عمرۃ القضا7ھ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نیز دختر حمزہ رضی اللہ عنہا کی کفالت
علی محمد محمد الصلابیاسلامی تعلیمات کی تاثیر سے انسانی عقل و دماغ میں ایک تغیر و انقلاب پیدا ہوگیا، لڑکیاں جو کہ عرب شرفاء کے یہاں باعث ننگ و عار تھیں اور جنہیں اپنی عار و خفت مٹانے کے لیے بعض عرب قبائل زندہ درگور کر دیا کرتے تھے۔
اسلام نے انھیں عرب شرفاء کی نگاہوں میں لڑکیوں کو اتنا محبوب و دلعزیز بنا دیا کہ ان کی پرورش و پرداخت کے لیے وہ آپس میں مقابلہ کرنے لگے؟ وہ اس میں برابر ہوگئے، ان میں کوئی کسی پر بلاوجہ ترجیح اور ناحق اپنی برتری نہیں دکھاتا تھا۔
(السیرۃ النبویۃ للندوی: صفحہ 321)۔
عمرۃ القضاء کے موقع پر اللہ کے رسولﷺ نے جب مکہ سے واپس ہونے کا ارادہ کیا تو حضرت حمزہؓ کی بیٹی آپ کے پیچھے چچا، چچا کہتی ہوئی آئی، سیدنا علیؓ نے انھیں لے لیا اور ہاتھ پکڑ کر سیدہ فاطمہؓ کے پاس لائے اور کہا: اپنے چچا کی بیٹی کو لے لو، میں اسے لے کر آیا ہوں، لیکن علی، زید، اور جعفر رضی اللہ عنہم کا آپس میں اختلاف ہو گیا، حضرت علیؓ نے کہا: میں اسے اپنے ساتھ لایا ہوں اور یہ میرے چچا کی بیٹی ہے، سیدنا جعفرؓ نے کہا: یہ میرے چچا کی بیٹی ہے، اور اس کی خالہ میرے نکاح میں ہیں، حضرت زیدؓ نے کہا: یہ میرے بھائی کی بیٹی ہے، لیکن آپﷺ نے ان کی خالہ کے حق میں فیصلہ فرمایا، اور فرمایا:
اَلْخَالَۃُ بِمَنْزِلَۃِ الْأُمِّ
خالہ ماں کے درجہ میں ہوتی ہے
اور حضرت علیؓ سے فرمایا: أَنَْتَ مِنِّيْ أَنَامِنْکَ
تم مجھ سے ہو، اور میں تم سے ہوں،
حضرت جعفرؓ سے فرمایا کہ اَشْبَہْتَ خَلْقِیْ وَخُلُقِيْتم شکل و صورت اور عادات و اخلاق دونوں میں مجھ سے مشابہ ہو،
اور حضرت زیدؓ سے فرمایا: أَنْتَ أَخُوْنَا وَمَوْلَانَا
تم ہمارے بھائی اور مولا ہو، حضرت علیؓ نے آپﷺ سے عرض کیا کہ سیدنا حمزہؓ کی صاحبزادی کو آپ اپنے نکاح میں لے لیں، لیکن آپﷺ نے فرمایا: إِنَّہَا ابْنَۃُ أَخِيْ مِنَ الرَّضَاعَۃِ
وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔
(صحیح البخاری: حدیث نمبر 4251)۔
فوائد، احکام، عبرت اور مواعظ
1: خالہ، ماں کے قائم مقام ہے۔
2: والدین کی عدم موجودگی میں، اولاد کی پرورش کے لیے غیروں کے مقابلہ میں خالہ کو ترجیح حاصل ہے۔
3: سیدنا جعفر بن ابی طالبؓ کے حق میں تزکیہ نبوی اور یہ توصیف کہ تم شکل و صورت اور عادات و اخلاق دونوں میں مجھ سے مشابہ ہو۔
4: حضرت زید بن حارثہؓ کے حق میں یہ منقبت نبوی کہ تم ہمارے بھائی اور ہمارے مولا ہو، کیونکہ زیدؓ حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے مواخاتی بھائی تھے، رسول اللہﷺ نے ان دونوں کے مابین مواخات کرائی تھی۔ ایسی صورت میں حضرت زیدؓ اپنے اجتہاد سے اس نتیجہ پر پہنچے تھے کہ اولاد کے تئیں جو ذمہ داریاں حقیقی بھائی پر عائد ہوتی ہیں، ’’مواخاتی‘‘ ہونے کے ناتے اب وہ ذمہ داریاں ان پر بھی عائد ہوتی ہیں، لہٰذا ان پر واجب ہے کہ وہ حضرت حمزہؓ کی بیٹی کے ولی اور ذمہ دار ہوں۔
5: کسی عورت کا شادی شدہ ہونا اس سے حق حضانت (پرورش) کو ساقط نہیں کرتا۔ اس واقعہ میں اللہ کے رسولﷺ نے حمزہ کی بیٹی کی پرورش کا حق اس کی خالہ کو دیا، حالانکہ وہ حضرت جعفر بن ابی طالبؓ کی منکوحہ تھیں۔ جب کہ اس کی حقیقی پھوپھی صفیہ بنت عبدالمطلبؓ اس وقت باحیا ت تھیں۔
6: خالہ کو اپنی بھانجی کی پرورش کے لیے اپنے شوہر سے اجازت لینا ضروری ہے، اس لیے کہ بیوی اپنے شوہر کی مصلحت و منفعت کی محافظ ہے اور دوسرے کی اولاد کی پرورش سے اس کی مصلحت کو قدرے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، لہٰذا اس کی اجازت و رضامندی ضروری ہے ہم دیکھ رہے ہیں کہ حضرت جعفر بن ابی طالبؓ نے اپنے چچا کی بیٹی کی پرورش و کفالت کا مطالبہ اس لیے کیا کہ ان کی بیوی بچی کی خالہ تھیں، گویا وہ خود ہی رضا مند تھے، بیوی کو کہنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئی۔
7: اگر کسی عورت نے ایسے دو افراد کو دودھ پلایا ہے کہ ان میں ایک چچا ہے اور ایک بھتیجا تو وہ دونوں آپس میں رضاعی بھائی ہوں گے، اور چچا کی ساری بیٹیاں اس کے لیے رضاعی بھتیجیاں ہوں گی، اور اس کے لیے ان سے نکاح حرام ہوگا۔
(زاد المعاد: جلد 2 صفحہ 374، 375، صلح الحدیبیۃ لابی فارس: 286، 287)