صحابہؓ کی تکفیر کا لازی نتیجہ کیا ہوگا؟ - دفاعِ اہلِ سنت |…

صحابہؓ کی تکفیر کا لازی نتیجہ کیا ہوگا؟

  علی محمد محمد الصلابی

صحابہ کرامؓ کی تکفیر شیعہ امامیہ کا مذہب ہے، جس سے امیر المومنین (علی رضی اللہ عنہ ) کی تکفیر لازم آتی ہے کیونکہ اُن کے نزدیک انھوں نے اللہ کے احکامات کو نافذ نہیں کیا اور اس سے کنارہ کش رہے، پھر ان تمام الزامات کا مجموعی نتیجہ یہ ہوگا کہ اسلامی شریعت کا تواتر مشکوک ہوجائے گا اور اسی پر بس نہ ہوگا، بلکہ جب اسلام کے ناقلین ومحافظین، مرتد ٹھہرا دئیے جائیں گے تو یہ شریعت ہی سرے سے باطل ہوجائے گی اور قرآن اعتراضات وشکوک کے دائرہ سے باہر نہ نکل پائے گا۔ اس لیے کہ یہ قرآن ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ اور ان جیسے دیگر جلیل القدر صحابہؓ کے واسطہ ہی سے ہم تک پہنچا ہے بس صحابہؓ کی تکفیر اور تمام ترالزمات کا واحد مقصد یہی ہے جو بیان کیا گیا اسی لیے ابو زرعہ رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا: جب تم کسی شخص کو اصحابِ رسولﷺ کی تنقیص کرتے ہوئے دیکھو تو جان لو کہ وہ زندیق ہے، کیونکہ رسولﷺ برحق ہیں اور قرآن بھی حق ہے اور قرآن و رسولﷺ کی سنتوں کو ہم تک اصحابِ رسولﷺ نے پہنچایا ہے، صحابہ کرامؓ پر اعتراض کرنے والے چاہتے ہیں کہ ہمارے گواہوں اور واسطوں کو داغ دار کر دیں، تاکہ قرآن اور احادیث رسول کو باطل ٹھہرا دیں، حالانکہ ان پر جرح و نقد کرنا سب سے اولیٰ اور مقدم عمل ہے کہ یہ زندیق ہیں۔ (الکفایۃ: صفحہ 49)

چنانچہ امام ابو زرعہؒ کی اسی حقیقت بیانی کے تناظر میں ہم دیکھتے ہیں کہ خود شیعہ مذہب کی معتبر کتب اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ تکفیر صحابہ کا اصول ابن سبا نے گھڑا ہے اور اسی نے سب سے پہلے ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ اور دیگر صحابہ کرامؓ پر طعن وتشنیع کی، ان پر تبرا بازی کی اور یہ دعویٰ کیا کہ اسے علی ( رضی اللہ عنہ ) نے ایسا کرنے کا حکم دیا تھا۔

(المقالات والفرق: القمی: صفحہ 20)

 بحوالہ أصول مذہب الشیعۃ: جلد 2 صفحہ 933)۔