Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

چھٹا شبہ

  علی محمد الصلابی

یہ کہ ’’عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’میں جانتا ہوں کہ یہ (عائشہ رضی اللہ عنہا ) دنیا و آخرت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے تمھیں آزمایا ہے آیا تم اس (علی رضی اللہ عنہ ) کی پیروی کرتے ہو یا اس (عائشہ رضی اللہ عنہا ) کی۔‘‘

(یہ تیجانی کا پیدا کردہ شبہ ہے اور رحیلی رحمہ اللہ نے اس کا ردّ اپنی کتاب ’’الانتصار للصحب و الآل‘‘ میں کر دیا ہے۔)

شبہے کا جواب:

اس شبہے کا جواب تین وجوہ سے دیا جائے گا۔

وجہ نمبر 1: یہ کہ ان کی دلیل ان پر ہی پلٹا دی جائے۔

(دلیل پلٹنا یہ ہے کہ مدعی جسے اپنے حق میں پیش کرے وہ اس کے خلاف ہو جائے۔ (شرح الکواکب المنیر لابن النجار: جلد 4 صفحہ 338۔)

لہٰذا کہا جائے گا کہ اس اثر میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مدحت کی گئی ہے ان کی مذمت نہیں اور بالکل یہی مفہوم حفاظ و ائمہ حدیث نے لیا ہے۔ جیسا کہ امام بخاری اور ان کے شاگرد امام ترمذی رحمہما اللہ نے اپنی کتابوں میں باب باندھا ہے ’’باب فضل عائشۃ‘‘۔

(صحیح بخاری: جلد 5 صفحہ 36۔ جامع الترمذی: جلد 5 صفحہ 707)

اس مفہوم کی تائید جس واقعہ سے ہوتی ہے وہ یوں ہے کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کسی نے نازیبا کلمات کہے تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: تو خائب و خاسر ہو کر دفع ہو جا کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب بیوی کو اذیت دیتا ہے۔

(اس کی تخریج گزر چکی ہے۔)

تو کیا دنیا و آخرت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہونے سے بھی بڑی کوئی فضیلت ہے؟

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا:

’’سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کا یہ قول ان کے انصاف، ان کے ورع اور سچی بات کے لیے ان کی کوشش کی دلیل ہے۔‘‘

(فتح الباری لابن حجر: جلد 13 صفحہ 58۔)

ابن ہبیرہ (یحییٰ بن محمد بن ہبیرہ ابو المظفر الشیبانی: الحنبلی عالم و عادل تھے۔ 499 ہجری میں پیدا ہوئے۔ احادیث کا سماع کیا اور قرأت سبعہ کے قاری تھے۔ لغت کے ماہر تھے۔ سلفی العقیدہ، متدین، صالح، اور عابد تھے۔ مقتضی باللہ کے وزیر رہے۔ ان کی تصنیفات میں سے ’’الافصاح عن معانی الصحاح‘‘ مشہور و متداول ہے۔ تقریباً 562 ہجری میں فوت ہوئے۔

(سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 20 صفحہ 426۔ شذرات الذہب لابن العماد: جلد 4 صفحہ 190۔)

اس حدیث کے ضمن میں کہتے ہیں: سیدنا عمار رضی اللہ عنہ صدق مقال تھے۔ وہ تنازعات میں بھی اس کی پروا نہیں کرتے تھے کہ ان کے حمایتی کا نقصان ہو گا۔ اگرچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے درمیان جنگ ہو رہی تھی اور وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، اس کے باوجود انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مکمل فضائل کی گواہی دی۔

(فتح الباری لابن حجر: جلد 13 صفحہ 59)

گویا یہ فہم علماء و حفاظ حدیث کا ہے کہ یہ روایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مدح کرتی ہے ان کی مذمت نہیں کرتی۔

وجہ نمبر 2: یہ کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بذات خود جنگ جمل میں سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی۔ جب جنگ ختم ہوئی تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اے ام المؤمنین! جو عہد آپ کو دیا گیا آپ کا یہ کردار اس سے کتنا بعید ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آواز پہچان کر فرمایا: کیا ابو الیقظان ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ کی قسم! جہاں تک مجھے معلوم ہے۔ آپ ہمیشہ حق بات کہتے ہیں۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: اس اللہ کی تعریف جس نے آپ کی زبان سے میرے حق میں فیصلہ دلوایا۔

(تاریخ طبری: جلد 3 صفحہ 61۔ اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری: جلد 13 صفحہ 63 پر اس کی سند کو صحیح کہا۔)

یہ بہت ہی وزنی گواہی ہے جو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے محفل میں دی ہے انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں ان کے سچ پر ہونے کی گواہی دی اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی فوراً گواہی دی کہ وہ حق کا کھلم کھلا اعلان کرنے والے ہیں۔ رضی اللہ عنہما

وجہ نمبر 3: کچھ رافضی سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے اس جملے کو اپنے لیے دلیل بناتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے تمھیں آزمائش میں ڈالا ہے کہ تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اتباع کرتے ہو یا عائشہ رضی اللہ عنہا کی۔

جواب: یہ جملہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی موجودگی میں ادا ہوا اور یہ بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کی دلیل ہے، ان کے نزدیک وہ شان عظیم کی مالکہ تھیں اور اس کی توجیہ یہ ہے کہ ابتلاء تو امتحان ہوتا ہے گویا اللہ تعالیٰ نے ان کا امتحان لیا کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اطاعت کریں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی کی اطاعت کریں جو ان سب کے نزدیک عظمت والی ہیں۔

چنانچہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے واضح کرنا چاہا کہ حق اگرچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہے لیکن لوگ تو اسی کی طرف میلان رکھتے ہیں جو ان کے نزدیک عظیم ہوتا ہے۔ گویا سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو بتا دیا کہ وہ بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کو مانتے ہیں اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دنیا و جنت میں بیوی ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم ان کے فضائل کو دیکھتے ہوئے ان کی رائے کی طرف مائل ہو جاؤ اور تمہارے نزدیک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی جو قدر و منزلت ہے اس کا لحاظ کرتے ہوئے حق چھوڑ دو۔

اسی کی مثل عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا وہ قول ہے جو انھوں نے عروہ سے کہا تھا۔ جب انھوں نے قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں ابوبکر و عمر کی رائے پیش کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ تم عنقریب برباد ہو جاؤ گے۔ میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور وہ کہتا ہے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے منع کیا ہے۔

(مسنداحمد: جلد 1 صفحہ 337، حدیث نمبر: 3121۔ الاحادیث المختارۃ لضیاء المقدسی: جلد 4 صفحہ 204۔ الآداب الشرعیۃ: جلد 2 صفحہ 70 پر ابن مفلح نے اسے حسن کہا اور تحقیق مسند احمد: جلد 5 صفحہ 48 میں احمد شاکر نے اس کی سند کو صحیح کہا۔)رضی اللہ عنہم 

خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے لکھا:

’’ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے وہی کہا جو عروہ نے بیان کیا۔ لیکن جب کوئی چیز سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو جائے تو پھر کسی شخص کی تقلید میں سنت کو ترک کرنا جائز نہیں۔‘‘

(الفقیہ و المتفقہ للخطیب البغدادی: جلد 1 صفحہ 377۔)

علامہ معلمی یمانی (عبدالرحمٰن بن یحییٰ بن علی ابو عبداللہ المعلمی الیمانی، شیخ الاسلام، علامہ، اپنے زمانے کا ذہبی، 1313 ہجری میں پیدا ہوئے۔ المملکۃ العربیۃ السعودیۃ کے صوبہ عسیر کے قاضی مقرر ہوئے، پھر مکتبہ حرم مکی کے جنرل سیکرٹری مقرر ہوئے۔ راویوں کے حالات پر انھیں عبور حاصل تھا۔ ہمیشہ سلفی عقیدہ کا دفاع کیا، اکثر کتب ستہ اور ان کے راویوں کی تحقیق کی۔ 1386 ہجری میں وفات پائی۔ ان کی مشہور تصنیف ’’التنکیل‘‘ ہے۔

(الاعلام للزرکلی: جلد 3 صفحہ 342۔) رحمہ اللہ نے اپنی کتاب التنکیل میں سابقہ مفاہیم کے اثبات میں طویل بحث کی ہے۔ اس نے لکھا: 

اکثر لوگ ان کی تقلید کی طرف مائل ہو جاتے ہیں جن کی عظمت ان کے دلوں میں راسخ ہوتی ہے اور وہ اس میں غلو کرتے ہیں…اگر اس کی عظمت کو نہ ماننے والے زیادہ کلام کریں تو اس کے ماننے والے اپنے متبوع کی مدح و ثنا میں مبالغہ کر لیتے ہیں۔ جو اس کے پیروکاروں کو غلو پر ابھارنے کے لیے بہت موثر ہوتا ہے۔ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے جنگ جمل شروع ہونے سے پہلے اہل عراق سے خطاب کیا تاکہ وہ انھیں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی قیادت میں بغاوت میں شامل ہونے سے روکیں۔ تو انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! بے شک وہ دنیا و آخرت میں تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں۔ لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمہارا امتحان لیا ہے تاکہ وہ جان لے کہ تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اطاعت کرتے ہو یا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی؟‘‘

صحیح بخاری میں بواسطہ ابو مریم اسدی، عمار سے روایت ہے اور اسی طرح اس نے بواسطہ ابو وائل عمار سے روایت کی ہے۔

(صحیح لبخاری: 7100)

بقول معلمی رحمہ اللہ سیدنا عمارؓ کے اس خطبے نے زیادہ لوگوں کو متاثر نہ کیا بلکہ کچھ لوگوں نے یہ کہتے ہوئے اسے جواب دیا۔ اے عمار! ہم اس کے ساتھ ہیں جن کے جنتی ہونے کی تو نے گواہی دی ہے۔

(التنکیل للمعلمی: جلد 1 صفحہ 19)

وجہ نمبر 4:  یہ کہا جائے چلو مان لیتے ہیں کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بدکلامی کی (اللہ انھیں اپنی پناہ میں رکھے) تو فتنہ کے وقت ایسی طعن و تشنیع کرنا اس کے سینے کے بغض کی علامت ہے جو صحابہ رضی اللہ عنہم سے رکھتا ہو، وہ ہمیشہ ان کے عیوب کی گھات میں رہتا ہو اور ذرا ذرا سی باتوں کو اچکنے کا حریص ہوتا ہے۔ لیکن یہ ان لوگوں کا وتیرہ نہیں ہو سکتا جن کی تعریف اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یوں فرمائی ہے:

وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡ مِنۡ بَعۡدِهِمۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَـنَا وَلِاِخۡوَانِنَا الَّذِيۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ وَلَا تَجۡعَلۡ فِىۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ۞ (سورۃ الحشر آیت 10)

ترجمہ:  اور (یہ مال فیئ) ان لوگوں کا بھی حق ہے جو ان (مہاجرین اور انصار) کے بعد آئے۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ: اے ہمارے پروردگار! ہماری بھی مغفرت فرمایے، اور ہمارے ان بھائیوں کی بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں، اور ہمارے دلوں میں ایمان لانے والوں کے لیے کوئی بغض نہ رکھیے۔ اے ہمارے پروردگار! آپ بہت شفیق، بہت مہربان ہیں۔

ٹھیک ہے کہ صحابہؓ کے درمیان بھی ایسے مناظر پیش آ جاتے تھے جیسے کسی بھی انسان کو اس کے بھائیوں کے ساتھ پیش آتے ہیں تو اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو عفو درگزر کا درس دیتے اور ان پر اس کا عیب نہ لگاتے۔

اس موضوع پر سب سے بہترین کلام امام ابو نعیم الاصبہانی رحمہ اللہ نے کیا ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر موجودگی میں صحابہ رضی اللہ عنہم کے درمیان ایسے واقعات و حادثات پیش آتے رہتے تھے، لیکن جب اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان واقعات کی خبر دیتا کہ کسی نے اپنے بھائی کو جھگڑے کے دوران شدید غصے کی حالت میں کچھ بے جا الفاظ کہہ دیے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا اس پر مواخذہ نہ فرماتے اور نہ ان کی عیب جوئی کرتے۔ بلکہ ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عفو و صلح کا حکم دیتے، الفت باہمی کی ان کو ترغیب دلاتے، غیض و غضب کے الاؤ کو ٹھنڈا کرتے اور بتقاضائے بشریت جوش و جذبات کو سکون میں بدلتے۔ اس کی بہترین مثال وہ ہے جو دو سرداروں کے درمیان پیش آئی۔ یعنی سعد بن معاذ (سعد بن معاذ بن نعمان بن امری القیس رضی اللہ عنہ ابو عمرو الانصاری جلیل القدر صحابی تھے۔ بنو اوس کے سربراہ تھے۔ یہود بنی قریظہ کا عادلانہ فیصلہ انھوں نے ہی کیا اور جس کے فیصلے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مسرت اور رضامندی کا اظہار کیا۔ جب یہ فوت ہوئے تو ان کی وفات سے عرش الہٰی تھرتھرا اٹھا یا خوشی سے جھومنے لگا۔ 5 ہجری میں وفات پائی۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد 1 صفحہ 181۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 3 صفحہ 84۔)  اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما جو کہ دین میں بلند شان کے مالک ہیں۔ ابو نعیم اصبہانی رحمہ اللہ نے مزید مثالیں لکھنے کے بعد یوں لکھا: البتہ غیض و غضب اور شدید غصے کی حالت میں کیے گئے کلام کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا اور نہ ہی اس میں کوئی دلیل ہوتی ہے۔ 

(الامامۃ و الرد علی الرافضۃ لابی نعیم الاصبہانی: 344، 345)

اگر یہ گفتگو غیض و غضب کی حالت میں ہوئی تھی تو اس شخص کے بارے میں کیا کہنا چاہیے جو فتنہ کی تلاش میں رہتا ہے تاکہ ان کلمات کو حاصل کر لے جو فتنے کے دوران کہے گئے تاکہ ان کے ذریعے سے صحابہ رضی اللہ عنہم پر طعن و تشنیع کی جائے۔ تو یہ فتنہ پرور ہونے کی دلیل ہے اور دل کے کینے کی علامت ہے۔ اے اللہ! ہم ان ظالموں کے ایسے افعال سے تیرے آگے اپنی برأت کا اعلان کرتے ہیں۔