Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فریقین کی اہل بیت رضی اللہ عنہم سے روایات

  مولانا مہرمحمد میانوالی

سوال نمبر 186: سنی کُتب میں ائمہ اہلِ بیتؓ کی روایات نہ ہونے کے برابر ہیں، کیا خانوادۂ رسول کی حدیث معتبر نہیں ہیں؟

جواب: بالکل جھوٹ ہے۔ ہمارے یہاں اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کا اوّلین مصداق ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن ہیں۔ ان سے ہزاروں حدیثیں مروی ہیں۔ تنہا حضرت عائشہ صدیقہؓ سے 2210 حدیثیں ہم تک پہنچی ہیں۔ شیعہ چونکہ اہلِ بیت رضی اللہ عنہم صرف 4 افراد کو مانتے ہیں۔ تو ان چاروں سے جتنا علم اور روایاتِ نبوی ہم اہلِ سنت نے روایت کی ہیں، شیعہ نے ہرگز نہیں کی ہیں مسندِ اہلِ بیتؓ ہماری کتبِ حدیث میں سے ایک کتاب ہے تقریباً دو ہزار حدیثیں صرف اس میں موجود ہیں۔ آپ لوگ حضرت علیؓ کی فضیلتِ علمی پر جو کچھ بھی استدلال، شرائط سے قطع نظر ناجائز طور پر کرتے ہیں۔ وہ ہماری ہی کتب کے مواد سے کرتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ ہم کو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ یا کسی فردِ اہلِ بیتؓ سے بغض نہیں، البتہ ہم دیگر غیر اہلِ بیتؓ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین رسولﷺ کو بھی شاگردانِ رسالت اور وبستانِ نبوت کے تعلیم یافتہ سمجھتے ہیں جو دنیا کے کونے کونے میں پہنچے اور فتوحات و تعلیم و تربیت سے شمعِ اسلام روشن کی۔ بر و بحر اور شرق و غرب کو سمیٹنے والا دین صرف چار حضرات کی روایات کا پابند نہیں ہو سکتا، اور خیر سے شیعہ ہماری اہلِ بیتؓ سے مروی روایات کو مانتے ہی نہیں اور خود ہماری بہ نسبت 1/4 حصہ بھی ان سے روایت نہیں کیا۔ سب سے بڑا عالم سیدنا علی المرتضیٰؓ کو مانتے ہیں بھلا اپنی کتب سے آپ کے ایک سو معتبر شاگرد ہی ہمیں بتا دیں۔ دو چار صد مرفوع احادیث عن علیؓ قال قال رسول الله الخ ہی اپنی کتبِ اربعہ سے دکھا دیں۔ صحیفہ مرتضویؓ نہج البلاغہ جو چند مواعظ اور ضرب الامثال کے سوا اپنے مخالفین کی بدگوئی اور شکایات سے لبریز ہے، سے ہی ایک سو مرفوع احادیثِ نبویہﷺ بروایتِ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ دکھا دیں، چلیے 40، 40 کے مبارک عدد میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا، حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ احادیثِ نبویﷺ‏ دکھا دیں- دیدہ باید

نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے

 یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں

لے دے کر شیعوں کے پاس 95 فیصد احادیث جعفری و باقری ہیں نبوی نہیں اور جو 5 فیصد منسوب الی الرسول ہیں وہ بھی مرسل منقطع اور ضعیف ہیں کیونکہ سیدنا جعفر رحمۃ اللہ و سیدنا باقر رحمۃ اللہ نے آنحضورﷺ اور اہلث بیت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی نہیں دیکھا۔ پھر شیعہ ان اماموں کو حلال و حرام میں مختار، عالم لدنی اور مفترض الاطاعت مانتے ہیں تو مطلب یہ ہوا کہ احادیثِ جعفری و باقری سے شریعتِ محمدیہﷺ کو منسوخ یا باطل تو کیا جا سکتا ہے مگر شریعتِ محمدیہﷺ ان سے ہرگز ثابت نہیں کی جا سکتی یہی وجہ ہے کہ شیعہ تمام اصول و فروع میں اور کلمہ طیبہ پڑھنے سے دفن ہونے تک تقریباً ہر بات میں ملتِ محمدیہﷺ اور تلامذہ نبوت سے جُدا مذہب رکھتے ہیں اور اپنے آپ کو فخریہ ملتِ جعفریہ کہتے ہیں۔ (العیاذ باللہ)