Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

امیر المؤمنین سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا قول ہے

  علی محمد الصلابی

میں تمھیں اپنے ایک بھائی کی خبر دے رہا ہوں جو میری نگاہ میں بہت عظیم تھا، اس کی عظمت کا سب سے اہم راز یہ تھا کہ دنیا اس کی نگاہ میں حقیر تھی اور وہ اپنے پیٹ کا بندہ نہیں تھا، نہ ملنے والی چیز کی وہ خواہش نہیں کرتا تھا، مل جانے پر زیادہ نہیں کھاتا تھا، اپنی شرمگاہ کا غلام نہیں تھا، چنانچہ اس کے پیچھے اپنی عقل و رائے کا دامن نہیں چھوڑتا تھا، جاہلوں کا دست نگر نہیں تھا، منفعت کا یقین ہونے کے بعد ہی ہاتھ پھیلاتا تھا، بلاسبب نہ ناراض ہوتا نہ اکتاتا، علماء کی مجلس میں بولنے سے زیادہ سننے کا حریص ہوتا، گفتگو میں مغلوب ہو بھی جاتا لیکن خاموشی میں نہیں، اکثر اوقات خاموش رہتا، جب بولتا تو بولنے والوں پر فوقیت لے جاتا، جس کے قول و عمل میں ہم آہنگی نہ ہو، ایسے قاضی کو دیکھ کر ہی کسی مقدمے اور جھگڑے میں بلامعاوضہ احساناً دخل اندازی کرتا اور دلیل دیتا، اپنے بھائیوں کا خیال رکھتا، انھیں چھوڑ کر اپنے لیے کوئی چیز خاص نہ کرتا، لائق عذر کسی چیز کے سلسلے میں کسی کی ملامت نہ کرتا، جب اس کے نزدیک دو باتوں میں سے کسی کا اقرب الی الحق ہونا واضح نہ ہوتا تو دیکھتا کہ ان میں سے کون سی بات خواہش کے زیادہ قریب ہے پھر اس کی مخالفت کرتا۔

(البدایۃ والنہایۃ:جلد 11 صفحہ 199)

سیدنا حسنؓ کے اس قول میں لوگوں کے لیے خصائل حمیدہ اور اخلاق حسنہ کی جانب رہنمائی ہے، یہ تربیت کا اعلیٰ ترین منہج ہے، جس کے مطابق ہمیں اپنی اور اپنے بچوں کی تربیت کرنی چاہیے، اس قول سے ہمیں درج ذیل چیزوں کا سبق ملتا ہے:

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول

’’میری نگاہ میں اس کی عظمت کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ دنیا اس کی نگاہ میں حقیر تھی۔‘‘

(البدایۃ والنھایۃ: جلد 11 صفحہ 199)

دنیا اس کی نگاہ میں حقیر ہوتی ہے جو حقائق سے آگاہ ہو، قضا و قدر، جنت و جہنم، دنیا و زندگی اور اللہ تعالیٰ سے متعلق صحیح تصور اس کے ذہن نشین ہو، اللہ کے حضور حاضر ہونے کی حقیقت کو سمجھتے ہوئے دنیا سے بے رغبت ہو کر آخرت کے لیے عمل کرے، اسے یقین ہو کہ دنیا امتحان و آزمائش کی جگہ اور آخرت کی کھیتی ہے، اس بات سے بچتا ہو کہ دنیا اپنی تمام تر چمک دمک اور رعنائیوں کے ساتھ اس پر غالب آجائے، ظاہراً و باطناً اپنے رب کے سامنے سر تسلیم خم کر چکا ہو، جاں گزیں ہو جانے والی ان حقیقتوں کا ادراک کر چکا ہو جو دنیا سے بے رغبت ہونے میں اس کی معاون و مددگار ہوں، انھیں میں سے درج ذیل حقیقتیں ہیں:

 اس بات کا کامل یقین کہ ہم اس دنیا میں اجنبیوں یا مسافروں کے مانند ہیں، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

کُنْ فِی الدُّنْیَا کَأَنَّکَ غَرِیْبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِیْلٍ۔

(سنن الترمذی: کتاب الزہد: رقم: 2333، یہ حدیث صحیح ہے۔)

’’تم دنیا میں اجنبی یا مسافر کے مانند رہو۔‘‘

 اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس دنیا کی کوئی قدر و قیمت نہیں، اگر کچھ قدر و قیمت ہے تو دنیا کے اسی حصے کی ہے جو اللہ کی اطاعت کے لیے ہو، اس لیے کہ فرمان نبویﷺ ہے:

لَوْ کَانَتِ الدُّنْیَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللّٰہِ جَنَاحَ بَعُوْضَۃٍ مَا سَقَی کَافِرًا مِنْہَا شَرْبَۃَ مَائٍ۔

(سنن الترمذی: کتاب الزہد: رقم: 2320)

’’اگر دنیا کی وقعت اللہ کے نزدیک ایک مچھر کے پَر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کسی کافر کو اس میں سے ایک گھونٹ پانی بھی نہ پلاتا۔‘‘

نیز فرمان نبویﷺ ہے:

اَلدُّنْیَا مَلْعُوْنَۃٌ وَ مَلْعُوْنٌ مَا فِیْہَا إِلَّا ذِکْرَ اللّٰہِ وَمَا وَالَاہُ أَوْ عَالِمًا أَوْ مُتَعَلِّمًا۔

(سنن الترمذی: کتاب الزہد: رقم: 2322)

’’دنیا ملعون ہے اور جو کچھ اس میں ہے وہ بھی ملعون ہے سوائے اللہ تعالیٰ کے ذکر اور ان چیزوں کے جو اس سے تعلق رکھتی ہیں اور سوائے دینی علوم سے بہرہ ور اور ان کا علم حاصل کرنے والوں کے۔‘‘

دنیا کی عمر ختم ہونے کے قریب ہے، جیسا کہ فرمان نبویﷺ ہے:

بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَۃُ کَہَاتَیْنِ وَ یَقْرَنُ بَیْنَ اَصْبُعَیْہِ السَّبَّابَۃِ وَالْوَسْطَی۔

(صحیح مسلم: کتاب الفتن و أشراط الساعۃ: رقم: 132، 135) 

’’میں اور قیامت ایسے مبعوث کیے گئے ہیں جیسے یہ دونوں انگلیاں ہیں، اور (یہ کہتے ہوئے) آپﷺ اپنی انگشت شہادت اور درمیانی انگلی ملا لیتے (یعنی جس طرح یہ دونوں انگلیاں متصل ہیں درمیان میں کوئی فاصلہ نہیں، اسی طرح میرے اور قیامت کے درمیان کسی نبی کا فاصلہ نہیں)‘‘

انسان کی قیامت اس کی موت سے شروع ہو جاتی ہے، اور عمر بہت مختصر ہوتی ہے جب ہم اس میں سے بچپنے اور نیند کا حصہ نکال دیں تو کتنا بچے گا؟

 آخرت کی زندگی باقی رہنے والی ہے، اور وہ دار القرار ہے، جیسا کہ مومنِ آل فرعون نے کہا:

يٰقَوۡمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا مَتَاعٌ وَّاِنَّ الۡاٰخِرَةَ هِىَ دَارُ الۡقَرَارِ۞ مَنۡ عَمِلَ سَيِّـئَـةً فَلَا يُجۡزٰٓى اِلَّا مِثۡلَهَا وَمَنۡ عَمِلَ صَالِحًـا مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَـنَّةَ يُرۡزَقُوۡنَ فِيۡهَا بِغَيۡرِ حِسَابٍ ۞(سورۃ غافر آیت 39، 40)

ترجمہ: اے میری قوم! یہ دنیوی زندگی تو بس تھوڑا سا مزہ ہے۔ اور یقین جانو کہ آخرت ہی رہنے بسنے کا اصل گھر ہے۔ اور جس شخص نے کوئی برائی کی ہوگی، اسے اسی کے برابر بدلہ دیا جائے گا، اور جس نے نیک کام کیا ہوگا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت جبکہ وہ مومن ہو تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے وہاں انہیں بےحساب رزق دیا جائے گا۔

جس مومن کے دل میں یہ حقیقتیں رچ بس جائیں دنیا اس کی نگاہ میں حقیر ہو جائے گی۔

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے اس قول کی شرح

کَانَ خَارِجًا مِنْ سُلْطَانِ بَطْنِہِ فَلَا یَشْتَہِیْ مَالًا یَجِدُ وَ لَا یُکْثِرُ إِذَا وَجَدَ۔

(البدایۃ والنھایۃ: جلد 11 صفحہ 199)

’’وہ اپنے پیٹ کا بندہ نہیں تھا، نہ ملنے والی چیز کی وہ خواہش نہیں کرتا تھا، مل جانے پر وہ زیادہ نہیں کھاتا تھا۔‘‘

آپ کے اس ارشاد میں ضرورت سے زائد کھانے کو ترک کرنے کی دعوت دی گئی ہے اس لیے کہ زائد کھانا انواع و اقسام کی پینے کی چیزوں کا متقاضی ہوتا ہے، اور یہ چیزیں معاصی کے ارتکاب اور اطاعتوں کو ترک کرنے کا باعث ہوتی ہیں، اور یہ دونوں باتیں بہت بری ہیں، چنانچہ خوب پیٹ بھر کھانا بہت سارے معاصی کے ارتکاب اور بہت ساری اطاعتوں کے ترک کا سبب بنتا ہے۔ چنانچہ جس نے اپنے آپ کو پیٹ کی برائی سے بچا لیا اس نے اپنے آپ کو بڑی برائی سے بچا لیا، جب انسان خوب پیٹ بھر کھانا کھاتا ہے تبھی اس پر شیطان کا اچھی طرح بس چلتا ہے۔

(جہاد النفس: علی الدہامی: صفحہ 93)

اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں شیطان کی ان چالوں سے بچنے کے لیے کہا ہے جو حلال پر اکتفا کرنے کے بجائے پیٹ کا بندہ بننے کی دعوت دیتی ہیں، چنانچہ فرمان الہٰی ہے:

يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ كُلُوۡا مِمَّا فِى الۡاَرۡضِ حَلٰلًا طَيِّبًا وَّلَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ اِنَّهٗ لَـكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ ۞ (سورۃ البقرة آیت 168)

ترجمہ: اے لوگو! زمین میں جو حلال پاکیزہ چیزیں ہیں وہ کھاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو، یقین جانو کہ وہ تمہارے لیے ایک کھلا دشمن ہے

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کھانے پینے میں اعتدال کا حکم دیا ہے اس لیے کہ اعتدال پیٹ کی خواہشات کو کنٹرول رکھتا ہے:

وَّكُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا وَلَا تُسۡرِفُوۡا‌ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الۡمُسۡرِفِيۡنَ۞

(سورۃ الأعراف آیت 31)

ترجمہ: اور کھاؤ اور پیو، اور فضول خرچی مت کرو۔ یاد رکھو کہ اللہ فضول خرچ لوگوں کو پسند نہیں کرتا۔ 

پیٹ کا بندہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ وہ شخص ضرورت سے زیادہ کھائے اور پیئے اور آسودہ ہونے میں مبالغہ اور افراط سے کام لے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کیا ہے کہ ضرورت سے زیادہ کھانا پینا جسم اور نفس کے لیے نقصان دہ ہے، جیسا کہ امام ترمذیؒ نے مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ کی روایت درج کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے:

مَا مَلَأَ آدَمِیٌّ وَعَائً شَرَّا مِنْ بَطْنِہِ، بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ أَکْلَاتٌ یُقِمْنَ صُلْبَہُ فَإِنْ کَانَ لَا مَحَالَۃَ فَثُلُثٌ لِطَعَامَہِ، وَ ثُلُثٌ لِشَرَابَہِ وَ ثُلُثٌ لِنَفْسَہِ۔

(سنن الترمذی: کتاب الزہد: حدیث نمبر 380، حدیث حسن صحیح ہے۔(

’’کسی آدمی نے کوئی برتن اپنے پیٹ سے زیادہ برا نہیں بھرا، آدمی کے لیے چند لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی پشت کو سیدھا رکھیں اور اگر زیادہ ہی کھانا ضروری ہو تو پھر پیٹ کا تہائی حصہ کھانے کے لیے اور دوسرا تہائی حصہ پانی کے لیے، اور تیسرا تہائی حصہ سانس لینے کے لیے ہو۔‘‘

اس حدیث میں مذکور کم کھانے پینے اور اسراف سے بچنے سے متعلق نبویﷺ طریقے کو اپنانا چاہیے، اس لیے کہ یہ اسراف بڑی خرابی کا باعث ہوتا ہے، خرابی سے مراد معدے کی بیماریاں ہی نہیں ہیں، بلکہ وہ خرابی مراد ہے جو نفس میں پیدا ہو جاتی ہے جس سے نفس بہت زیادہ کھانے پینے کا عادی ہو جاتا ہے، کھانا پینا اس کے نزدیک غذا اور بدن کی تقویت کے بجائے ایک مستقل مقصد بن جاتا ہے، جس کے حصول میں وہ ہمیشہ لگا رہتا ہے، اس کی پوری تگ و دو اسی کے لیے ہوتی ہے، اس کا پیٹ اگر آسودہ ہو بھی جاتا ہے تو اس کا نفس آسودہ نہیں ہوتا، پیٹ ہی اس کے نزدیک خوش حالی کا معیار ہوتا ہے۔

(امراض النفس: دیکھیے: انس کرزون: صفحہ 109)

پیٹ کا بندہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ صرف زیادہ کھاتا ہے، اس لیے کہ زیادہ کھانا اس کے مرض کی ظاہری علامت ہے، اس کی حقیقت یہ ہوتی ہے کہ نفس مادہ پرست اور لالچی ہو جاتا ہے، کھانا اس کے نزدیک وسیلۂ غذا کے بجائے ایک مستقل مقصد بن جاتا ہے، وہ جانوروں جیسا ہو جاتا ہے جو اپنی خواہشات کے غلام ہوتے ہیں، اس سلسلے میں فرمان الہٰی ہے:

 وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يَتَمَتَّعُوۡنَ وَيَاۡكُلُوۡنَ كَمَا تَاۡكُلُ الۡاَنۡعَامُ وَالنَّارُ مَثۡوًى لَّهُمۡ ۞ (سورۃ محمد آیت 12)

ترجمہ: اور جنہوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ (یہاں تو) مزے اڑا رہے ہیں، اور اسی طرح کھا رہے ہیں جیسے چوپائے کھاتے ہیں، اور جہنم ان کا آخری ٹھکانا ہے۔

نیز فرمان نبویﷺ ہے:

اَلْکَافِرُ یَأْکُلُ فِیْ سَبْعَۃِ أَمْعَائٍ وَ الْمُؤْمِنُ یَأْکُلُ فِیْ مِعًی وَاحِدٍ۔

(صحیح مسلم: رقم: 2060)

’’کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے، اور مومن ایک آنت میں۔‘‘

اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ مؤمنین کا طریقہ کم کھانا ہوتا ہے تاکہ عبادات میں مشغول رہ سکیں، کافر اس کے برخلاف ہوتا ہے اس لیے کہ وہ اپنی خواہشات کا غلام ہوتا ہے، انھی کے پیچھے پڑا رہتا ہے، اس سلسلے میں حرام سے بھی گریز نہیں کرتا، اگر کم کھاتا بھی ہے تو دنیا سے بے رغبتی کے باعث نہیں بلکہ صحت اور جسم کی حفاظت کے لیے،

دنیا کا حریص ہونے اور اس کے پیچھے پڑے رہنے کے سبب گویا وہ سات آنتوں میں کھاتا ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے فلاں پوری دنیا کھاجاتا ہے۔ لیکن مومن ایک آنت میں کھاتا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس حدیث میں دنیا سے متعلق مومن کے زہد اور کافر کے حرص کی مثال بیان کرتے ہیں۔

(فتح الباری: شرح صحیح البخاری: جلد 9 صفحہ 538، 539)

امام نوویؒ نے اس حدیث کا ایک دوسرا مفہوم بیان کرتے ہوئے کہا: ایک قول کے مطابق سات آنتوں سے مراد سات صفتیں ہیں: حرص، ہوس، لمبی امید، لالچ، بری طبیعت، حسد اور موٹاپا۔

(شرح النووی: علی صحیح مسلم: جلد 14 صفحہ 23)

ابن القیم رحمہ اللہ کا قول ہے:

دل کو خراب کرنے والی چیزوں میں سے کھانا ہے، اور اس کھانے کی دو قسمیں ہیں:

پہلی قسم: ایسا کھانا جو بذات خود دل کو خراب کردے جیسے حرام چیزیں۔

دوسری قسم: ایسا کھانا جو اپنی مقدار اور حد سے تجاوز کرنے پر دل کو خراب کردے، جیسے حلال چیز کو حد سے زیادہ کھا لینا، ایسا کھانا دل کو اطاعتوں سے روک دیتا ہے، پیٹ بھرنے والی چیزوں کے حصول اور کوشش میں اسے مشغول کر دیتا ہے، حاصل ہو جانے پر ان کو بکثرت کھانے اور ان کے نقصانات سے بچنے کی کوشش میں مشغول کر دیتا ہے، خواہشات کو اس پر غالب کر دیتا ہے، شیطان کی راہوں کو کشادہ کر دیتا ہے، بلاشبہ وہ انسان کی رگوں میں خون کی مانند دوڑتا ہے، روزہ اس کی راہوں کو تنگ بلکہ اس کے راستوں کو بند کر دیتا ہے، اور ضرورت سے زیادہ کھانا ان راہوں اور راستوں کو وسیع اور کشادہ کر دیتا ہے، چنانچہ جو زیادہ کھاتا ہے، زیادہ پیتا ہے، وہ زیادہ سو کر زیادہ گھاٹا اٹھاتا ہے۔

(مدارج السالکین: جلد 1 صفحہ 458، 459)

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے اس قول کی شرح

وَ کَانَ خَارِجًا مِنْ سُلْطَانِ فَرْجِہِ فَلَا یَسَتخِفُّ لَہُ عَقْلَہُ وَ لَا رَأْیَہُ۔

(البدایۃ والنھایۃ: جلد 11 صفحہ 199)

’’اپنی شرمگاہ کا غلام نہیں تھا، چنانچہ اس کے پیچھے اپنی عقل و رائے کا دامن نہیں چھوڑتا تھا۔‘‘

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ شرمگاہ کی خواہش پر قابو پانے کی دعوت دے رہے ہیں، اور (بتاتے ہیں کہ) اسے منجانب اللہ مشروع طریقے ہی سے پوری کرنی چاہیے اس لیے کہ اس طریقے سے تجاوز کرنے کے نتائج خطرناک ہیں، جیسے دل کی سختی، ایمان کی کمزوری وغیرہ، شرمگاہ کی خواہش جتنا ہی غالب ہوگی اتنا ہی دل کی سختی، تاریکی اور وحشت بڑھے گی، اس خواہش کی ابتداء محرمات کو دیکھنے سے ہوتی ہے، پھر اختلاط ہوتا ہے، پھر زنا کا معاملہ معمولی معلوم ہونے لگتا ہے، اور اس کا راستہ ہموار ہوتا ہے، یہاں تک کہ اس کا ارتکاب ہو جاتا ہے، پھر یہ بیماری دل میں سرایت کر جاتی ہے، ایمان کی حقیقت اس سے دور ہونے لگتی ہے، یہی اس فرمانِ نبویﷺ کا مصداق ہے:

لَا یَزْنِی الزَّانِیْ حِیْنَ یَزْنِیْ وَہُوَ مُؤْمِنٌ وَ لَا یَشْرَبُ الْخَمْرَ حِیْنَ یَشْرَبُہَا وَ ہُوَ مُؤْمِنٌ۔

(صحیح البخاری مع الفتح کتاب الحدود: جلد 8 صفحہ 13، مسلم: رقم: 57)

’’زناکار زنا کے وقت مومن نہیں ہوتا، شرابی شراب پینے کے وقت مومن نہیں ہوتا۔‘‘

امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کی روایت کے وقت فرمایا: یعنی وہ کامل مومن نہیں ہوتا، نیز ایمان کی روشنی سے محروم ہوتا ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

إِذَا زَنَی الْعَبْدُ خَرَجَ مِنْہُ الْاِیْمَانُ فَکَانَ فَوْقَ رَأْسِہِ کَالظُّلَّۃِ فَإِذَا خَرَجَ مِنْ ذٰلِکَ الْعَمَلِ رَجَعَ إِلَیْہِ الْاِیْمَانُ۔ 

(المستدرک للحاکم: جلد 1 صفحہ 22۔ امام ذہبی رحمۃاللہ نے موافقت کی ہے۔)

’’بندہ جس وقت زنا کرتا ہے اس وقت ایمان اس سے نکل کر اس کے سر پر چھتری کے مانند رہتا ہے، جب وہ اس کام سے فارغ ہو جاتا ہے تو ایمان اس کی جانب لوٹ جاتا ہے۔‘‘

کبائر کے مرتکبین سے ایمان کی روشنی چھین لی جاتی ہے، ان کے دلوں سے اللہ کی تعظیم جاتی رہتی ہے، اس لیے کہ جو زنا، چوری، شراب نوشی وغیرہ جیسے کبائر کا مرتکب ہوتاہے اس کے دل سے خشیتِ الہٰی، خشوع و خضوع اور ایمان کی روشنی جاتی رہتی ہے، اگرچہ اس میں تصدیق کی بنیاد باقی رہ جاتی ہے اور یہی مفہوم ہے ارتکابِ کبیرہ کے وقت ایمان کی روشنی چھین لینے کا۔

(کتاب الإیمان لابن تیمیۃ: صفحہ 29)

شرمگاہ کی خواہش کے غالب آنے کے نتائج میں سے معاصی کا بکثرت ارتکاب ہے، معصیت اگرچہ چھوٹی ہو دوسری معصیت کا راستہ ہموار کرتی ہے، اس طرح بکثرت معاصی کا ارتکاب ہونے لگتا ہے، اور مرتکب اس کی ہولناکیوں کا احساس نہیں کرتا، چنانچہ کسی اجنبی عورت کی جانب ایک نگاہ سوچنے پرمجبور کرتی ہے، پھر دل میں داعیہ پیدا ہوتا ہے، پھر شہوت پیدا ہوتی ہے، نتیجتاً زنا کے ارتکاب کا پختہ ارادہ ہوتا ہے، پھر اگر حالات سازگار ہوئے تو زنا کا ارتکاب کر لیتا ہے، اسی لیے کسی اجنبی عورت کی جانب دیکھنے کو زنا کی تمہید اور اس تک پہنچانے والے دروازوں میں سے ایک دروازہ قرار دیا گیا ہے۔ امام مسلمؒ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

کُتِبَ عَلَی ابْنِ آدَمَ نَصِیْبُہُ مِنَ الزِّنَا، مُدْرِکْ ذٰلِکَ لَا مَحَالَۃَ، فَالْعَیْنَانِ زِنَاہُمَا النَّظْرُ، وَ الْأُذُنَانِ زِنَاہُمَا الْاِسْتِمَاعُ، وَ اللِّسَانُ زِنَاہُ الْکَلَامُ، وَالْیَدُ زِنَاہَا الْبَطْشُ وَ الرِجْلُ زِنَاہَا الْخَطْأُ، وَالْقَلْبُ یَہْوِیْ وَ یَتَمَنَّی وَ یُصَدِّقْ ذٰلِکَ الْفَرْجُ أَوْ یَکْذِبُہُصحیح۔

(صحیح مسلم: رقم: 2657)

’’انسان کے لیے اس کے زنا کا حصہ لکھ دیا گیا ہے وہ یقیناً اسے پانے والا ہے، آنکھوں کا زنا (نامحرم عورت کی طرف) دیکھنا ہے، کانوں کا زنا (حرام آواز کا) سننا ہے، زبان کا زنا (ناجائز )کلام کرنا ہے، ہاتھ کا زنا (ناجائز) پکڑنا اور پاؤں کا زنا (ناجائز کام کی طرف) چل کر جانا ہے، اور دل خواہش اور آرزو کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔‘‘

اس طرح معصیت رفتہ رفتہ بندے کے دل میں گھر کرتی اور اس پر اثر انداز ہوتی ہے یہاں تک کہ وہ اس کی پروا نہیں کرتا، نہ اسے چھوڑ سکتا ہے، بلکہ زیادہ کا طلبگار ہوتا ہے۔

(أمراض النفس: صفحہ 121)

اس سلسلے میں ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں

’’معصیتیں دوسری معصیتوں کو جنم دیتی ہیں تاآنکہ بندہ ان سے الگ تھلگ نہیں ہو سکتا، وہ معصیتیں لازمی صفت، مستقل عادت اور فطرت ثانیہ بن جاتی ہیں، عاصی اگر معصیت چھوڑنا اور اطاعت شعاری کرنا چاہے تو وہ اپنے آپ میں سخت تنگی محسوس کرتا ہے تاآنکہ معصیت کا دوبارہ ارتکاب نہ کر لے، بہت سارے فاسق معصیت کا ارتکاب کسی لذت کے لیے نہیں کرتے ہیں بلکہ اس تکلیف سے بچنے کے لیے جو معصیت کو ترک کرنے کی صورت میں انھیں لاحق ہوتی ہے۔‘‘

(الجواب الکافی: صفحہ 59، 60)

شرمگاہ کی خواہش کے غالب آنے کے نتائج میں سے شرم و حیا کا ختم ہو جانا ہے، جب خواہش کے غالب آنے پر بندہ گناہوں کے ارتکاب کا عادی ہو جاتا ہے تو اس کی حالت یہ ہو جاتی ہے کہ اس کو اس کی پروا ہی نہیں ہوتی کہ لوگ اس کے قبیح افعال سے آگاہ ہو رہے ہیں، بلکہ اس طرح کے لوگ اپنے برے کاموں کو فخر سے بیان کرتے ہیں، اس لیے کہ وہ شرم و حیا سے بالکل عاری ہو چکے ہیں۔

(

شرمگاہ کی خواہش کو معمولی انحراف سے بچانے کے سلسلے میں کوتاہی رفتہ رفتہ مزید انحراف تک پہنچا دیتی ہے۔ یہاں تک کہ انسان شہوانیت کا ایسا شکار ہوجاتا ہے کہ اس کی برائیوں سے نجات مشکل ہوجاتی ہے، آخر میں دل بالکل سیاہ ہوجاتا ہے، اخلاقِ حسنہ سے بالکل عاری ہوجاتا ہے، مزید برآں اسے دیگر نفسانی و جسمانی بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں۔

أمراض النفس: صفحہ 123)

اسلام نے شرمگاہ کی خواہش کے غالب آنے سے بچاؤ کی تدبیریں پیش کی  ہیں انہی میں سے درج ذیل تدبیریں ہیں: