سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما

  مولانا اقبال رنگونی

شہیدِ کربلا سیدنا حسینؓ حضورﷺ کے محبوب نواسے، سیدنا علی المرتضیٰؓ کے دوسرے صاحبزادے اور سیدہ فاطمہؓ کا جگر گوشہ ہیں، اور آپؓ کے بڑے بھائی حسنؓ مجتبیٰ آپﷺ سے بہت مشابہت رکھتے تھے اور ان دونوں شہزادوں کو دن رات رسول اللہﷺ کی گود میں بیٹھنے، سونے اور کھیلنے کی سعادت ملتی رہی ہے اور جب تک حضور اکرمﷺ حیات رہے وہ آپﷺ کی نظر محبت اور شفقت میں ہی رہے۔

حضور اکرمﷺ نے ان کو اپنا خوشبو دار پھول، اپنا محبوب، اور جوانانِ جنت کا سردار بتلایا، آپؓ نے اسلام کے گود اور گھرانہ نبوت میں نشوونما اور پرورش پائی، حضور اکرمﷺ نے آپؓ کو جوانان جنت کا سردار فرمایا اور آپؓ ان میں سے ایک ہیں جن کو حضور اکرمﷺ نے اپنی چادر مبارک کے اندر لیا اور ان کے لیے خصوصی دعا فرمائی:

اَلَّھُمَّ اَھْلِی، اَذْھِبْ عَنْھُمُ الرِجْسَ وَطَھِّرْھُمْ تَطْہِیِرًا اَلَّھُمَّ اَھْلِی اَذْھِبْ عَنْھُمُ الرِجْسَ وَطَھِّرْھُمْ تَطْہِیِرًا اَلَّھُمَّ اَھْلُ بَیْتِیْ اَذْھِبْ عَنْھُمُ الرِجْسَ وَطَھِّرْھُمْ تَطْہِیِرًا

(مسند احمد: جلد 44 صفحہ 174)

اے میرے اللہ یہ میرے گھر والے ہیں ان سے نجاست کو دور فرما دے۔ اے اللہ یہ میرے گھر والے ہیں ان سے رجس کو دور فرما دے اور ان کو خوب پاک کر دے۔ اے اللہ یہ میرے گھر والے ہیں ان سے رجس کو دور کر دے اور ان کو خوب پاک کر دے۔

حضور اکرمﷺ اللہ کے حضور اپنے گھر والوں کو ایک چادر میں لیکر (جن میں سیدنا حسنؓ بھی ہیں) اس طرح تین مرتبہ دعا فرمائیں اور یہ دعا شرفِ قبولیت نا پائے ایسا نہیں ہوسکتا۔ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جو لوگ سیدنا علیؓ اور حضرات حسنین رضی اللہ عنہم کے بارے میں نازیبا الفاظ بول کر ان کی اذیت پر انگلیاں اٹھاتے ہیں اور غیر شریفانہ انداز اختیار کرتے ہیں وہ ذہنی اور قلبی مریض ہیں۔ حضور اقدسﷺ کی اس دعا کے ہوتے ہوئے کس مسلمان میں جرأت ہے کہ وہ ان مقدس شخصیات کی ذات کو طنز و طعن کا نشانہ بنائے۔ آپؓ کے والد شیر خدا حضرت علی المرتضیٰؓ جیسی بلند و بالا ہستی ہیں تو آپؓ کی والدہ خاتونِ جنت بلکہ خواتین جنت کی سردار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپؓ اور آپؓ کے بڑے بھائی بلکہ پورے خاندان کو بہت سی خصوصیات سے نوازا ہے۔

جس پہلو سے بھی ان کو دیکھیے آپ کو ان کی عظمت ہی عظمت دکھائی دے گی اور کیوں نہیں، جب کہ خود سرور عالمﷺ نے ان سے محبت رکھنے اور ان کا احترام کرنے کی تعلیم و ہدایت فرمائی ہے۔