Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

غزوۂ بدر اولیٰ

  علی محمد محمد الصلابی

اس غزوہ کا سبب یہ تھا کرز بن جابر الفہری نے مدینہ کی چراگاہ پر حملہ کر کے چرنے والے جانوروں کو لوٹ لیا، اللہ کے رسولﷺ اس کا تعاقب کرتے ہوئے بدر کے قریب وادی ’’سفوان‘‘ تک چلے آئے، کرز بن جابر بھاگ نکلا، اللہ کے رسولﷺ مدینہ واپس آ گئے۔

(سیرۃ ابن ہشام: جلد 2 صفحہ 601)۔

 اس موقع پر آپﷺ نے حضرت علیؓ کو اپنا سفید پرچم عطا کیا تھا۔

(تاریخ الإسلام: الذہبی: جلد 2 صفحہ 48، علی بن أبی طالب: الرفاعی: صفحہ 89)۔

واضح رہے کہ یہ مہمات و سرایا دشمنان دعوت اسلام کے خلاف اعلان جنگ کا آغاز تھیں، مشرکین کے خلاف سرایا، خفیہ دستوں اور غزوات کی شکل میں نبی اکرمﷺ کے ہاتھوں جن مہموں کا آغاز ہوا ان کے ساتھ ہی افق اسلام پر اللہ کے بنائے ہوئے قانون تدافع کا ظہور ہوا۔ جس پر آپﷺ اور آپﷺ کے صحابہؓ عمل پیرا ہوئے، سیدنا علیؓ بھی ان کے ساتھ شامل رہے اور ایسا ہونا بھی چاہیے تھا، کیو ں کہ دین اسلام کو مستحکم و غالب کرنے میں اللہ کے قانون تدافع کا بہت اہم کردار رہا ہے، اس نکتہ کی طرف اللہ نے قرآن مجید میں ان الفاظ کے ساتھ اشارہ کیا ہے:

وَلَوۡلَا دَفۡعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعۡضَهُمۡ بِبَعۡضٍ لَّفَسَدَتِ الۡاَرۡضُ وَلٰـکِنَّ اللّٰهَ ذُوۡ فَضۡلٍ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ۞ (سورۃ البقرة آیت 251)

’’اور اگر اللہ کا لوگوں کا ایک دوسرے کے ذریعے دفاع نہ کرے تو یقیناً زمین میں فساد پھیل جاۓ اور لیکن اللہ جہانوں پر بڑے فضل والا ہے۔ ‘‘

اور فرمایا:

الَّذِيۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ بِغَيۡرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنۡ يَّقُوۡلُوۡا رَبُّنَا اللّٰهُ‌وَلَوۡلَا دَفۡعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعۡضَهُمۡ بِبَـعۡضٍ لَّهُدِّمَتۡ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ يُذۡكَرُ فِيۡهَا اسۡمُ اللّٰهِ كَثِيۡرًا‌ وَلَيَنۡصُرَنَّ اللّٰهُ مَنۡ يَّنۡصُرُهٗ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِىٌّ عَزِيۡزٌ ۞ (سورۃ الحج آیت 40)

ترجمہ: یہ وہ لوگ ہیں جنہیں صرف اتنی بات پر اپنے گھروں سے ناحق نکالا گیا ہے کہ انہوں نے یہ کہا تھا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے۔ اور اگر اللہ لوگوں کے ایک گروہ (کے شر) کو دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہتا تو خانقاہیں اور کلیسا اور عبادت گاہیں اور مسجدیں جن میں اللہ کا کثرت سے ذکر کیا جاتا ہے، سب مسمار کردی جاتیں۔ اور اللہ ضرور ان لوگوں کی مدد کرے گا جو اس (کے دین) کی مدد کریں گے۔ بلاشبہ اللہ بڑی قوت والا، بڑے اقتدار والا ہے۔