صحابہ کرامؓ نے یزید کی بیعت کیوں کی؟ - ردِ رافضیت | دفاع…

صحابہ کرامؓ نے یزید کی بیعت کیوں کی؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 3

اعتراض

اگر یزید برحق نہیں تھا تو سیدنا حسینؓ کی طرح باقی صحابہ کرامؓ نے بیعت سے انکار کیوں نہیں کیا؟ مثلاً سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیعت کی تھی، ان جلیل القدر صحابہ کرامؓ کا یزید کی بیعت کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ یزید برحق تھا اور سیدنا حسینؓ خطا پر تھے۔

جواب

صحابہ کرامؓ کے یزید کی بیعت کرنے کی کئی وجوہات تھیں۔

1: سیدنا معاویہؓ کے اجتہاد سے اتفاق:

سیدنا معاویہؓ کا اجتہاد اور رائے یہ تھی کہ خلیفہ کی اہلیت کی بنیاد قوت تدبیر، معاملہ فہمی اور انتظامی امور میں مہارت رکھنا ہے اگرچہ مدمقابل تقویٰ و عبادت میں افضل ہی کیوں نہ ہو۔

چنانچہ علامہ حافظ ابوالفضل شہاب الدین احمد بن علی ابن حجر عسقلانی الشافعیؒ (ت 852ھ) فرماتے ہیں:

وكان رأى معاويہ في الخلافة تقديم الفاضل في القوة والرأي والمعرفۃ على الفاضل في السبق إلى الإسلام والدين والعبادة فلهذا أطلق أنه أحق۔

ترجمہ: سیدنا معاویہؓ کی خلافت کے معاملہ میں رائے یہ تھی کہ قوت، تدبیر اور (انتظامی) معاملہ فہمی میں ماہر شخص کو اس شخص پر ترجیح حاصل ہے جو قبول اسلام میں سبقت، دین دار اور عبادت گزاری میں فضیلت رکھتا ہو، اس لیے آپؓ نے اسے (یزید کو) خلافت کا زیادہ حق دار قرار دیا۔

(فتح الباری شرح صحیح البخاری لابن حجر: جلد 7 صفحہ 404) 

حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ (ت 1297ھ) لکھتے ہیں:

سیدنا امیر معاویہؓ کا نظریہ خلافت کے متعلق یہ تھا کہ جس کسی کو مملکت کے انتظام کا سلیقہ دوسروں سے زیادہ ہو اگر اس سے افضل موجود ہوں تو دوسروں سے اس کا خلیفہ بنانا افضل ہے۔

(مکتوبات قاسم العلوم: صفحہ 175)

تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سیدنا معاویہؓ کی اس اجتہادی رائے کی موافقت کرتے ہوئے یزید کی بیعت کر لی۔

2: امت میں انتشار سے بچنا:

سیدنا معاویہؓ دیکھ رہے تھے کہ اس وقت حکومت کا دارو مدار بنوامیہ اور اہلِ شام کی طاقت پر ہے، اگر خاندان بنوامیہ اور اہلِ شام سے باہر کسی بھی شخص کو ولی عہد بنا دیا تو یہ امت کے لیے خانہ جنگی کا باعث بنے گا اور یہی بات ان صحابہ کرامؓ کے پیش نظر تھی جو یزید کی بیعت کر رہے تھے۔

1: چنانچہ ابو عمرو خلیفہ بن خیاط بن خلیفہ البصریؒ (ت 240ھ) لکھتے ہیں:

عن حميد بن عبد الرحمٰن قال دخلنا على رجل من أصحاب رسول اللہﷺ حين استخلف يزيد بن معاويہ فقال أتقولون إن يزيد ليس بخير أمة محمد لا أفقہ فيها فقها ولا أعظمها فيها شرفا قلنا نعم قال وأنا أقول ذلك ولكن واللہ لئن تجتمع أمۃ محمد أحب إلى من أن تفترق۔

ترجمہ: حضرت حمید بن عبد الرحمٰنؒ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ جس وقت یزید بن معاویہ کو خلیفہ بنایا گیا تو ہم نبی اکرمﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے ایک صحابی کے پاس گئے تو وہ کہنے لگے آپ یہ کہتے ہیں کہ یزید اس امت کا بہترین فرد نہیں ہے اور فقیہ بھی نہیں ہے اور شرافت کے اعتبار سے زیادہ اچھا بھی نہیں ہے تو ہم نے کہا جی ہاں ایسا ہی ہے، تو وہ کہنے لگے میں بھی یہی بات کہتا ہوں لیکن اللہ کی قسم میں امت محمدیہ کے متحد رہنے کو اس کے منتشر ہونے پر ترجیح دیتا ہوں (اس لیے میں نے یزید کی بیعت کی ہے تاکہ امت میں افتراق و انتشار پیدا نہ ہو)۔

(تاریخ خلیفہ بن خیاط: صفحہ 133 سنۃ احدى و خمسين)

2. امام ابو زید عبد الرحمٰن بن محمد بن محمد ابن خلدون الحضرمیؒ (ت 808ھ) لکھتے ہیں:

والذي دعا معاويۃ لا يثار ابنہ يزيد بالعهد دون من سواه إنما هو مراعاة المصلحۃ في اجتماع الناس واتفاق أهوائهم باتفاق أهل الحق والعقد عليہ حينئذ من بني أمية إذ بنو أميۃ يومئذ لا يرضون سواهم وهم عصابۃ قريش واهل الملۃ اجمع واهل الغلب منهم فأثره بذلك دون غيره ممن يظن أنه أولى بها۔

ترجمہ: جو چیز سیدنا معاویہؓ کو دوسروں کے بجائے یزید کو ولی عہد بنانے کا سبب بنی وہ امت کے اتحاد اور اتفاق کی مصلحت تھی، بنو امیہ کے ارباب حل و عقد اس پر متفق ہو سکتے تھے، اس وقت وہ اپنے علاوہ کسی اور کے خلیفہ بننے پر راضی نہیں ہو رہے تھے، وہ قریش کا سب سے مضبوط گروہ تھے اور اہلِ ملت کی اکثریت انہیں سے تعلق رکھتی تھی، اس لیے سیدنا معاویہؓ نے یزید کو ان لوگوں پر ترجیح دی جن کے بارے میں گمان کیا جاتا تھا کہ وہ خلافت کے اہل ہیں۔

(تاریخ ابن خلدون: جلد 1 صفحہ 263 تحت الفصل الثلاثون فی ولايۃ العہد)

3: یزید کا فسق صحابہ کرامؓ کے سامنے ظاہر نہیں تھا

سیدنا امیر معاویہؓ کی زندگی میں یزید کا فسق اور فجور اس حد تک ظاہر نہیں ہوا تھا جتنا کہ بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا، جن روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یزید حضرت امیر معاویہؓ کی زندگی میں ان حرکتوں کا عادی تھا وہ ضعیف اور درایتاً مشکوک ہیں، اگر وہ روایات درست مان بھی لی جائیں تو پھر بھی یزید ولی عہد بننے تک ایسا کھلم کھلا بد کردار نہ تھا کہ اسے ولی عہد بنانے کی سرے سے گنجائش ہی نہ ہوتی، خصوصاً جس وقت یزید کو ولی عہد بنایا جا رہا تھا اس وقت یزید کی شہرت اس حیثیت سے نہیں تھی جس حیثیت سے آج ہے، ظاہر ہے اس وقت تو وہ خلیفہ وقت اور صحابی رسول کا بیٹا تھا، اس کے ظاہری حالات اور اس کی انتظامی صلاحیتوں کی بناء پر یہ رائے قائم کرنے کی پوری گنجائش تھی کہ وہ خلافت کا اہل ہے، اسی وجہ سے دیگر جلیل القدر صحابہؓ اور تابعینؒ بھی یہی رائے رکھتے تھے اور حضرت معاویہؓ کی بھی یہی رائے تھی۔ 

چنانچہ اس پر چند تصریحات ملاحظہ ہوں:

امام ابو الحسن احمد بن یحییٰ بن جابر بن داؤد البلاذریؒ (ت 279ھ) سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ کا یہ واقعہ نقل کرتے ہیں:

قال عامر بن مسعود الجمحي إنا لبمكۃ إذ مر بنا بريد ينعى معاويۃ فتهضنا إلى ابن عباس وهو بمكۃ وعنده جماعۃ وقد وضعت المائدة ولم يؤت بالطعام فقلنا لہ يا أبا العباس جاء البريد بموت معاويۃ فوجم طويلا ثم قال اللهم أوسع لمعاويۃ، أما واللہ ما كان مثل من قبلہ ولا يأتي بعده مثلہ وإن ابنہ يزيد لمن صالحي أهلہ فالزموا فجالسكم وأعطوا طاعتكم وبيعتكم۔

صفحہ 1 از 3