مجھے راز کی ایسی کوئی بات نہیں بتائی جسے لوگوں سے پوشیدہ رکھا ہو
علی محمد محمد الصلابیابوالطفیل سے روایت ہے کہ ہم نے حضرت علیؓ سے کہا، ایسی رازداری کی بات بتائیے جسے رسول اللہﷺ نے صرف آپ ہی کو بتایا ہو، حضرت علیؓ نے فرمایا: مجھے آپﷺ نے رازداری کی کوئی ایسی بات نہیں بتائی ، جسے دوسرے لوگوں سے پوشیدہ رکھا ہو، البتہ آپﷺ کو میں نے فرماتے ہوئے سنا:
لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ ذَبَحَ لِغَیْرِ اللّٰہِ، وَ لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ آوَی مُحْدِثًا، وَ لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَیْہِ، وَلَعَنَ اللّٰہُ مَنْ غَیَّرَ تُخُوْمَ الْأَرْضِ۔
(مسند أحمد: حدیث نمبر 855، اس کی سند قوی ہے۔ یہ حدیث صحیح مسلم کی حدیث ہے دیکھیے: صحیح مسلم: کتاب الأضاحی: باب تحریم الذبح لغیر اللہ 1978، (مترجم)
’’اللہ کی لعنت ہے اس شخص پر جس نے غیر اللہ کے لیے ذبح کیا اور اللہ کی لعنت ہے اس شخص پر جس نے کسی بدعتی کو پناہ دی، اور اللہ کی لعنت ہے اس شخص پر جس نے اپنے والدین پر لعنت بھیجی اور اللہ کی لعنت ہے اس شخص پر جس نے زمین کے نشانات کو بدلا۔‘‘
اس حدیث میں اللہ کی لعنت کا مطلب ہے کہ اس کی رحمت سے دوری اور ’’غیر اللہ‘‘ کے لیے ذبح کرنے کا مطلب ہے، اللہ کے علاوہ ہر مخلوق حتیٰ کہ اگر کسی نبی، فرشتے یا جنات کے لیے ذبیحہ کیا تو یہ سب اسی حکم میں شامل ہیں، اگر اسلام کی نگاہ میں یہ چیزیں معمولی ہوتیں تو ان پر اس قدر سخت وعید نہ ہوتی کہ وہ اللہ کی لعنت کا مستحق ہو۔