Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شیعہ قرآن کو نہیں مانتے

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

اسلام کا مایہ ناز، اسلام کا زندہ معجزہ، خدائے پاک کا مقدس صحیفہ قرآن کریم ہے؛ جس کے متعلق غیر اقوام کو بھی اس امر کا قائل ہونا پڑا ہے کہ یہ ایک کامل مکمل کتاب ہے۔ جس کا ایک کلمہ، ایک حرف، ایک نقطہ تک بھی تبدیل نہیں ہوا ہے نہ ہو سکتا ہے۔ چنانچہ ایک عیسائی مصنف سرولیم میور سابق لیفٹیننٹ گورنر صوبہ متحدہ لائف آف محمد میں رقم طراز ہے۔ "یہ واضح اور اور کامل قرآن ہے اور اس میں ایک لفظ بھی تحریف نہیں ہوا" ہم ایک بڑی مضبوط بنا پر دعویٰ کر سکتے ہیں کہ قرآن کی ایک ایک آیت خالص اور غیر متغیر صورت میں ہے اور آخر کار ہم اپنی بحث کو ولیم صاحب کے فیصلہ پر ختم کرتے ہیں۔ وہ فیصلہ یہ ہے کہ "ہمارے پاس جو قرآن ہے ہم کامل طور پر اس پر ہر لفظ محمدﷺ کا سمجھتے ہیں، جیسا کہ مسلمان اس کے ہر لفظ کو خدا کا لفظ خیال کرتے ہیں۔"

لیکن افسوس ہے کہ شیعہ باوجود مدعی اسلام ہونے کے صرف اس خیال سے کہ قرآن پاک کی تدوین و ترتیب خلیفہ ثالث حضرت عثمانؓ نے کی ہے، اس کو قرآن نہیں مانتے بلکہ شیعہ کا اعتقاد ہے کہ اصلی قرآن وہ تھا جو حضرت علیؓ نے جمع کیا تھا اور اصحابِ ثلاثہؓ کو پیش کیا تھا، انہوں نے اس کو قبول نہ کیا تو حضرت علیؓ نے اس کو ایسا غائب کیا کہ قیامت سے پہلے اس کا نکلنا محال ہے۔ چنانچہ شیعہ کی بڑی مستند کتاب اصول کافی مطبوعہ نولکشور 1302ھ صفحہ 39 میں یوں لکھا ہے۔ 

عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرَ يَقُولُ مَا ادَّعىٰ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ إِنَّهُ جَمَعَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ كَمَا أُنزِلَ إِلَّا كَذَّابٌ وَمَا جَمَعَهُ وَمَا حَفِظَهُ كَمَا نَزَّلَهُ اللَّهُ إِلَّا عَلِیٌّ بْنُ أَبی طَالِبٍ وَالْأئمتهُ مِنْ بعده

"جابر کہتا ہے، میں نے امام محمد باقر سے سنا اور وہ کہتے تھے کہ جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ اس نے سارے قرآن کو جیسا کہ نازل ہوا ہے جمع کر لیا ہے۔ وہ بڑا جھوٹا ہے۔ قرآن کو جیسا کہ خدا نے نازل کیا بغیر علیؓ اور ائمہ بعد کے کسی نے جمع نہیں کیا۔

نتیجہ صاف ہے کہ چونکہ قرآن موجودہ باتفاق فریقین جمع کردہ علیؓ نہیں ہے بلکہ جمع کردہ عثمانؓ ہے، اس لیے اس کو مکمل قرآن کہنے والے جھوٹے ہیں۔ (معاذ اللہ)

اور سنیے شیعہ کی دوسری مستند کتاب جلاء العیون اردو مطبوعہ مطبع جعفری لکھنو کے صفحہ 72 میں یوں درج ہے کہ ابوبکرؓ نے جناب امیرؓ کو اپنی بیعت کے لیے بلایا۔

جناب امیر (علیؓ) نے فرمایا کہ میں نے قسم کھائی ہے کہ جب تک قرآن جمع نہ کر لوں، گھر سے باہر نہ آؤں اور چادر دوش پر نہ ڈالوں۔ بعد چند روز کلام اللہ ناطق یعنی جناب امیرؓ نے قرآن کو جمع فرمایا اور جزدان میں رکھ کر سر بمہر کر دیا اور مسجد میں تشریف لا کر مجمع مہاجرین و انصار میں ندا فرمائی کہ اے گروہِ مردماں جب میں دفن پیغمبر آخرالزمانﷺ سے فارغ ہوا، بحکمِ آنحضرتﷺ قرآن جمع کرنے میں مشغول ہوا اور جمیع آیات و سور ہائے قرآنی کو میں نے جمع کیا ہے اور کوئی آیت آسمان سے نازل نہیں ہوئی جو حضرت نے مجھے نہ سنائی ہو اور اس کی تاویل مجھے نہ تعلیم کی ہو، چونکہ اس قرآن مجید میں چند آیات کفر و نفاق منافقان قوم و نص خلافت جناب امیرؓ پر صریح تھے۔ اس وجہ سے عمرؓ نے اس قرآن کو قبول نہ کیا۔ پس جناب امیرؓ خشمناک اپنے حجرہ طاہرہ کی طرف تشریف لے گئے اور فرمایا کہ اس قرآن کو تم لوگ تا ظہور قائم آل محمد (امام مہدی) نہ دیکھو گے۔

اس عبارت سے بوضاحت ثابت ہو گیا کہ حسبِ اعتقاد شعیہ اصلی قرآن وہ تھا جو حضرت علیؓ نے جمع کر کے اصحابؓ کو پیش کیا۔ انہوں نے منظور نہ کیا تو آپؓ خفا ہو کر اپنے حجرہ میں چلے گئے اور کہا کہ اب اس قرآن کو تم لوگ امام مہدی کے ظہور سے پہلے ہرگز نہ دیکھو گے۔

اسی طرح اصول کافی: صفحہ 471 حدیث بروایت امام صادق اسی مضمون کی درج ہے جس میں لکھا ہے ۔ 

فَقَالَ وَاللهِ مَا تَرَوْنَهٗ بَعْدَ يَوْمِكُمْ هَذَا أَبَدًا

(حضرت علیؓ نے کہا خدا کی قسم اس قرآن کو آج کے بعد تم کبھی نہ دیکھو گے)

اور لیجیے اصول کافی: صفحہ 671 میں ہے۔

عَنْ هِشَامِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ أَبی عَبْدِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ إِنَّ الْقُرْآن الَّذِی جَاءَ بِهٖ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى مُحَمَد صَلَّى اللَّهِ عَلَيْهِ وَالِهِ سَبْعَةُ عَشَرَ الْفَ آيَة

"ہشام ابن سالم نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا کہ جو قرآن جبرائیلؑ رسول پاکﷺ کے پاس لے کر آئے وہ سترہ ہزار آیات کا ہے۔"

اس حدیث نے تو شیعہ کے مزعومہ قرآن کی آیتیں بھی گن دیں اور صاف بتا دیا کہ جو اصلی قرآن جبرائیلؑ نے نبی کریمﷺ کو پہنچایا تھا وہ 17 ہزار آیات کا قرآن ہے۔ چونکہ موجود قرآن 17 ہزار آیات کا نہیں بلکہ 6666 آیتوں کا ہے، اس لیے یہ مکمل قرآن نہیں ہو سکتا۔ اب کہا جائے گا کہ یہ اعتقاد متقدمین شیعہ کا ہوگا آج کل کے شیعہ اس قرآن کو مکمل اور صحیح سمجھتے ہیں۔ سو یہ خیال بھی درست نہیں ہے۔ کیونکہ ناممکن ہے کہ کوئی شخص شیعہ ہو کر سیدنا جعفرؒ کی اس حدیث کو جھٹلا سکے۔ نیز قول امیر مندرجہ جلاء العیون کی تکذیب کر سکے۔ اس میں کلام نہیں کہ آج کل کے شیعہ بھی اس قرآن کو صحیح نہیں مانتے اور ان کا اعتقاد بھی اس فرضی قرآن پر ہے جو بخیال ان کے حضرت علیؓ نے جمع کیا تھا اور اب اس کو امام منتظر مہدی بغل میں دبائے کہیں غار میں چھپے ہوئے ہیں، لیکن اس امر کے ثبوت کے لیے کہ زمانہ حال کے شیعہ بھی اس قرآن کو نہیں مانتے، تحریری ثبوت پیش کیا جاتا ہے تاکہ مخالف کو چون و چرا کی گنجائش باقی نہ رہے 

لو سنو! آج کل شیعہ حضرات کے بڑے مجتہد و مسلم پیشوا جناب مولوی سید علی الحائری لاہوری ہیں۔ ان کے نفس ناطقہ مرزا احمد علی امرتسری نے ایک رسالہ اردو موسومہ "الانصاف فی الاستخلاف" تصنیف کر کے شائع کیا ہے۔ اس کے ٹائٹیل کے دوسرے صفحہ پر مولوی حائری نے تقریظ لکھی ہے، جس میں مصنفِ رسالہ کی تعریف اور رسالہ کی تصدیق و توثیق کر کے آخر میں اپنی مہر ثبت کر دی ہے۔ اس رسالہ کے صفحہ 45 میں مرزا موصوف نے قرآن موجودہ کے متعلق اپنا عقیدہ صاف الفاظ میں لکھ دیا ہے۔ کہ قرآن موجودہ غلط اور ناقص، غیر صحیح الترتیب ہے اور اس طرح کا قرآن (معاذ اللہ) مرزا احمد علی بھی بنا سکتا ہے۔ عبارت یوں ہے

حضرت عثمانؓ کا قرآن کی نقلوں کو پھیلانا مُسَلَّم لیکن یہی ترتیبِ قرآن ان کی غفلت از اسلام کو طشت از بام کرتی ہے۔ اگر وہ حضرت علیؓ کے جمع شدہ قرآن کو رائج کرتے تو ان پر کوئی الزام عائد نہ ہوتا۔ ہم نمونہ کے طور پر اس ترتیب کی چند غلطیوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ باتفاق اہلِ اسلام سورہ اقراء سب سے اول نازل ہوئی لیکن قرآن مترتب میں اس کو اخیر پارہ میں جگہ دی گئی ہے۔ اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَـكُمۡ دِيۡنَكُمۡ اخیر میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کو بیچ میں جگہ ملی ہے۔ دیکھیے اس آیت کو چھٹے پارہ سورہ مائدہ میں یوں درج کیا ہے۔

حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةُ وَالدَّمُ وَلَحۡمُ الۡخِنۡزِيۡرِ وَمَاۤ اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ وَالۡمُنۡخَنِقَةُ وَالۡمَوۡقُوۡذَةُ وَالۡمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيۡحَةُ وَمَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّيۡتُمۡ وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَاَنۡ تَسۡتَقۡسِمُوۡا بِالۡاَزۡلَامِ‌ ذٰ لِكُمۡ فِسۡقٌ‌ اَلۡيَوۡمَ يَئِسَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ دِيۡـنِكُمۡ فَلَا تَخۡشَوۡهُمۡ وَاخۡشَوۡنِ‌ اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَـكُمۡ دِيۡنَكُمۡ وَاَ تۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِىۡ وَرَضِيۡتُ لَـكُمُ الۡاِسۡلَامَ دِيۡنًا‌ ؕفَمَنِ اضۡطُرَّ فِىۡ مَخۡمَصَةٍ غَيۡرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثۡمٍ‌ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ 

(سورۃالمائدة آیت: 3)

ترجمہ: حرام کیے گئے تم پر مردار، خون، گوشت، سور اور جو بانگ دیا جائے واسطے غیر خدا کے ساتھ اس کے اور جو گلا گھونٹ کر مرا ہو یا مار سے مرا ہو اور جو بلندی سے گر کر مرا ہو اور ضربِ شاخ سے مرا ہو اور جس کو کھایا ہو درندوں نے مگر جس کو تم نے ذبح کیا اور جو ذبح کیا جائے اوپر بتوں کے اور یہ کہ طلب قسمت کرو ساتھ تیروں کے، یہ فسق ہے۔ آج کافر تمہارے دین سے نا امید ہو گئے ہیں ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ہی ڈرو۔ آج کے دن میں نے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور تمام کر دی تم پر نعمت اپنی اور راضی ہوا تمہارے لیے اسلام دین سے، پس جو مضطر ہو جائے بھوک میں لیکن اس گناہ کے اعادہ کی طرف مائل نہ ہو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

ہر ایک عاقلِ بصیر پر ادنیٰ تدبر سے واضح ہو گا کہ ان دونوں اَلۡيَوۡمَ کو اصل آیت سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ یہ ظاہر ہے کہ محرمات کے حرام ہو جانے سے کافر ناامید نہیں ہو جاتے اور نہ اس سے کمال دین ہوتا ہے اور اگر اسی سے تمام دین ہوا تو چاہیے تھا کہ اس کے بعد کوئی اور حکم نازل نہ ہوتا، حالانکہ بالاتفاق ثابت ہے کہ اس کے بعد بہت سے حکم نازل ہوئے۔ پھر یہ حکم مکمل دین کیسے ہو سکتا ہے اور دیکھیے پارہ سورۃالنساء میں ہے۔

وَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تُقۡسِطُوۡا فِى الۡيَتٰمٰى فَانْكِحُوۡا مَا طَابَ لَـكُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ مَثۡنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ‌ ‌فَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تَعۡدِلُوۡا فَوَاحِدَةً 

(سورۃالنساء آیت: 3)

یعنی اگر تم ڈرو کہ یتامیٰ میں انصاف نہ کرو گے تو نکاح کرو جو پاک ہیں تمہارے لیے عورتوں سے دو، تین اور چار۔ پس اگر ڈرو کہ عدل نہ کرو گے تو ایک ہی۔

فرمایئے کہ خوف عدمِ انصاف یتامیٰ کی تعداد ازواج سے کیا تعلق؟ اگر قسط یتامیٰ تین چار عورات کو نکاح میں لانے سے ہی قائم ہوتا ہے؟ تو اَلَّا تَعۡدِلُوۡا فَوَاحِدَةً کی قید بے فائدہ۔ یہ تو نمونہ مشتے از خروار ترتیب کی فروگزاشتیں ہیں اب اعراب کی سن لیجیے۔ 

اِنَّ هٰذَا صِرَاطٌ عَلَىَّ مُسۡتَقِيۡمٌ یعنی بہ تحقیق یہ راستہ ہے اوپر میرے سیدھا۔ مہربانی کر کے اس "عَلَیَّ" کو ذرا سمجھا دیجیے، خدا کے اوپر کونسی راہ سیدھی ہے۔ یہ علیٰ یا فوق کے معنیٰ رکھتا ہے۔ لیکن خدا سے کوئی فائق نہیں ہے اور یا نقصان کے معنیٰ جیسے عَلَيۡكُمۡ مَّا حُمِّلۡتُمۡ‌ لیکن خدا کے لیے کوئی نقصان نہیں۔ پھر یہ "عَلَیَّ" ہے کیا چیز؟ 

اور لیجیے اِنۡ هٰذٰٮنِ لَسٰحِرٰنِ موجودہ صرف ونحو کے لحاظ سے غلط ہے، آپ کے مسیح نے حقیقۃ الوحی: صفحہ 204 میں لکھا ہے کہ خدا کسی محاورہ کا پابند نہیں۔ یہ پرانا متروک محاوہ ہے لیکن اس پر یہ سوال ہے کہ قرآن مِنْ حَیْثِ فصاحت معجزہ ہے۔ اگر متروک محاوروں کو بھی معجزہ کہا جائے تو بس خیر، پھر تو میں بھی ایک ایسی کتاب لکھ سکتا ہوں جو پرانے محاورات کو شامل ہو اور وہ معجزہ ہوگا۔ پس حضور یہی آپ کے حضرت عثمانؓ کی کاروائی ہے۔ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ میں ذکرِ رسولﷺ مراد ہیں۔

(دیکھو 67 تفسیر نور الدین صاحب)

اس عبارت سے حسبِ ذیل باتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ 

اول یہ کہ حضرت علیؓ کا جمع کردہ قرآن اصلی تھا، جس کو رائج نہیں کیا گیا اور موجودہ قرآن کی ترتیب مسلمانوں کی ہدایت کا باعث نہیں بلکہ اس سے غفلت از اسلام کا راز فاش ہوتا ہے۔ 

دوم مرزا احمد علی اس قرآن کو سراسر غلط سمجھتا ہے۔ چنانچہ نمونہ کے طور پر پہلے اس کی ترتیب کی غلطیاں ظاہر کرتا ہے، ایک غلطی یہ کہ سورہ اقرا پہلے نازل ہوئی تھی، قرآن موجودہ میں آخری پارہ میں درج ہے۔ 

دوسری یہ کہ اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ اخیر میں نازل ہوئی اس کو چھٹے پارہ میں لکھا گیا ہے۔ 

تیسری آیت وَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تُقۡسِطُوۡا فِى الۡيَتٰمٰى کے ساتھ فَانْكِحُوۡا مَا طَابَ لَـكُمۡ بے معنیٰ ہے۔

اس کے بعد مرزا موجودہ قرآن کی صرف ونحو کی غلطیاں بیان کرتا ہے۔ 

پہلی یہ آیت هٰذَا صِرَاطٌ عَلَىَّ مُسۡتَقِيۡمٌ 

دوسری آیت اِنۡ هٰذٰٮنِ لَسٰحِرٰنِ بھی قاعدہ نحو کی رو سے غلط ہے۔ اِنۡ هَذَيْنِ چاہیے تھا۔ 

سوم یہ قرآن جس کی نسبت مشہور ہے کہ مِنْ حَيْث فصاحت معجزہ ہے، یہ درست نہیں ہے۔ بلکہ اس میں متروک محاورے پائے جاتے ہیں اور اس قسم کا قرآن مرزا احمد علی جیسا کلرک بھی بنا سکتا ہے۔ (لا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا باللّٰه

اب مسلمان غور کریں کہ آج تک کسی بھی مسلمان نے یہ جرأت کی کہ قرآن کو غلط کہے اور یہ دعا کرے کہ ایسا قرآن وہ بھی بنا سکتا ہے۔ کاش! اسلامی سلطنت ہوتی تو احمد علی جیسے مسلمان کا وہی حشر ہوتا جو نعمت اللہ کا افغانستان میں ہوا لیکن یہاں آزادی کا دور ہے جو جی چاہے کہہ لو

کس نمی پر سد کہ بھیا کون ہو

سیر ہو یا پاؤ ہو یا پون ہو

ہاں ایک دن مرنا ہو گا پھر معلوم ہو جائے گا کہ تم نے خدا کی پاک کتاب سے کیا سلوک کیا؟ 

یہ نہ خیال کیا جائے کہ مرزا اپنے ذاتی خیالات کا اظہار کر رہا ہے بلکہ وہ تمام شیعیانِ ہند و پاک کے خیالات کی ترجمانی کر رہا ہے۔ جس کی تصدیق و توثیق شیعوں کے قبلہ و کعبہ سرکار حائری نے بھی کر دی ہے۔ بلاشبہ شیعہ کا ایمان اس قرآن پر نہیں ہے نہ ہو سکتا ہے، اگر کہہ دیتے ہیں کہ ہم اس قرآن کو مانتے ہیں تو یہ ان کا تقیہ ہے۔

اب ہم احمد علی کے اعتراضات کا (جو اس نے قرآن پر کیے ہیں) مختصر جواب تحریر کرتے ہیں۔