اہل کتاب جب تک جزیہ ادا کرتے رہیں وہ مسلمانوں کے ذمہ و حفاظت میں رہیں گے
علی محمد الصلابیجب سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اسکندریہ کو فتح کیا اور جنگ کے دوران بطور مالِ غنیمت بہت سا مال و متاع حاصل ہوا تو عہد پر باقی رہنے والے لوگ آپؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ہماری اور آپؓ کی مصالحت تھی اس وقت ان رومی چوروں نے ہمارے سامان اور چوپایوں پر قبضہ کر لیا تھا اور ہمارا یہ مال اس وقت آپؓ کے قبضہ میں آیا ہے۔ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو جنہوں نے اپنا مال پہچان لیا اور اس پر شہادت پیش کر دی ان کو واپس کر دیا۔ اور ان میں سے بعض لوگوں نے سیدنا عمرو بن العاصؓ سے عرض کیا: آپؓ نے ہمارے ساتھ جو کیا ہے یہ حلال نہ تھا، بلکہ ہمارا آپؓ پر حق تھا کہ آپؓ ہماری طرف سے قتال کرتے کیوں کہ ہم آپؓ کے ذمی ہیں اور ہم نے اس عہد و پیمان کو توڑا نہیں ہے اور جس نے توڑ دیا ہے اس کو اللہ اپنی رحمت سے دور کر دے۔
(السیاسۃ المالیۃ لعثمان: صفحہ، 106)
ذرا غور کریں جزیہ کے نظام سے کس طرح کے حقوق حاصل ہوتے تھے وہ یہ کہ اس جزیہ کے عوض ان کی حمایت و حفاظت کی جاتی تھی باوجود یہ کہ وہ ملک کے دفاع میں مسلمانوں کے ساتھ شریک نہیں ہوتے تھے وہ یہ جزیہ ان حقوق کے عوض ادا کرتے تھے جو اسلامی سلطنت سے ان کو حاصل ہوتے تھے اور من جملہ ان حقوق کے، حق حمایت و حفاظت ہے۔ حضرت عمرو بن العاصؓ نے ان کے ان حقوق کو قائم رکھا اور ان کے مال و متاع کو انہیں واپس کر دیا۔
(السیاسۃ المالیۃ لعثمان: صفحہ، 106)