Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم

  ابو شاہین

سیدہ رقیہؓ مکہ مکرمہ میں سیدہ زینبؓ کی ولادت کے تین سال بعد بعثت نبویﷺ سے سات سال پہلے پیدا ہوئیں۔ رسول اللہﷺ کی سیدہ خدیجہؓ سے ہونے والی ساری اولاد نجیب الطرفین تھی۔ سیدہ رقیہؓ والد اور والدہ دونوں کی طرف سے قریشیہ تھیں۔ سیدہ رقیہ کی پیدائش کے وقت آپﷺ کی عمر مبارک 33 سال تھی۔ ان کی ولادت کے وقت تک آپﷺ کے سر پر تاج نبوت نہیں رکھا گیا تھا۔ آپﷺ کے گھر کے ساتھ ہی ابو لہب کا گھر تھا۔

نبوت ملنے سے پہلے یہ شخص یقیناً آپﷺ سے محبت کرتا تھا۔ ابو لہب کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا۔ نہایت خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ مال دار بھی تھا۔ اس کے ایک بیٹے کا نام عتبہ اور دوسرے کا نام عتیبہ تھا۔ بنو ہاشم کے کچھ لوگ سردار ابو طالب کو لے کر رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گویا ہوئے آپ نے اپنی بڑی بیٹی کا نکاح ابو العاصؓ سے کر دیا ہے بلاشبہ وہ اچھا داماد اور شریف انسان ہے مگر ہم (آپ کے ددھیالی رشتہ دار) یہ کہتے ہیں جس طرح آپﷺ پر خدیجہ کی بہن ہالہ کے بیٹے کا حق ہے اسی طرح ہمارا بھی حق ہے۔ حسب و نسب اور شرافت میں ہم کسی طرح ان سے کم نہیں۔ آپﷺ نے پوچھا معاملہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا ہم آپﷺ کی دو بچیوں رقیہ اور ام کلثوم کا رشتہ مانگنے آئے ہیں۔ رشتہ مانگنے والوں میں ابولہب بھی تھا۔ وہ اپنے بیٹوں عتبہ اور عتیبہ کے لیے رشتہ طلب کر رہا تھا۔ ارشاد ہوا: اے چچا! مجھے قرابت داری اور رشتہ داری سے انکار نہیں مگر مجھے سوچنے کا موقع دیں۔

نبی کریمﷺ نے سیدہ خدیجہؓ سے مشورہ کیا۔ پہلے تو وہ اس رشتے پر تیار نہ ہوئیں کیونکہ ان کے سامنے ام جمیل کا چہرہ تھا جو ابولہب کی بیوی تھی اور اسے ان سیدات کی ساس بننا تھا۔ یہ خاتون جس کا نام ارویٰ تھا ابوسفیان کی بہن اور اموی خاندان کے مشہور سردار حرب بن امیہ کی بیٹی تھی۔ یہ خاتون بڑی بدتمیز، بدزبان اور فتنہ پرداز عورت تھی۔ قرآن کریم نے حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ کا لقب اسی بدبخت عورت کو دیا۔ سیدہ خدیجہؓ کو یہ فکر تھی کہ ان بچیوں کا نباہ اس عورت کے ساتھ کیسے ہو گا۔ پورا مکہ اس عورت کی بدزبانی سے واقف تھا۔ تاہم ان کے سامنے یہ بات بھی تھی کہ وہ اپنی صاحبزادی سیدہ زینبؓ کا رشتہ اپنے بھانجے سے کر چکی تھیں اور بچیوں کے ددھیال کا بھی ان پر حق ہے۔ چنانچہ سیدہ خدیجہؓ کے مشورے اور بیٹیوں کی رضامندی سے سیدہ رقیہؓ کا نکاح عتبہ سے ہو گیا۔

جب رسول اللہﷺ نے نبوت کا اعلان فرمایا اس وقت تک ان کی رخصتی نہ ہوئی تھی۔ جب اللہ کے رسولﷺ کی عمر مبارک چالیس سال ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت سے سرفراز کیا گیا۔ سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں میں آپﷺ کی اہلیہ محترمہ سیدہ خدیجہؓ اور آپﷺ کی چاروں صاحب زادیاں سیدہ زینب، سیدہ رقیہ، سیدہ ام کلثوم اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہن شامل تھیں۔

سیرت نگاروں نے وضاحت سے لکھا ہے کہ جس روز سیدہ خدیجہؓ نے اسلام قبول کیا ان کی چاروں بیٹیوں نے بھی اسی روز اسلام قبول کر لیا تھا۔ آپﷺ نے اپنے رشتہ داروں کو دعوت دینا شروع کی۔ ان میں ابولہب بھی شامل تھا اور ابولہب کا رویہ بہت سخت تھا۔ اس کا بس نہیں چلتا تھا کہ وہ آپﷺ کو کس طرح تکالیف دے۔ چنانچہ وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ جو رشتے آپﷺ سے طلب کیے تھے، ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی، ان کو توڑ دیا جائے۔ لہٰذا اس نے ایسا ہی کیا۔ بہانہ یہ بنایا کہ میرا بھتیجا میری ہجو کرتا ہے۔ اس نے اپنے دونوں بیٹوں کو بلایا اور کہا کہ محمدﷺ کی بیٹیوں کو طلاق دو ورنہ تمہارا سر آمنے سامنے نہیں ہو سکے گا یعنی میں کبھی تمہاری شکل نہیں دیکھوں گا۔ باپ کی بات مانتے ہوئے ان کے دونوں بیٹوں نے طلاق دے دی۔ یہ تھے ہی بدبخت اللہ تعالیٰ نے ان سے ان سیدات کی حفاظت فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے بدرجہا اعلیٰ اور افضل داماد عطا فرما دیا۔

سیدنا عثمان بن عفانؓ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی کوششوں سے مسلمان ہو چکے تھے۔ یہ اموی خاندان سے تھے اور نہایت شریف النفس اور خوبصورت انسان۔ نوجوان اور کنوارے تھے۔ نہایت مال دار تاجر تھے۔ گویا شادی کے لیے کسی بھی نوجوان میں جو اعلیٰ صفات مطلوب ہوتی ہیں وہ سیدنا عثمانؓ میں موجود تھیں۔ انہوں نے آپﷺ سے سیدہ رقیہ کا رشتہ مانگ لیا۔ اس رشتے کو قبول کر لیا گیا اور ان کا نکاح رقیہؓ سے وحی الٰہی سے ہوا تھا۔ یہ جوڑی ایک مثالی جوڑی بن گئی تھی۔

سیدہ رقیہؓ کے آنگن میں ایک پھول کھلا جس کا نام عبداللہ رکھا گیا۔ اس لحاظ سے وہ ام عبداللہ ہو گئیں۔ عبداللہ کے بعد ان کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوئی۔ غزوہ بدر سے پہلے سیدہ رقیہؓ کو چیچک نکل آئی۔ علاج پر بھرپور توجہ دی گئی مگر مرض بڑھتا چلا گیا۔ ادھر بدر کے میدان میں جانے کا اعلان ہوا۔ صحابہ کرامؓ لڑائی میں شرکت کے لیے تیاری کرنے لگے جن میں سیدنا عثمان غنیؓ بھی شامل تھے۔ ادھر سیدہ رقیہؓ کی حالت روز بروز بگڑتی جا رہی تھی۔ اللہ کے رسولﷺ نے سیدنا عثمانؓ سے فرمایا تم ان کی تیمار داری کے لیے مدینہ میں ہی رہو ایک طرف وفا شعار بیوی کی بیماری اور ان کی ضرورت تھی تو دوسری طرف جذبہ جہاد سے سرشاری۔ سیدنا عثمانؓ نے عرض کی اللہ کے رسول! میرے اجر و ثواب کا کیا ہو گا؟ ارشاد فرمایا: عثمان! فکر نہ کرو تمہیں غزوہ بدر میں شرکت کرنے والے مجاہدین کے برابر اجر بھی ملے گا اور غنیمت سے حصہ بھی۔ عثمانؓ آپﷺ کے کہنے پر مدینہ منورہ میں ٹھہر گئے۔ ادھر مسلمانوں کو اللہ رب العزت نے بدر کے میدان میں فتح مبین سے سرفراز فرمایا۔ آپﷺ نے سیدنا زید بن حارثہؓ کو فتح کی خوش خبری دینے کے لیے مدینہ منورہ روانہ فرمایا۔ ان کے مدینہ منورہ پہنچنے سے قبل ہی سیدہ رقیہؓ اکیس سال کی عمر میں اس دار فانی سے رخصت ہو چکی تھیں ۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔