محترم قارئین! چونکہ مولانا جامی رحمۃ اللہ کی کتب میں جہاں شیعہ عقائد درج ہیں، وہیں ان کی کتابیں سنی عقائد و نظریات کی بھی حامل ہیں، اسی وجہ سے جامی رحمۃ اللہ کے بارے میں ناقدین کسی ایک رائے پر متفق نہ ہو سکے۔ چونکہ اکابرِ علمائے اہلِ سنت والجماعت رحمہم اللہ ہمیشہ حضرت مولانا عبد الرحمٰن جامی رحمۃ اللہ کو ایک سنی صوفی اور مسلمان نعت گو شاعر کی حیثیت سے تسلیم کرتے رہے اور ان کا ذکر مدحیہ انداز میں کرتے رہے ہیں، اس لیے ہم بھی ان سے حسنِ ظن رکھتے ہیں۔ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے متعلق گمراہ کن نکات اور فہمیوں کا ازالہ اور خطائے مشتہر کے ارتکاب کا الزام (198) ہیں۔ لہٰذا ہم بھی حضرت مولانا جامی کے حق میں ان رافضی خرافات کو تسلیم نہیں کرتے۔
جہاں تک ان حوالہ جات کے ذکر کرنے کا تعلق ہے تو اس سے میرا مدعا یہ ہے کہ: سبائیہ، باطنیہ اور دشمنانِ صحابہؓ نے مشہور صوفیوں کے مقاصد میں دیدہ دانستہ ایسے شبہات پیدا کر دیے ہیں جن سے ان کے عقیدت مندوں کے قلوب میں یہ خیال پیدا ہو جائے کہ وہ یا تو تقیہ کرتے تھے یا مائل بہ تشیع تھے۔ اور اسی طرح اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ قدرتی طور پر ان کا میلان بھی تشیع کی طرف ہو جائے گا۔ انہیں ان کے آبائی مذہب سے برگشتہ کرنا آسان ہو جائے گا۔ راقم الحروف کے استنتاج کی بحث تاریخی شواہد سے پایۂ ثبوت کو پہنچ سکتی ہے۔ پاکستان کے اکثر و بیشتر سنی بزرگوں کے مزاروں کے سجادہ نشین اور متولی مذہبِ امامیہ اختیار کر چکے ہیں اور اپنے مذہب کے جاہل عقیدت مندوں سے یہ کہتے ہیں کہ یہ حضرات بھی امامیہ مذہب ہی کے پیرو تھے۔ کیا طرفہ تماشہ ہے کہ صاحبِ مزار سنی تھا، لیکن آج اس کا سجادہ نشین یا متولی شیعہ ہے۔ لا ریب یہ اسی طریقِ کار کا ثمرِ شیریں ہے، جو اس جماعت نے ایک ہزار برس سے اختیار کر رکھا ہے: جس طرح ہو سکے صوفیوں کو مسلکِ امامیہ کا پیرو ثابت کرو، تاکہ عوام بھی اپنے پیشواؤں کے مذہب کی طرف مائل ہو سکیں۔
(اسلامی تصوف میں غیر اسلامی نظریات کی آمیزش: صفحہ 69، 70 تحت جامی پر دست درازی)