سیدنا حسن اور حسین رضی اللہ عنھما کے بھائی اور بہنیں
علی محمد الصلابی1۔ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما
آپ ابوعبداللہ حسین بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہما ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے، آپ کے ریحانہ اور محبوب اور فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لخت جگر ہیں، آپ کی ولادت 4ھ میں ہوئی، اور عراق کی سرزمین ’’کربلا‘‘ میں دس محرم 61ھ کو شہادت پائی، اللہ آپ سے راضی ہو اور آپ کو راضی کرے۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 152۔ الاصابۃ: جلد 1 صفحہ 331، 334)
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب میں بہت ساری حدیثیں وارد ہیں، ان میں سے چند درج ذیل ہیں:
ا: امام احمد اپنی سند سے روایت کرتے ہیں کہ یعلی عامری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک دعوت میں گئے، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قوم کے سامنے آئے، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ چند بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ آپ کو پکڑ لیں چنانچہ وہ یہاں وہاں بھاگنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو ہنساتے رہے ، یہاں تک کہ ان کو پکڑ لیا، ایک ہاتھ ان کی گدی کے نیچے اور دوسرا ان کی ٹھوڑی کے نیچے کیا اور ان کو بوسہ دیا، نیز فرمایا:
حُسَیْنٌ مِّنِّیْ وَأَنَا مِنْ حُسَیْنٍ، اَللّٰہُمَّ اَحِبَّ حُسَیْنًا ، حُسَیْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْأَسْبَاطِ۔
(فضائل الصحابۃ: رقم: 1361 اس کی سند حسن ہے۔)
’’حسین میرے ہیں اور میں حسین کا ہوں، اے اللہ تو اس سے محبت کر جو حسین سے محبت کرے، حسین نواسوں میں سے ایک نواسے ہیں۔‘‘
اس روایت میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی صریح فضیلت ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی محبت پر ابھارا ہے، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی ان کے اور قوم کے مابین رونما ہونے والے واقعات کا علم ہوگیا تھا۔ بنا بریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسینؓ کا خصوصیت سے ذکر کیا، ان کی محبت کو واجب اور ان کے ساتھ لڑائی کو حرام قرار دیا، چنانچہ فرمایا:
اَللّٰہُمَّ أَحِبَّ مَنْ أَحَبَّ حُسَیْنًا۔
’’اے اللہ تو اس سے محبت کر جو حسین سے محبت کرے۔‘‘
چنانچہ ان کی محبت محبت رسولﷺ تک پہنچاتی ہے اور محبت رسول اللہﷺ کی محبت تک پہنچاتی ہے۔
(تحفۃ الأحوذی: جلد 10 صفحہ 279)
ب: امام بخاریؒ نے اپنی سند سے روایت کیا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عبید اللہ بن زیاد کے پاس سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا سر پیش کیا گیا چنانچہ ایک طبق میں رکھ کر کریدنے لگا اور آپ کی خوبصورتی سے متعلق کوئی بات کہی تو انس رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ تھے، ان کا سر وسمہ سے رنگا ہوا تھا۔
(صحیح البخاری: رقم: 3748 الوسمۃ: یمن میں پایا جانے والا پودا جسے بطور خضاب استعمال کیا جاتا ہے)
ت: حضرت انس رضی اللہ عنہ کی دوسری روایت میں ہے، فرمایا: جب عبید اللہ بن زیاد کے پاس سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا سر لایا گیا تو ایک چھڑی سے آپ کے دانتوں کو کریدتے ہوئے کہا: بلاشبہ وہ خوبصورت تھے، تو میں نے کہا: اللہ کی قسم میں ضرور تم کو تکلیف پہنچاؤں گا، بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جگہ کو چومتے ہوئے دیکھا ہے جہاں تمھاری چھڑی ہے، تو وہ باز آگیا۔
(فضائل الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 985، رقم: 1197 اس کی سند حسن ہے۔)