فضائل متعہ
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ1: تحفہ العوام جلد 2 صفحہ 271 میں فرمایا: جو شخص متعہ کرے عمر میں ایک مرتبہ وہ اہلِ بہشت سے ہے دوسری حدیث میں ہے کہ عذاب نہ کیا جائے گا وہ مرد اور وہ عورت کہ متعہ کر لے۔
2: برہان المسعد مؤلفہ سید ابوالقاسم والد علامہ سید علی حائری مطبوعہ نیو امپریل پریس لاہور کے صفحہ 50 میں ہے قَالَ اَبُو عَبْدِاللّٰهِ عَلَيْهِ السَّلَام مَا مِنْ رَجُلٍ تَمَتَّعَ ثُمَّ اغْتَسَلَ إِلَّا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ كُلِّ قَطْرَةٍ تَقْطُر مِنْهُ سَبْعِينَ ملكاً يَسْتَغْفِرُونَ اِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ۔
ترجمہ: سیدنا صادقؒ نے فرمایا جو شخص متعہ کرے پھر غسل جنابت کرے پانی کے ہر قطرہ سے جو اس کے بدن سے گرے خدا تعالیٰ ستر ستر فرشتے پیدا کرتا ہے جو اس متعی شخص کے لیے قیامت تک مغفرت مانگتے رہتے ہیں۔
3: ایسا ہی منہج الصادقین صفحہ 356 میں ہے۔
قَالَ النبیﷺ مَنْ تَمَتَّعَ مَرَّةَ اَمِنَ سَخط اللّٰهِ الْجَبَّارِ وَمَنْ تَمَتَّعَ مَرَّتَيْنِ حُشِرَ مَعَ الاَبْرَارِ وَمَمَنْ تَمَتَّعَ ثَلاثَ مَرَّاتِ صَاحبنی فِی الجَنَّانِ۔
ترجمہ: نبی کریمﷺ نے فرمایا جو ایک مرتبہ متعہ کرے خدا کے قہر سے نجات ملے جو دو مرتبہ کرے اس کا حشر پاک لوگوں (پیغمبروں، اماموں، ولیوں) کے ساتھ ہوگا جو تین مرتبہ متعہ کرے وہ رسول اللهﷺ کے ساتھ جنت میں داخل ہوگا۔
4: قَالَ النبیﷺ مَنْ تَمَتِّعَ مَرَّةً وَاحِدَةً عُتِقَ ثُلُثُهٌ مِنَ النَّارِ وَمَن تَمْتَعَ مَرَّتين عتق ثُلُثَاة مِنَ النَّارِ وَمَنْ تَمَتَّعَ ثَلٰتَ مَرّٰاتٍ عُتِقَ کله مِنَ النَّار۔
ترجمہ: رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو ایک دفعہ متعہ کرے اس کے بدن کا تیسرا حصہ آتش دوزخ سے آزاد ہو جاتا ہے جو دو دفعہ کرے اس کے دو ثلث اور جو تین مرتبہ کرے اس کا تمام بدن آتش دوزخ سے آزاد ہو جاتا ہے۔
5: قَالَ النَّبِیﷺ مَنْ تَمَتَعَ مَرَّةً دَرَجَتُهٗ كَدَرجَةِ الْحَسَنِ ومن تمتع مرتين دَرَجَته كَدَرَجَةِ الْحُسَینِ وَمَنْ تَمَتَّعَ ثَلٰثَ مَرَّاتٍ دَرَجَتُهٗ کدرجة عَلیِّ ومن تَمَتَّعَ أَرْبَعَ مَرّٰتٍ دَرَجَتُهُ كَدَرَجَتِی۔
ترجمہ: رسول اللہﷺ نے فرمایا جو شخص ایک دفعہ متعہ کرے درجہ حضرت حسنؓ کا پائے اور جو دو دفعہ کرئے تو درجہ حضرت حسینؓ کا پائے اور تین دفعہ کرنے سے حضرت علیؓ کا رتبہ ملے، چار دفعہ کرنے سے رسول اللہﷺ کا ہم مرتبہ ہو جائے۔
ایسا ہی شیعہ کی معتبر تفسیر منہج الصادقین صفحہ 256 میں ہے:
سبحان اللہ شیعہ مذہب میں متعہ مبارک میں کسی قدر فضیلت ہے نہ ایسی فضیلت نماز و روزہ نہ حج نہ زکوٰۃ نہ دیگر عبادات کی ہے کہ حسب روایت نمبر 1 عمر بھر میں ایک دفعہ متعہ کر لینے سے بہشت کا ٹھیکہ مل جاتا ہے اور جو مرد یا عورت متعہ جیسا کار ثواب کرے عذاب دوزخ سے نجات مل جائے اور حسب روائت نمبر 2 متعہ کنندہ جب غسل کرتا ہے تو اس کے بدن سے بے تعداد قطرات پانی کے گرتے ہیں ایک قطرہ سے ستر ستر فرشتے پیدا ہو جاتے ہیں جو قیامت تک اس نیک مرد متعہ کنندہ کے لیے خدا سے طلب مغفرت کرتے رہتے ہیں بموجبِ روایت نمبر 3 ایک دفعہ فعل نیک کرنے سے غصبِ الٰہی سے امان مل جاتی ہے دو دفعہ یہ عمل کرنے سے حشر مع الابرار (صدیقین، شہداء انبیاء) ہونے کا مستحق ہو جاتا ہے تیسری دفعہ عملِ متعہ کرنے سے بدن کی تہائی دو دفعہ کرنے سے دو تہائی تین دفعہ کرنے سے تمام بدن پر آتشِ دوزخ حرام ہو جاتی ہے بمطابق روایت نمبر 5 متعہ کی اتنی بڑی فضیلت ہے کہ ایک دفعہ کرنے سے سیدنا حسنؓ کا دو مرتبہ کرنے سے سیدنا حسینؓ کا تین دفعہ کرنے سے حضرت علیؓ کا اور چار دفعہ کرنے سے رسول اللہﷺ کا درجہ مل جاتا ہے پھر نماز ، روزہ، حج، زکوٰۃ اور دیگر عبادات کرنے کی کیا ضرورت؟ جن میں بدنی و مالی تکالیف اٹھانی پڑتی ہیں ، پس چار دفعہ کار ثواب (متعہ) کر لیا جائے ہم خرماؤہم ثواب حظ نفس بھی حاصل ہو اور بہشت بھی مل جائے نار جہنم کا کھٹکا نہ رہے، سیدنا حسنؓ، سیدنا حسینؓ، سیدنا علیؓ، رسول اللہﷺ کے ہم رتبہ ہو کر نعیم جنت کے مزے لوٹے کیا کوئی شخص ایک منٹ کے لیے بھی مان سکتا ہے کہ یہ بیہودہ روایات متعہ جو ائمہ دین یک طرف منسوب کی جاتی ہیں فی الواقع ان کے ہی اقوال ہیں؟ یہ عجیب بات ہے کہ ایک شخص شہوت رانی کی غرض سے ایسے فعلِ قبیح کا ارتکاب کرے اور وہ جنتُ الفردوس کا مالک بن جائے اور اماموں اور انبیاء کا ہم رتبہ ہو جائے:
كَبُرَتۡ كَلِمَةً تَخۡرُجُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِمۡاِنۡ يَّقُوۡلُوۡنَ اِلَّا كَذِبًا ۞
(سورۃ الكهف: آیت 5)
ایسے اقوال کا ائمہ اہلِ بیتؓ کی طرف منسوب کرنا عترتِ رسولﷺ کی بہت بڑی ہتک ہے اعاذ اللہ منہ۔
افسوس ہے کہ متعہ جیسا حیا کش مسئلہ اسلام کا ایک فرقہ ایجاد کر کے دامنِ اسلام پر ایک بدنما دھبہ لگاتا ہے ہم آریہ کے خلاف مسئلہ نیوگ کے متعلق اعتراض کرتے ہیں آریہ اس کے جواب میں متعہ کا مسئلہ پیش کر دیتے ہیں بتائیے اس کا کیا جواب دیا جا سکتا ہے؟