سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما
علی محمد محمد الصلابیسیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما:
سیدنا حسینؓ کا نام و نسب ابوعبداللہ حسین بن علی بن ابی طالب ہے، آپ چمن زار رسولﷺ کے شگفتہ پھول اور آپ کے نواسہ ہیں، آپﷺ کی لخت جگر سیدہ فاطمہؓ کے بیٹے ہیں، آپؓ کی ولادت 4ھ میں ہوئی، سن ولادت کے سلسلہ میں دیگر اقوال بھی ہیں اور ماہ محرم 61ھ میں بمقام کربلا عاشوراء کے دن شہادت کی موت پائی۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 331، 334)۔
سیدنا حسینؓ کے فضائل و مناقب پر چند احادیث
• یعلیٰ العامریؓ سے روایت ہے کہ وہ ایک مرتبہ رسول اللہﷺ کے ساتھ ایک دعوت پر نکلے، اللہ کے رسولﷺ لوگوں کے سامنے ٹھہر گئے اور سیدنا حسینؓ دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ رسول اللہﷺ نے انھیں پکڑنا چاہا، لیکن اِدھر اُدھر بھاگتے رہے، اور رسول اللہﷺ بھی ان کو ہنساتے رہے اور پیچھے سے دوڑتے رہے، یہاں تک کہ ان کو پکڑ لیا، پھر آپﷺ نے ایک ہاتھ سے ان کی گدی اور دوسرے سے ٹھوڑی پکڑ کر ان کے منہ کو بوسہ دیا اور فرمایا:
حُسَیْنٌ مِنِّيْ وَ أَنَا مِنْ حُسَیْنٍ، اَللّٰہُمَّ اَحِبْ مَنْ اَحَبَّ حُسَیْنًا، حُسَیْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْاَسْبَاطِ۔
(فضائل الصحابۃ: حدیث نمبر 1361) اس کی سند حسن ہے۔)
’’حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اے اللہ جو حسین سے محبت کرے تو اسے محبوب رکھ، حسین میرے نواسوں میں سے ایک نواسہ ہے۔‘‘
اس حدیث میں حسین کی منقبت و فضیلت صاف طور سے نظر آرہی ہے، ایسا لگتا ہے کہ آپﷺ کو وحی ربانی کے ذریعہ سے مستقبل میں انھیں پیش آنے والے حادثات کا علم ہوگیا تھا، اس لیے آپﷺ نے مخصوص طور سے ان کا ذکر کیا، ان کی محبت کو واجب ٹھہرایا اور ان کے ساتھ کسی طرح کی بدسلوکی کو حرام قرار دیا اور پھر اس کی مزید تاکید ان الفاظ میں کی:
أَحَبَّ اللّٰہُ مِنْ أَحَبَّ حُسَیْنًا۔
’’جو حسین سے محبت کرے، اللہ اس سے محبت کرے۔‘‘
کیونکہ حسین سے محبت رسول اللہﷺ سے محبت، اور رسولﷺ سے محبت اللہ سے محبت کا ذریعہ ہے۔
(تحفۃ الاحوذی: جلد 10 صفحہ 279)۔
• سیدنا انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ جب سیدنا حسینؓ کا سر مبارک عبید اللہ بن زیاد (عبید اللہ 67ہجری میں قتل ہوا۔ الإعلام: جلد 4 صفحہ 193)
کے پاس لایا گیا اور ایک طشت میں رکھ دیا گیا تو وہ اس پر لکڑی سے کریدنے لگا اور سیدنا حسینؓ کے حسن و خوبصورتی کے بارے میں بھی کچھ کہا: اس پر حضرت انسؓ نے کہا کہ حسینؓ رسول اللہﷺ سے سب سے زیادہ مشابہ تھے، انھوں نے وسمہ (وسمہ ایک پودا ہے جو یمن میں پایا جاتا ہے اس کے پتوں سے بالوں کو خضاب کیا جاتا ہے۔) کا خضاب استعمال کر رکھا تھا۔
(صحیح البخاری: حدیث نمبر 3748)۔
• سیدنا انسؓ سے ایک دوسری جگہ روایت ہے کہ جب سیدنا حسینؓ کا سر مبارک عبید اللہ بن زیاد کے پاس لایا گیا تو وہ آپ کے اگلے دو دانتوں کوچھڑی سے کریدنے لگا اور کہنے لگا، یقیناً یہ بہت خوبصورت تھا، تو میں نے کہا: اللہ کی قسم! تم بہت نازیبا حرکت کر رہے ہو، میں نے اللہ کے رسولﷺ کو دیکھا ہے کہ جہاں تم چھڑی رکھے ہو اسی جگہ پر بوسہ دیتے تھے، چنانچہ اس نے چھڑی وہاں سے ہٹا لی۔
(فضائل الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 985) اس کی سند حسن ہے، مجمع الزوائد: جلد 9 صفحہ 195)
آخر الذکر دونوں احادیث حسن کی افضلیت اور شکل و شباہت میں اہل بیت میں سب سے زیادہ رسول اللہﷺ سے قریب تر ہونے پر دلالت کرتی ہیں، لیکن یہاں اشکال پیدا ہوتا ہے کہ فضیلت سیدنا حسنؓ کے تذکرہ میں حضرت انس بن مالکؓ ہی کا بیان ہے کہ حضرت حسنؓ رسول اللہﷺ سے سب سے زیادہ مشابہ تھے، جب کہ یہاں حضرت حسینؓ کو سب سے زیادہ مشابہ بتا رہے ہیں، چنانچہ حافظ ابن حجر رحمۃاللہ علیہ نے اس کا جواب اس طرح دیا ہے کہ جب سیدنا حسنؓ بقید حیات تھے تو آپﷺ کے زیادہ مشابہ تھے اور حضرت حسنؓ کی وفات کے بعد ان کے بھائی سیدنا حسینؓ رسول اللہﷺ کی شکل وشباہت سے قریب تر تھے، یا حضرت حسنؓ کے علاوہ دیگر لوگوں سے مشابہت میں حضرت حسینؓ نبی کریمﷺ سے زیادہ مشابہ تھے، اور اس کا بھی احتمال ہے کہ بعض اعضاء میں حضرت حسنؓ رسول اللہﷺ سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے اور بعض اعضاء میں حضرت حسینؓ آپﷺ سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے۔ جیسا کہ ترمذی اور ابن حبان نے ہانی بن ہانی کی سند سے حضرت علیؓ سے روایت کیا ہے کہ سر سے سینے تک حسن اور سینے سے پیر تک حسین رضی اللہ عنہما رسول اللہﷺ سے زیادہ مشابہ تھے۔
(فضائل الصحابۃ: حدیث نمبر 1366) اس کی سند صحیح ہے۔)
یہ حضرت حسینؓ کے سلسلہ میں وارد شدہ احادیث میں سے بعض ہیں۔