جو کسی کا قائم مقام ہو، اس کو خلیفہ کہتے ہیں ،بھلے اسے پہلے نے اپنے بعد خلیفہ نہ بھی مقرر کیاہو۔ جیسا کہ لغت میں معروف ہے۔یہ جمہور کا قول ہے۔

۲۔ اس کا دوسرا معنی : خلیفہ وہ ہے جس کو کوئی شخص اپنا نائب مقرر کرے۔ یہ روافض اور بعض ظاہریہ کا مسلک و مذہب ہے۔[محدث ابن حزم اپنی کتاب ’’ الامامۃ والمفاضلۃ‘‘ میں جو ان کی شہرہ آفاق تصنیف کتاب الفِصل کی جلد چہارم میں شامل ہے۔ صفحہ:۱۰۷ ،پر رقم طراز ہیں :’’ اﷲ تعالیٰ نے جن لوگوں کے صادق القول ہونے کی شہادت دی ہے اور ان کے ساتھ ساتھ ان کے انصاری بھائی اس امر میں متفق اللسان ہیں کہ سیدنا ابوبکر خلیفۂ رسول تھے۔ اور کسی شخص کا خلیفہ(قائم مقام) وہ ہوتا ہے جس کو وہ خود اپنا نائب مقرر کرے نہ وہ جو کہ از خود کسی کا قائم مقام بن جائے۔]

پہلے معنی کی بناء پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے، کیوں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ ان کے قائم مقام ہوئے اور آپ دوسروں کی نسبت اس منصب کے لیے موزوں تر تھے۔ لہٰذا آپ خلیفہ قرار پائے اور دوسرا کوئی شخص یہ مقام حاصل نہ کر سکا۔ شیعہ اور دیگر فرقوں میں سے کوئی بھی اس مسلمہ صداقت کا منکر نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ قرار پائے تھے آپ نماز پڑھاتے۔[سیدنا علی رضی اللہ عنہ دیگر لوگوں کی طرح سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز پڑھا کرتے تھے۔] شرعی حدود قائم کرتے اور صلح کی بنا پر حاصل کردہ مال مسلمانوں میں تقسیم کیا کرتے تھے۔علاوہ ازیں آپ کفار سے جہاد کرتے،عمّال و امراء مقرر کرتے اور دیگر سیاسی امور انجام دیا کرتے تھے۔ 

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بالاتفاق حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ یہ جملہ امور انجام دیا کرتے تھے۔ لہٰذا بلا نزاع آپ خلیفہ رسول تھے اور اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔[خلافت صدیقی میں جو مال بنا بر مصالحت بلاقتال و جدال بیت المال میں آیا تھا اس میں سے بنی حنیفہ کے قبیلہ کی ایک لونڈی بھی تھی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے شرعی حکم کے مطابق حق ملکیت حاصل کرکے اسے اپنی لونڈی بنا لیا اور اس کے بطن سے ایک عالم باعمل اور صالح بیٹا محمد بن علی بن ابی طالب تولّد ہوا جو بعد میں محمد بن حنفیہ کے نام سے مشہور ہوا۔ اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی رائے میں سیدنا ابوبکر کی خلافت غیر شرعی ہوتی تو وہ لونڈی کو اپنے لیے حلال نہ سمجھتے۔ حرام و حلال عورتوں کے مابین فرق و امتیاز ایک طے شدہ بات ہے، جس میں کسی کا اختلاف نہیں ۔ ایک مشہور ترین شیعہ عالم سید عبد اﷲ بن حسن سُویدی نے ماہ شوال ۱۱۵۶ھ میں جب اکابر علماء شیعہ کی موجودگی میں اس سے احتجاج کیا تھا تو سب خاموش ہو گئے اور کوئی بھی جواب نہ دے سکا۔(دیکھیے۔ رسالہ مؤتمر النجف،ص:۳۱۔۳۲) اگر شیعہ حق کے طالب ہوتے اور فتنہ پردازی ان کا مقصد نہ ہوتا تو مذکورہ دلیل اور دیگر سینکڑوں دلائل و براہین ان کے لیے وجہ اطمینان ہوتے۔ مگر شیعہ کا مقصد وحید مسلم معاشرہ میں شور و شر پیدا کرنا، افکار باطلہ کی تشہیر دین حنیف کی تحریف و تغییر اور شریعت کے مآخذ و مصادر کی تبدیلی کے سوا اور کچھ نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ شیعہ کا وجود انسانیت کے لیے ایک عظیم آفت سے کم نہیں ۔ اس میں شبہ نہیں کہ وہ باطل کے پرستار ہیں اور باطل فنا پذیر ہوتا ہے بلکہ جو چیز بھی کذب و افترا پر مبنی ہو وہ بے کار اور عبث ہے۔]

اہل سنت والجماعت کہتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو خلیفہ مقرر فرمایا تھا؛ اور آپ ہی اس خلافت کے سب سے زیادہ حق دار تھے۔ جب کہ [پرانے ]شیعہ کہتے تھے: ’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ خلافت کے زیادہ حق دارتھے ۔ لیکن حضرت ابو بکر [جب خلیفہ بن ہی گئے تو آپ ] کی خلافت درست ہے۔ان کا کہنا ہے کہ : حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے جائز نہیں تھا کہ وہ خلیفہ بنتے ؛ مگر جب آپ بالفعل خلیفہ بن گئے تو اب اس میں تنازع کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔اور اب آپ اس نام کے مستحق ہیں ۔ اس لیے کہ خلیفہ اسی کو کہتے ہیں جو دوسرے کا قائم مقام بنے ۔

صفحہ 1 از 8