پیٹ میں پلنے والے بچے پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی…

پیٹ میں پلنے والے بچے پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی حکومت نہیں ہے

  علی محمد محمد الصلابی

3۔ پیٹ میں پلنے والے بچے پر حضرت عمر فاروقؓ کی حکومت نہیں ہے:

حضرت عمر فاروقؓ کے پاس ایک حاملہ عورت لائی گئی، آپ نے اس سے حقیقت دریافت کیا، اس نے اپنے کرتوت کا اقرار کر لیا۔ سیدنا عمرؓ نے اسے رجم کرنے کا فیصلہ دیا، راستہ میں حضرت علیؓ سے ملاقات ہو گئی آپ نے پوچھا: اس عورت کا کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ امیر المؤمنین نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا ہے۔ حضرت علیؓ نے عورت کو واپس کر دیا ہے اور حضرت عمرؓ کے پاس آئے، پوچھا، کیا آپ نے فلاں عورت کو رجم کرنے کا حکم دیا ہے؟ حضرت عمر فاروقؓ نے کہا: ہاں، اس نے بدکاری کا اعتراف کیا ہے۔ حضرت علیؓ نے کہا: ٹھیک ہے عورت پر آپ کی حکومت ہے لیکن اس کے پیٹ میں جو بچہ ہے اس پر آپ کی حکومت نہیں ہے۔ مزید کہا کہ شاید آپ نے اسے ڈانٹا اور جھڑکا ہے، یا ڈرایا دھمکایا ہے؟ حضرت عمرؓ نے کہا: یہ ضرور ہوا ہے حضرت علیؓ نے کہا: کیا آپ نے رسول اللہﷺ کے اس فرمان کو نہیں سنا ہے:

لَاحَدَّ عَلٰی مُعْتِرِفٍ بَعْدَ بَلَا ئٍ، اِنَّہُ مَنْ قَیَّدْتَ، أَوْحَبِسْتَ، أَوْ تَہَدْدَّتْ فَلَا اِقْرَارَ لَہٗ۔

’’سزا دینے کے بعد اعتراف کرنے والے پر شرعی حد نافذ نہ ہو گی، جسے تم نے قید کر لیا، یا جیل میں ڈال دیا، یا ڈانٹا دھمکایا اس کا اقرار معتبر نہیں۔‘‘

پھر سیدنا عمرؓ نے اس عورت کو چھوڑ دیا اور کہنے لگے: عورتیں علی بن ابی طالبؓ جیسا (فقیہ و دقیقہ رس) جننے سے بانجھ ہوگئیں اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا۔ 

(سنن سعید بن منصور: جلد 2 صفحہ 69، حدیث نمبر (2083) المختصر من کتاب الموافقۃ: صفحہ 131)۔

امام ابن تیمیہ رحمۃاللہ علیہ نے اس واقعہ کو لے کر حضرت عمرؓ کی تنقیص کرنے والے روافض کی تردید کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’اگر اس واقعہ کو صحیح مان لیا جائے تو یہ ضرور ماننا پڑے گا کہ سیدنا عمر فاروقؓ کو عورت کے حاملہ ہونے کا علم نہ تھا، حضرت علیؓ نے یہ بات انھیں بتائی اور بلا شبہ جب تک کسی چیز کے بارے میں کوئی بات بتائی نہ جائے وہ نامعلوم ہی رہتی ہے، لہٰذا اگر حاکم کو یہ معلوم نہ ہو کہ جو عورت قتل یا رجم کی مستحق ہے وہ حاملہ ہے تو دوسرے لوگ اس سے متعلق حاکم کو بتا دیں، یہ بھی لوگوں کے احوال سے حاکم کو واقف کرانے کا ایک حصہ ہے۔‘‘

حضرت علیؓ آگے عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’حضرت عمر فاروقؓ لوگوں کو ان کے حقوق دیتے، حدود قائم کرتے، فیصلہ کرتے، حضرت عمر فاروقؓ کے دورِ حکومت میں اسلام خوب پھیلا اور اس کا ایسا بول بالا ہوا کہ اس سے پہلے کبھی نہ تھا، آپ ہمیشہ مشغول رہتے، کبھی فتویٰ دیتے اور کبھی فیصلہ کرتے اگر آپ علم شریعت کے بحر زخار نہ ہوتے تو یہ سب کرنے کی طاقت نہ رکھتے، پس اگر لاکھوں معاملات میں کہیں ایک معاملہ آپ سے پوشیدہ رہ گیا اور دوسرے کے بتانے پر آپ کو معلوم ہوا، یا بھول گئے تھے اور دوسرے نے یاد دلا دیا، تو اس میں عیب کی کوئی بات نہیں۔‘‘ 

(منہاج السنۃ: جلد 6 صفحہ 42)۔