سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حفاظتی حس، اور ابوذر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہﷺ تک پہنچانے میں آپ کا کردار
علی محمد الصلابیاسلامی دعوت کا مکی دور انتہائی احتیاط اور رازداری کا متقاضی تھا، حتیٰ کہ خواص تک سے خبردار رہنے کی ضرورت تھی اور نبی کریمﷺ کی طرف سے واضح ہدایت تھی کہ راز داری کے ساتھ اس کی حفاظت کی جائے، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس احتیاط و رازداری کو بخوبی نبھایا اور حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو خفیہ طریقہ سے نبی کریمﷺ کی رہائش گاہ تک لے جانے میں بہت اہم کردار ادا کیا، ابوذر ابھی کفر پر قائم تھے، لیکن جاہلیت کے مراسم کو ناپسند کرتے تھے، بتوں کی پرستش کے قائل نہ تھے، اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کی تردید کرتے تھے اور اسلام قبول کرنے سے تین سال پیشتر کسی ایک سمت کو قبلہ مقرر کیے بغیر نمازیں بھی پڑھتے تھے، بلکہ یوں کہے کہ دین حنیفی کی طرف ان کا فطری میلان تھا اور جب نبی اکرمﷺ کی بعثت کی خبر سنی تو مکہ آئے اور آپﷺ کے بارے میں کسی سے پوچھنا مناسب نہ سمجھا، پھر رات ہو گئی اور لیٹ گئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جب ان کو دیکھا تو اندازہ کر لیا کہ یہ کوئی باہر سے آنے والا آدمی ہے۔چنانچہ آپ نے ان کی ضیافت کی اور مزید کوئی بات نہ کی، پھر صبح ہوئی تو مسجد حرام آئے اور شام تک وہیں گزار دیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آج بھی ان کو دیکھا اور دوسری رات بھی ان کی ضیافت کی، پھر تیسرے دن بھی یہی واقعہ پیش آیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے مکہ آنے کا مقصد پوچھا، جب حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے ان سے رازداری کا عہد و قرار لے لیا تو بتایا کہ میں نبی کریمﷺ سے ملاقات کی غرض سے آیا ہوں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یقیناً وہ برحق ہیں اور بلاشبہ وہ اللہ کے رسول ہیں، جب صبح کی نیند سے بیدار ہونا تو میرے ساتھ چلنا، راستہ میں اگر میں نے کوئی خطرہ کی بات دیکھی، تو کسی دیوار کے قریب جاؤں گا گویا مجھے پیشاب کرنا ہے اور اگر چلتا رہوں تو میرے پیچھے پیچھے آنا، حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا، اور رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ کی بات سنی، اور اسی وقت اسلام قبول کر لیا، پھر آپﷺ نے ان سے فرمایا:
اِرْجِعْ اِلٰی قَوْمِکَ فَأَخْبِرْہُمْ حَتّٰی یَأْتِیَکَ أَمْرِیْ
’’اب تم اپنی قوم میں واپس جاؤ اور انھیں میرا حال بتاؤ، یہاں تک کہ ہمارے غلبہ کا تمہیں علم ہو جائے۔‘‘
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں ان قریشیوں کے مجمع میں پکار کر کلمہ توحید کا اعلان کروں گا۔
چنانچہ نبی کریمﷺ کے پاس واپس ہو کر مسجد حرام میں آئے اور بلند آواز سے کہا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں اور یہ محمد اللہ کے رسول ہیں، یہ سنتے ہی سارا مجمع آپ پر ٹوٹ پڑا اور اتنا مارا کہ زمین پر گر پڑے۔ اتنے میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ آ۔گئے اور ابوذر رضی اللہ عنہ کے اوپر اپنے کو ڈال کر قریش سے کہا: افسوس! کیا تمھیں معلوم نہیں کہ یہ شخص قبیلۂ غفار سے ہے اور شام جانے والے تمھارے تاجروں کا راستہ ادھر ہی سے پڑتا ہے، اس طرح ان سے آپ کو بچا لیا۔
(صحیح البخاری مع الفتح: جلد 7 صفحہ 173)
واضح رہے کہ ابوذر نے خود مکہ آنے سے پہلے اپنے بھائی کو بھیجا تھا تاکہ وہ نبی کریمﷺ کے بارے میں معلومات لے کر اور آپ کی باتیں سن کر انھیں بتائیں۔ چنانچہ ان کے بھائی مکہ آئے اور نبی کریمﷺ کی باتیں سنیں اور واپس جا کر ابوذر کو بتایا کہ میں نے ان کو دیکھا وہ اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دیتے ہیں اور ایسی باتیں کرتے ہیں، جو شاعری نہیں ہے۔ ابوذر نے کہا: میں جو معلوم کرنا چاہتا تھا، وہ تم نہ بتا سکے، پھر انھوں نے خود جا کر نبی کریمﷺ سے ملاقات کرنے کا عزم کر لیا، گھر سے نکلتے وقت آپ کے بھائی نے کہا: مکہ والوں سے ہوشیار رہنا، وہ ان سے بغض رکھتے ہیں اوران کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ (صحیح مسلم: جلد 4 صفحہ 1923 السیرۃ النبویۃ الصحیحۃ، العمری: جلد 1 صفحہ 145)