ابوطالب کے ایمان و کفر کی تحقیق
مولانا مہرمحمد میانوالیسوال نمبر 162: حضورﷺ کا خطبہ نکاح ابو
طالب نے پڑھا۔ اس سے الفاظ کفر دکھائیں؟
جواب: سیرت ابنِ ہشام عربی میں ہمیں وہ خطبہ نہیں ملا۔ ہاں روض الانف سہیلی: جلد، 1 صفحہ، 122 سے بحوالہ سیرت المصطفیٰ: جلد، 1 صفحہ، 93 سے خطبہ نکاح کے اتنے لفظ ملے ہیں:
اما بعد فان محمدا ممن لا يوازن به فتى من قريش الا رجح به شرفا و نبلا و فضلا و عقلا وان كان فی المال قل فانه ظل زائل و عارية مسترجعة وله فی خديجة بنت خويلد رغبة ولها فيه مثل ذلك
ترجمہ: محمدﷺ وہ ہیں کہ قریش میں سے جو جوان بھی شرف اور رفعت اور فضیلت اور عقل میں آپﷺ کے ساتھ تولا جائے تو آپ ہی بھاری رہیں گے۔ مال میں اگرچہ آپ کم ہیں لیکن مال ایک زائل ہونے والا سایہ ہے اور واپس کی جانے والی مانگی ہوئی چیز ہے یہ خدیجہ بنتِ خویلہ کو چاہتے ہیں اور وہ ان کو چاہتی ہے۔
اس خطبہ میں نہ لا الہ الا اللہ کا اقرار ہے نہ حضرت محمدﷺ بن عبداللہ کو رسول و نبی کہا گیا ہے جو مدارِ ایمان ہے تو محض خطبہ پڑھنے سے حضرت ابوطالب کو مؤمن نہ کہا جائے گا ہاں اس وقت کفر کی بھی صراحت نہیں ہے کیونکہ آپ نے توحید و رسالت کی ابھی دعوت بھی نہیں دی تھی تو وہ کس چیز کا انکار کر کے کافر کہلاتے جیسے پندرہ سال بعد بعثت کے وقت کلمہ توحید و رسالت کا انکار کرنے کی وجہ سے بشمول ابوطالب کئی قریش کافر بنتے گئے۔ اس توجہیہ سے حضور اکرمﷺ کے والدین سے بھی ہم کفر کی نفی کرتے ہیں۔
سوال نمبر 163: صحرا میں ابوطالب کو حضورﷺ نے پانی پلایا اور حضورﷺ سے بیماری میں ابو طالب نے دعا کرائی، صحت پائی۔ (ابنِ سعد، اصابہ، خصائصِ کبریٰ: جلد، 1 صفحہ، 185) کیا یہ مقام حق الیقین نہیں ہے؟
جواب: سب قریش حضورﷺ کو امین، صادق، نیک، بزرگ اور مستجاب الدعوات خدا کا بندہ جانتے تھے اگر ابو طالب نے کلمہ پڑھے بغیر آپﷺ سے دعا کرائی اور چشمہ پھوٹنے کا معجزہ دیکھا تو اپنی قوم سے انوکھا کام نہیں کیا۔ اس سے حق الیقین کیا نفس ایمان بھی ثابت نہیں ہوتا۔ اگر دولتِ ایمان حاصل ہوتی تو طلب کے باوجود اپنی بیٹی اُمِ ہانی کا رشتہ حضور اقدسﷺ سے کرتے ہبیرہ بن ابی وہب مخزومی سخت کافر سے نہ کرتے۔ (اصابہ و ابنِ سعد) نیز گھر کا ماحول مومنانہ ہوتا۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ آپ کے بیٹے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ جو آپ کی ناداری کی وجہ سے حضرت عباسؓ اور حضور علیہ الصلوة والسلام کی پرورش میں تھے دولتِ ایمان سے مشرف ہوئے اور اپنے زیرِ کفالت طالب اور عقیل کافر رہے۔ طالب بدر میں مقتول ہوا۔ عقیل قید ہوا، سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ فتح مکہ پر مسلمان ہوئے۔
جب آغازِ اسلام میں مکے والوں پر تکذیب کی وجہ سے قحط سالی کا عذاب آیا جس کا ذکر پارہ 14 ع 21 میں ہے تو سب کفار آپﷺ سے دعائیں کرانے آتے تھے اسی طرح فتح مکہ سے پہلے حضرت ابو سفیانؓ معاہدہ کی تحریر کرانے آیا تھا تو قحط زدہ قوم کے لیے دعا کرانے کی حضور اکرمﷺ سے درخواست کی تھی۔
سوال نمبر 164: ابو طالب نے شعب کی قید سے خلاصی پا کر یہ دعا کی تھی اللهم انصرنا على من ظلمنا و قطع رحمنا واستحل ما يحرم علينا، کیا منکرِ خدا ایسی دعا مانگتا ہے؟
جواب: ہم بحوالہ قرآن پارہ 19 سورۃ فرقان آخری آیت و سورۃ لقمان وغیرہ بتا چکے ہیں کہ سب کفار قریش خدا کو مانتے اور اس سے دعائیں کرتے تھے تو مشرک و کافر منکرِ خدا نہیں ہوتا ہاں خدا کا شریک بناتا اور شریعت و رسالت کا انکار کرتا ہے۔
سوال نمبر 165: کوئی ایسی روایت بتائیں جس میں ابوطالب کی بت پرستی کا ذکر ہو؟
جواب: اصول کافی میں سیدنا جعفر صادق رحمۃ اللہ سے منقول ہے کہ ابو طالب کی مثال اصحابِ کہف کی سی ہے۔ جو ایمان کو اپنے دل میں چھپائے ہوئے تھے اور عملاً شرک کا اظہار کیا کرتے تھے۔ جس کے عوض خدا نے ان کو دوہرا اجر عطا فرمایا تھا۔
(ترجمہ مقبول شیعہ: صفحہ، 469 پارہ، 20 زیرِ آیت اِنَّكَ لَا تَهۡدِىۡ ۔الآیۃ)
سیدنا صادق رحمۃ اللہ کی اس سچی خبر سے پتہ چلا کہ آنجناب عملاً شرک کا ارتکاب کرتے تھے اور یہی قریش کا مروجہ بت پرستی والا مذہب تھا۔ بت پرستی کے سوا شرک عملی کی اور کوئی صورت ہو تو شیعہ ہی بتائیں۔ اس میں اصحابِ کہف کی مثال بالکل بے ربط اور غلط ہے۔ کیونک وہ ظاہراً اور باطناً مؤحد تھے۔ خدا فرماتا ہے: اِنَّهُمۡ فِتۡيَةٌ اٰمَنُوۡا بِرَبِّهِمۡ وَزِدۡنٰهُمۡ هُدًى ۞ وَّرَبَطۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ اِذۡ قَامُوۡا فَقَالُوۡا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ لَنۡ نَّدۡعُوَا۫ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اِلٰهًا لَّقَدۡ قُلۡنَاۤ اِذًا شَطَطًا ۞ هٰٓؤُلَاۤءِ قَوۡمُنَا اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً لَوۡ لَا يَاۡتُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ بِسُلۡطٰنٍۢ بَيِّنٍ فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا ۞ وَاِذِ اعۡتَزَلۡتُمُوۡهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاۡوٗۤا اِلَى الۡكَهۡفِ
(سورۃ الكهف: آیت 13، 16)
ترجمہ: بے شک وہ ایسے جوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کے دلوں کو مضبوط کر دیا تھا جب کہ وہ کھڑے ہو گئے اور انھوں نے یہ کہہ دیا کہ ہمارا پروردگار تو آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے ہم ہرگز اس کے سوا کسی دوسرے معبود کو نہ پکاریں گے۔ (اگر ایسا کریں) تو اس صورت میں گویا ہم نے بہت ہی ناسزا بات کہی۔ ہماری قوم نے تو اس کے سوا بہت سے خدا بنا لیے ہیں۔ پھر ان خداؤں کے متعلق کوئی دلیل کیوں نہیں پیش کرتے پس اس سے زیادہ ظالم کون ہو گا جو اللہ پر بہتان باندھے اور اب جب کہ تم ان سے الگ ہو چکے ہو اور جن چیزوں کو وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں ان کو چھوڑ چکے ہو تو کسی غار میں چل رہو۔ الخ (القرآن پارہ 15 سورۃ کہف رکوع 2 ترجمہ مقبول شیعہ: صفحہ، 352)
یہ ایک کھلی تاریخی حقیقت ہے کہ حضرت ابوطالب نے نہ کلمہ توحید و رسالت پڑھا، نہ اتباعِ پیمبرﷺ میں اپنی قوم کی بت پرستی کی تردید کی نہ ان سے علیحدہ ہوئے، نہ کافروں نے ان کو اپنے مذہب کا مخالف اور مسلمان سمجھ کر تکلیف و ایذاء پہنچائی جیسے انھوں نے آپ کے صاحبزادے سیدنا جعفر طیار رضی اللہ عنہ کو ہجرت پر مجبور کر دیا تھا تو وہ اصحابِ کہف جیسے کیسے ہوئے۔ یہ ایک بے بنیاد دعویٰ ہے جو شیعوں کے امام کو ہی زیب دیتا ہے۔
سوال نمبر 166: ایسی روایت بتائیں جو یہ ثابت کرے کہ فلاں وقت حضرت ابو طالب نے عقیدہ توحید کی مخالفت کی۔
جواب: موافقت بھی نہیں کی تبھی تو آپ کا نام عبدِ مناف بت کے نام پر تھا اور بیٹے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے ہجرت کی، سنی و شیعہ کی متفقہ قدیم ترین کتاب سیرت ابنِ ہشام میں ہے:
اہلِ علم کا بیان ہے کہ رسولِ خداﷺ نماز کے وقت مکہ کی گھاٹیوں میں چلے جاتے، حضرت علیؓ ابن ابی طالب جبکہ دس سال کے لڑکے تھے، اپنے باپ، سب چچوں اور باقی قوم سے چھپ کر آپ کے ساتھ ہو جاتے اور نمازیں پڑھتے، شام کو واپس آتے ایک عرصہ تک جتنا اللہ نے چاہا ایسا کرتے رہے ایک دن ابو طالب کو ان کے نماز پڑھنے کا پتہ چل گیا تو رسولِ خداﷺ سے پوچھا کہ یہ کون سا دین ہے جس کا پابند میں تم کو دیکھ رہا ہوں توحضور اقدسﷺ نے فرمایا: اے چچا یہی اللہ کا، اللہ کے فرشتوں کا، اللہ کے پیغمبروں کا اور ہمارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دین ہے۔ او کما قال صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اللہ نے یہی دین دے کر بندوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے، اے چچا جن لوگوں کی خیر خواہی کر کے میں ان کو ہدایت کی طرف بلاؤں اور وہ میری بات مانیں اور میری امداد کریں ان سب سے زیادہ اس دین کو ماننے کے آپ حق دار ہیں۔ تو ابو طالب نے کہا:
اى ابن اخی إنى لا استطيع انی افارق دین آباءی و ما كانوا عليه
ترجمہ: اے بھتیجے میں اپنے باپ دادے کا دین اور جس چیز (بت پرستی) پر وہ تھے اسے چھوڑ نہیں سکتا۔
لیکن میری موجودگی میں آپ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچ پائے گی۔ (سیرت ابنِ ہشام: جلد، 1 صفحہ، 264 ذکر اسلام علیؓ مطبوعہ بیروت 1355ھ)
اگر ابو طالب مخالفِ توحید نہ ہوتے تو حضرت علی المرتضیٰؓ کو آپ سے چھپنے کی کیا ضرورت تھی؟ پھر آپ نے صاف طور پر اس توحید و رسالت اور ایمان کو اپنے بیٹے سیدنا علی المرتضیٰؓ کی طرح قبول کیوں نہ کر لیا اور اپنے باپ دادے کے مذہب پر کاربند رہنے کا اصرار کیوں کیا، صرف سربراہِ خاندان کی حیثیت سے اتنی حمایت ظاہر کی کہ میری زندگی میں آپﷺ کو تکلیف نہ پہنچے گی، ایسی حمایت کتنے شریف غیر مسلم آج بھی اپنے مسلم رشتہ داروں کی کرتے رہتے ہیں جو ان کے ایمان و اسلام کی دلیل نہیں ہو سکتی۔
سوال نمبر 167: ایسا واقعہ بتائیں کہ ابوطالب نے غیر اللہ معبودوں کی حمایت و تعریف کی ہو؟
جواب: آباء و اجداد کی مذکورہ بالا تصریح جواب کافی ہے کیونکہ بت پرست آباء و اجداد کے مذہب پر اصرار، رسولِ خداﷺ کی توحید و ہدایت کے بالمقابل غیراللہ کی حمایت و تعریف ہی ہے۔
سوال نمبر 168: کیا شعب ابی طالب میں ابو طالب نے غیر خداؤں کی عبادت کی؟
جواب: اس کے متعلق کتبِ سیرت میں صراحت ہے:” ابوطالب نے مجبور ہو کر مع خاندان کے شعب ابی طالب میں پناہ لی۔ بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب مؤمن اور کافر سب نے آپ کا ساتھ دیا۔ مسلمانوں نے دین کی وجہ سے اور کافروں نے خاندانی اور نسبی تعلق کی وجہ سے بنو ہاشم میں سے صرف ابو لہب قریش کا شریک رہا۔
(سیرت المصطفیٰ: جلد، 1 صفحہ، 200 ابنِ سعد: جلد، 1 صفحہ، 139 ابنِ ہشام: جلد، 1 صفحہ، 122 طبع قدیم)
پتہ چلا کہ خاندانی لحاظ سے یہ شرکتِ شعب مؤید ایمان نہیں ہے، پھر غیر اللہ کی عبادت کے لیے یہ ضروری نہ تھا کہ بت ہر وقت پاس یا سامنے ہوں ان سے غائبانہ استعانت بھی شرک ہے۔ یہ کافر لوگ شعب میں بھی یقیناً اپنے مذہب پر عمل کرتے ہوں گے اور حضورﷺ کے پیچھے ان کے نمازیں پڑھنے کا تو کوئی ثبوت نہیں تو فیصلہ اصل بنیاد پر ہو گا کہ کافر اپنے مذہب پر رہے۔ خواہ بت پرستی کا ذکر نہ ملے اور مسلمان اپنے مذہب پر رہے۔
سوال نمبر 169: حضور اکرمﷺ غیر اللہ کا ذبیجہ نہ کھاتے تھے۔ ابوطالب کے دستر خوان پر کھانا کھاتے تھے معلوم ہوا کہ ابوطالب مشرک نہ تھے۔
جواب: ابو طالب کے دستر خوان پر ہمیشہ کھانا مسلم نہیں۔ تاریخ میں ہے کہ جناب عبدالمطلب نے آپﷺ کو اپنے بڑے مال دار صاحبزادے زبیر کے سپرد کیا ان کے ہاں آپﷺ کی پرورش ہوئی جو معاہدہ حلف الفضول (جب حضورﷺ کی عمر 23 برس تھی۔) میں شریک تھے۔ پھر آپ مستقل صاحبِ روزگار اور تاجر بن گئے اور اپنا کھاتے تھے۔ علاوہ ازیں غیر اللہ کا ذبیحہ ان کے تھانوں اور مخصوص میلوں، عرسوں پر بٹتا تھا۔ حضور اقدسﷺ نے واقعی ایسا گوشت اور تبرک کبھی نہ کھایا، گھر کا تیار شدہ کھانا ایسا نہ ہوتا تھا یا وہ بازار سے خریدا جاتا یا گھر میں بنامِ خدا ذبح کر کے تیار کیا جاتا تھا اور یہ تو معلوم ہے کہ اس وقت بھی مشرک ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیتے تھے اور تکبیر پڑھ کر ذبح کرتے تھے تو اس کا کھانا حلال تھا۔ مشرک کے ذبیحہ کی حرمت بسم اللہ اللہ اکبر پڑھنے کے باوجود۔ وہ خالص اسلامی مسئلہ ہے جو بعد میں اسلام نے پیش کیا۔ اس کا اطلاق عہدِ جاہلیت کے عام ذبیحوں پر نہیں کیا جائے گا۔ جیسے شریعتِ ابراہیمی کے مطابق نکاح جائز تھے گھروں میں ذبیحے بھی درست تھے۔
نوٹ: ہم نے بادل نخواستہ ان دس سوالوں کے جواب میں حضرت ابو طالب کے متعلق شیعہ غلو کی نفی کی ورنہ ہمیں آپ کی ذات سے بغض و کدورت نہیں بلکہ ہم دعویٰ نبوت کے بعد ان کی کفار کے مقابل حضور اکرمﷺ کی حمایت اور طرف داری کا پورا احترام کرتے ہیں اور لفظ حضرت، جناب وغیرہ کے ساتھ ان کا با ادب ذکر کرتے ہیں مگر ان کا اسلام قبول نہ کرنا ایک تاریخی حقیقت ہے اور اہلِ سنت والجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے۔
حافظ تور پشتی لکھتے ہیں کہ ابو طالب کا کفر حد تواتر کو پہنچ چکا ہے۔
مولانا محمد ادریس کاندھلوی سیرت المصطفیٰ: جلد، 1 صفحہ، 207 حاشیہ پر فرماتے ہیں، اہلِ سنت میں ان کے کفر کے متعلق کوئی اختلاف نہیں۔ البتہ روافض ابوطالب کے ایمان کے قائل ہیں۔ اہلِ سنت کے مختصر دلائل یہ ہیں:
1: مسند احمد، بخاری، مسلم اور نسائی میں ہے کہ جب آپﷺ نے ابو طالب کے سامنے مرتے وقت کلمہ پیش کیا کہ ایک مرتبہ پڑھ لو تاکہ تمہاری سفارش کر سکوں، اس وقت ابو جہل اور عبداللہ بن امیہ نے کہا، کیا تم عبدالمطلب کی ملت کو چھوڑتے ہو؟ تو ابو طالب نے لا اله الا اللہ کہنے سے انکار کر دیا اور آخری کلمہ علی ملة عبد المطلب کہا۔ بعض روایات میں ہے کہ یوں کہا کہ میں نے آگ کو کلمہ پڑھنے کی شرمندگی پر (رؤسا کے سامنے) ترجیح دی۔ پھر حضورﷺ تو کمالِ شفقت سے استغفار کرنے لگے مگر یہ آیت نازل ہونے پر چھوڑ دیا۔
مَا كَانَ لِلنَّبِىِّ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡاۤ اَنۡ يَّسۡتَغۡفِرُوۡا لِلۡمُشۡرِكِيۡنَ وَ لَوۡ كَانُوۡۤا اُولِىۡ قُرۡبٰى (سورۃ التوبة: آیت 113)
ترجمہ: نبی کریمﷺ اور ایمان والوں کے لیے جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے استغفار کریں خواہ ان کے رشتہ دار بھی ہوں۔
اور یہ آیت بھی نازل ہوئی:
اِنَّكَ لَا تَهۡدِىۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهۡدِىۡ مَنۡ يَّشَآءُ (سورۃ القصص: آیت 56)
ترجمہ: آپﷺ جس کو چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔
2: شیعہ تفسیر البرہان: جلد، 3 صفحہ، 21 میں ہے کہ یہ آیت ابو طالب کے حق میں اتری۔
3: اور ترجمہ مقبول شیعہ: صفحہ، 469 حاشیہ آیتِ بالا میں تفسیر قمی کے حوالے سے مذکور ہے:
کہ یہ آیت حضرت ابوطالب عمِ رسولِ خداﷺ کی شان میں نازل ہوئی۔ آنحضرتﷺ ان سے یہ فرمایا کرتے تھے کہ چچا جان لا اله الا اللہ کہہ دیجئے میں قیامت کے دن اس کے ذریعے آپ کو نفع پہنچاؤں گا اور وہ یہ کہا کرتے تھے کہ پیارے بھتیجے میں اپنی ذاتی حالت سے خوب واقف ہوں۔
4: اہلِ سنت کی فتح الباری: جلد، 7 صفحہ، 148 پر حضرت علی المرتضیٰؓ سے مروی ہے کہ جب ابو طالب مر گئے تو میں نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا کہ آپﷺ کا گمراہ چچا مر گیا آپﷺ نے فرمایا: جاؤ دفن کر آؤ۔ میں نے عرض کی وہ تو مشرک مرا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: ”ہاں دفن کر آؤ۔ یہ حدیث ابو داؤد و نسائی میں ہے۔ حافظ عسقلانی رحمۃ اللہ اصابہ میں فرماتے ہیں: ابنِ خزیمہ نے اس حدیث کو صحیح بتلایا ہے۔ (اصابہ: جلد، 4 صفحہ، 117)
5: مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا۔ اس مسئلہ پر فقہاء نے استدلال موت ابی طالب سے کیا ہے۔ کیونکہ ان کے چار بیٹے تھے، طالب ، عقیل، حضرت جعفرؓ و حضرت علیؓ، ابوطالب کی میراث صرف طالب اور عقیل کو ملی جو باپ کے مذہب (شرک) پر تھے اور سیدنا علیؓ و سیدنا جعفرؓ کو نہیں ملی کہ یہ دونوں مسلمان تھے۔ (المعتمد فی المعتقد)
6: شیعہ بھی ان کے صرف باطناً مؤمن ہونے کے قائل ہیں۔ مسلمان ہونے اور کلمہ پڑھنے کے قائل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی کسی روایت سے بھی ان کا کلمہ پڑھنا، خود کو مسلم کہنا یا مؤمن ہونے کا دعوے دار ہونا ہرگز ثابت نہیں کر سکتے۔ جب اسلام کے لیے اقرارِ شہادتین شرط ہے اور تبراء از کفار بھی ضروری ہے یہ دونوں باتیں ابوطالب میں نہ پائی گئیں تو ایمان کا دعویٰ بے بنیاد ثابت ہوا پھر شیعہ خدماتِ رسولﷺ کی بناء پر آپ کو مؤمن نہیں کہتے۔ بلکہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے باپ ہونے کی وجہ سے۔ کہ امام کا باپ بھی مؤمن ہوتا ہے اور بعض غالی تو ان کو نبی مانتے ہیں اور بے دھڑک علیہ اسلام استعمال کرتے ہیں۔ خدا ایسے غلو اور شرک فی النبوت سے بچائے۔
سوال نمبر 170: خصائصِ کبریٰ کے حاشیہ از خلیل ہراس پر یہ روایت ہے: بل منهم من هو مشرك فابوه و آباءه من عبد المطلب إلى اسماعيل بن ابراهيم۔ معلوم ہوا کہ ذبیح اللہ بھی آپ کے مذہب میں مشرک تھے؟
جواب: بہتانِ محض ہے۔ پیش کردہ عبارت میں سب کے سب مشرک تھے۔ کسی لفظ کا ترجمہ نہیں، من تبعیضیہ کا استعمال ہے کہ کچھ شرک کرنے والے تھے اور یہ بھی بعثت سے ڈھائی سو سال قبل تک ممکن ہو گا جب سے عمرو بن لحی نے شام سے بت لا کر خانہ کعبہ میں رکھ دیئے۔ اس کے اثر و رسوخ اور 100، 100 اونٹ روزانہ ذبح کر کے کھلانے کی وجہ سے عام عرب بت پرستی میں مبتلا ہو گئے ورنہ اس سے پہلے عرب و قریش بالعموم اپنی فطرت اور ملتِ ابراہیمی پر صحیح العقیدہ تھے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام صادق الوعد رسول و نبی تھے، کسی کے وہم میں بھی نہیں آ سکتا جو کفریہ بات شیعہ سائل نے اہلِ سنت پر تھوپ دی، الیٰ کا مابعد، پہلے کے حکم سے خارج ہے۔ جیسے ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى الَّيۡلِ (روزہ رات تک پورا کرو) جیسے رات روزہ کے حکم سے خارج ہے۔
سوال نمبر 171، 172: بھی اسی غلط فہمی پر مبنی ہیں۔ جس کا ازالہ ہو چکا۔
سوال نمبر 173: ورقہ بن نوفل نے اعلانِ نبوت سے پہلے تصدیق کی۔ ان کو مسلم اوّل تم کیوں نہیں کہتے؟
جواب: جب مسلمان سازی کا کام دعویٰ نبوت کے بعد شروع ہوا تو جن اہلِ کتاب عالموں یا راہبوں نے آپﷺ کو پہلے دیکھ کر نبی ہونے کی پیشین گوئی کی تھی ان کو مسلم اوّل و دوم میں نہ گنا جائے گا۔ کیونکہ معرفت کافی نہیں۔ تصدیق مع تبری از دینِ سابق شرطِ ایمان ہے۔ جو علماء اہلِ کتاب سے ثابت نہیں۔
سوال نمبر 174: بھی اسی جواب سے حل ہو گیا، کہ بحیرا کی تصدیق قبل از بعثت تھی۔
سوال نمبر 175: امام بخاریؒ نے امام ابو حنیفہؒ کو خادع المسلمین کہا، کون سچا ہے؟
جواب: حدیث و فقہ کے اپنے اپنے فن میں دونوں بزرگ امام اور یکتائے زمانہ ہیں۔ اہلِ سنت کے اعتقاد میں بڑے بڑے لوگوں میں کسی بات پر غلط فہمی ہو سکتی ہے۔ لہٰذا یہ معاصرانہ چشمک یا اپنے برابر درجہ والے سے ایک قسم کی تنقید ہو گی جس میں ناقد کو ظاہری اطلاعات ملنے کی وجہ سے معذور تو سمجھا جائے گا۔ مگر دوسرے کے متعلق فی الحقیقت ایسا اعتقاد نہ رکھا جائے گا اور غلط فہمی کا منشاء وہ اطلاعات اور اخبارات ہوتی ہیں جن کا مخالفین پروپیگنڈہ کرکے بڑے بڑے لوگوں کو اہم شخصیات سے بدظن کر دیتے ہیں۔ اس کی مثالیں ہمارے دور میں بھی بکثرت مل سکتی ہیں۔ اس لیے اگر بعض فقہی مسائل میں امام ابوحنیفہؒ سے امام بخاری رحمۃ اللہ کو اختلاف تھا تو یہ مطلب نہیں کہ وہ خادع المسلمین تھے ایسے اختلافات خود شیعہ کے معصوم ائمہ، ان کے پیرو کاروں اور اصولی و اخباری فقہاء شیعہ میں لاتعداد ہیں۔ مثال کی ضرورت نہیں۔ عاقل را اشارہ کافیست۔
سوال نمبر 176: تاریخ الصغیر میں ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کو صرف تین حدیثیں حلاق سے ملیں تو ان کی کیسے تقلید کی جائے؟
جواب: یہ قول منقطع اور مردود ہے یہ حمیدی سے مروی ہے اور حمیدی نے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ کا زمانہ بالکل نہیں پایا۔ لہٰذا ایسے واہی قول سے امام اعظمؒ پر طعن نہیں کیا جا سکتا۔ دیکھیے ( تانیب الخطیب صفحہ 48 للعلامہ الکوثری)
سوال نمبر 177: کتابِ مذکور کے صفحہ 171 پر ہے کہ سفیان نے ابوحنیفہؒ کو اسلام کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے والا اور منحوس ترین شخص کہا ہے، کیا اس روایت کو صحیح تسلیم کر لیا جائے؟
جواب: ہرگز نہیں، کیونکہ پہلی کی سند میں نعیم بن حماد کے سوا اور کوئی وضاع راوی نہ بھی ہوتا تو خبر کو مردود بنانے کے لیے کافی تھا۔ اب تو نعیم کے ساتھ اور بھی ایسے ہیں اور یہ نعیم ابو حنیفہؒ کے حق میں خوب برائیاں گھڑتا ہے اور دوسری بات کی سند میں ثعلبہ بن سہیل قاضی ہے جو ضعیف ہے اور جریر بن عبد الحمید مضطرب الحدیث ہے جو سلیمان بن حرب کے ریوڑ چرانے کے لائق ہے اور برے حافظے والا ہے۔ ایک راوی سلیمان بن عبداللہ ابو الولید الرقی ہیں۔ ابنِ معین کہتے ہیں کچھ بھی نہیں۔ سفیان ثوری رحمۃ اللہ کی طرف ایسی باتوں کی اکثر نسبت اٹکل بچو کے طور پر ہے اگرچہ سفیان ثوریؒ اور امام ابو حنیفہؒ میں معاصرانہ اختلافِ آراء ممکن ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ اختلافی مسائل میں امام ثوریؒ امام ابو حنیفہؒ کے سب سے بڑھ کر مقلد تھے۔ ایک مرتبہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ نے اقرار کیا کہ امام ثوریؒ مجھ سے بھی زیادہ امام ابو حنیفہؒ کے پیروکار ہیں۔ خطیب بغدادی نے بھی تاریخِ بغداد صفحہ، 341 پر سفیان ثوریؒ کے امام ابو حنیفہؒ کے حق میں تعریف و احترام والے اقوال نقل کیے ہیں اور ابنِ عبدالبر نے الانتقاء صفحہ، 127 پر ایسی بہت سی روایات ذکر کی ہیں جو امام ثوریؒ کے ہاں امام ابو حنیفہؒ کی قدر و منزلت پر صریح دلیل ہیں۔ حاصل یہ ہے کہ امام ثوری رحمۃ اللہ ان بہتانوں سے بالکل بری اور پاک ہیں۔ (تانیب الخطیب: صفحہ، 110 للزاہد الکوثری)
امام بخاری رحمۃ اللہ نے علو مرتبت کے باوجود ان جعلی اقوال کو بلاتحقیق ذکر کر دیا۔ اللہ ان کو معاف کرے۔ حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کی جلالتِ شان اور مرجع تقلید ہونے پر امام سفیان بن عیینہ کا ہی یہ قول کافی ہے: امام ابوحنیفہؒ سب لوگوں سے زیادہ (اور اچھی) نماز پڑھنے والے سب سے بڑے امین تھے۔ سب سے زیادہ شریف اور خوش اخلاق تھے۔ نیز فرمایا: ابو حنیفہؒ نے ہی مجھے حدیث کی گدی پر بٹھایا اور لوگوں میں اعلان کیا کہ عمرو بن دینار کی احادیث کو سب سے زیادہ جاننے والا یہ ہے۔ تو لوگ میرے پاس جمع ہو گئے اور میں ان سے حدیثیں بیان کرنے لگا۔ (تانیب الخطیب: صفحہ، 108)