نئے خلیفہ کے انتخاب کے لیے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ…

نئے خلیفہ کے انتخاب کے لیے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا متعدد کارروائیاں عمل میں لانا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

1۔ مہاجرین و انصار میں سے کبار صحابہؓ سے مشورہ کیا۔ ہر ایک اس ذمہ داری کو اٹھانے سے فرار اختیار کرتا اور جس کے اندر اہلیت سمجھتا اس کی طرف اشارہ کرتا۔ آخرکار سب نے یہ معاملہ سیدنا ابوبکرؓ کے سر چھوڑ دیا اور عرض کیا: ہماری وہی رائے ہے جو آپؓ کی رائے ہے۔ فرمایا: مجھے موقع دو، دیکھو اللہ، اس کے دین اور اس کے بندوں کے لیے کون مناسب ہے پھر سیدنا ابوبکرؓ نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا:

مجھے عمر بن خطاب کے بارے میں بتلاؤ؟

عرض کیا: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ہم سے زیادہ خبر ہے۔

فرمایا: اس کے باوجود اے ابوعبداللہ!

عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: جس چیز سے متعلق سیدنا ابوبکرؓ مجھ سے دریافت کرتے ہیں اسے سیدنا ابوبکرؓ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگرچہ؟

عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: واللہ وہ تو ان سے متعلق آپؓ کی رائے سے کہیں زیادہ افضل ہیں۔

پھر سیدنا ابوبکرؓ نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا:

مجھے عمر بن خطاب کے بارے میں بتلاؤ؟

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: واللہ میرے علم کے مطابق ان کا باطن ان کے ظاہر سے بہتر ہے اور ہم میں کوئی بھی ان کے ہم پلہ نہیں۔

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تم پر رحم کرے، کاش یہ خوبیاں بیان کرنا چھوڑ دیتے۔

پھر سیدنا ابوبکرؓ نے اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان کے سامنے بھی یہی بات رکھی۔

اسید نے عرض کیا: میں انہیں آپ کے بعد سب سے بہتر جانتا ہوں، اللہ کی رضا مندی کی چیزوں سے خوش ہوتے ہیں اور اس کی ناراضگی کی چیزوں پر ناراض ہوتے ہیں۔ ان کا باطن ان کے ظاہر سے بہتر ہے۔ ان سے بڑھ کر خلافت کی طاقت کوئی نہیں رکھتا۔

اسی طرح سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سعید بن زید رضی اللہ عنہ اور دیگر مختلف انصار  مہاجرین  سے مشورہ کیا۔ سب نے تقریباً سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایک ہی رائے دی۔ صرف طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی سختی سے خوف کا اظہار کیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے استخلاف سے متعلق اللہ جب آپ سے پوچھے گا تو آپ کیا جواب دیں گے جبکہ آپ کو ان کی سختی معلوم ہے؟

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے بٹھاؤ، کیا مجھے اللہ کا خوف دلاتے ہو؟ وہ ناکام ونامراد ہوا جو ظلم لے کر جائے۔ میں اللہ سے عرض کروں گا: میں نے تیرے بندوں میں سب سے بہتر کو خلیفہ مقرر کیا ہے۔

(الکامل لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 79، التاریخ الاسلامی: محمود شاکر: 101)

جن لوگوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی سختی کی طرف سیدنا ابوبکرؓ کی توجہ مبذول کرائی، ان سے فرمایا: ان کی سختی اس وجہ سے ہے کہ وہ مجھے نرم دیکھ رہے ہیں جب خلافت کی ذمہ داری ان کے سر پر پڑے گی تو بہت سی سختیاں ان کی ختم ہو جائیں گی۔

(الکامل لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 79)

2۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عہد نامہ تحریر فرمایا جو مدینہ میں اور امراء و والیان کے ذریعہ سے دوسرے شہروں میں لوگوں کو پڑھ کر سنایا جائے۔ وہ فرمان نامہ یہ تھا:

’’بسم اللہ الرحمن الرحیم

یہ ابوبکر بن ابی قحافہ کا عہدنامہ ہے، جو انہوں نے دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے اور آخرت میں داخل ہوتے ہوئے جاری کیا ہے۔ جبکہ کافر ایمان لے آتا ہے، فاجر یقین کر لیتا ہے اور جھوٹا بھی سچ بولنے لگتا ہے۔ میں نے اپنے بعد تمہارے اوپر عمر بن خطاب کو خلیفہ مقرر کیا ہے۔ ان کی سنو اور اطاعت کرو۔ میں نے اللہ، رسول، دین اور اپنے اور تمہارے بارے میں خیر اختیار کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے اگر وہ عدل پر قائم رہیں تو میرا یہی ان سے گمان اور ان کے بارے میں یہی علم ہے اور اگر بدل جائیں تو ہر شخص جو کرے گا اس کا ذمہ دار ہے۔ میں نے خیر ہی چاہی ہے لیکن مجھے غیب کا علم نہیں۔ 

وَسَيَـعۡلَمُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَىَّ مُنۡقَلَبٍ يَّـنۡقَلِبُوۡنَ ۞ (سورۃ الشعراء آیت 227)

(تاریخ الاسلام للذہبی: عہد الخلفاء: صفحہ 116، 117)

ترجمہ: اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب پتہ چل جائے گا کہ وہ کس انجام کی طرف پلٹ رہے ہیں۔ 

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے امت کے لیے اپنی آخری خیر خواہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شکل میں پیش کی۔ سیدنا ابوبکرؓ نے دیکھا کہ دنیا تیزی سے آرہی ہے اور ان کی قوم کے لوگ پہلے سے فقر وفاقہ کی زندگی بسر کر رہے تھے اور جب یہ دنیا کی طرف جھکیں گے تو دنیا کی شہوتیں انہیں اپنی طرف کھینچ لیں گی۔ پھر دنیا انہیں پھیر لے جائے گی اور ان پر غالب آجائے گی اور اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ڈراتے ہوئے فرمایا: 

(ابوبکر رجل الدولۃ: صفحہ 99)

فواللہ لا الفقر أخشی علیکم ولکن أخشی علیکم ان تُبسط علیکم الدنیا کما بُسِطت علی من کان قبلکم، فتنافسوہا کما تنافسوہا، وتہلککم کما اہلکتہم۔

(البخاری: الجزیۃ والموادعۃ: 3158)

ترجمہ: ’’اللہ کی قسم میں تمہارے اوپر محتاجی سے نہیں ڈرتا بلکہ مجھے تمہارے اوپر دنیا کا ڈر ہے کہ دنیا تم پر اسی طرح پھیلا دی جائے جیسا کہ گذشتہ امتوں پر پھیلا دی گئی۔ پس تم دنیا سمیٹنے میں سبقت کرنے لگو، جیسا کہ گذشتہ اقوام نے اس سلسلہ میں مسابقت کی، تو جس طرح دنیا نے انہیں ہلاک و برباد کیا تمہیں بھی ہلاک و برباد کر دے گی۔‘‘

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیماری کا اندازہ لگا لیا، پھر اس کے لیے مفید دوا پیش کی اور بلند پہاڑ اس کے سامنے رکھ دیا۔ جب دنیا نے دیکھا تو مایوس ہو کر منہ پھیر کر بھاگ کھڑی ہوئی۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شخصیت تو وہ ہے جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:

اَیُّہَا یَا ابْنَ الْخَطَّابِ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ مَا لَقِیْکَ الشَّیْطَانُ سَالِکًا فَجًّا قَطُّ اِلاَّ سَلََکَ فَجًّا غَیْرَ فَجِّکَ۔

(البخاری: فضائل اصحاب النبی صلي الله عليه وسلم: صفحہ 3683)

ترجمہ: ’’اے ابن خطاب! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، شیطان جس راستہ میں تمہیں چلتا ہوا دیکھتا ہے اس کو چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔‘‘

صفحہ 1 از 3