سیدنا حسینؓ کے سفر عراق کا مقصد جنگ نہ تھا - دفاعِ اہلِ سنت…

سیدنا حسینؓ کے سفر عراق کا مقصد جنگ نہ تھا

  مولانا اقبال رنگونی

جو حضرات یہ سمجھتے اور کہتے ہیں کہ سیدنا حسینؓ کے مکہ مکرمہ سے نکلنے کا مقصد یزید سے جنگ کرنا اور ان کا مقابلہ کرنا تھا، ان کا یہ کہنا درست نہیں ہے سیدنا حسینؓ کا کوفہ عراق جانا کسی جنگ کے لیے نہ تھا آپ یہ سمجھ کر نکلے تھے کہ جب وہاں کے لوگ مجھے بار بار بلا رہے ہیں اور میری اطاعت کرنے اور میرے مؤقف کا ساتھ دینا چاہتے ہیں، تو آپؓ نے کہا کہ وہاں جا کر حالات کا جائزہ لیں اور پھر اس کی روشنی میں سارے معاملات طے کیے جائیں یاد رہے کہ جب سیدنا حسینؓ مکہ مکرمہ سے اپنے اہل و عیال کے ساتھ نکلے تھے تو انہوں نے نہ کہیں جہاد کا اعلان کیا اور نہ مکہ مکرمہ میں کسی کو جہاد کی دعوت دی اور نہ ہی انہیں اپنے ساتھ نکلنے کی ترغیب دی آپ اپنے اہل و عیال کے ساتھ جن میں چھوٹے معصوم بچے بھی تھے، کوفہ اس لیے جانا چاہتے تھے کہ جن لوگوں نے آپ کو خطوط لکھ لکھ کر بلایا تھا، ان سے جا کر گفتگو کریں اور سب کے مشورے کے ساتھ طے کریں کہ آئندہ کیا کرنا ہے یہ الگ بات ہے کہ راستے میں حالات کے بدلنے کی خبر ملی، تاہم آپ نے اپنا سفر جاری رکھا اور وہاں پہنچ کر پتہ چلا کہ جن لوگوں نے نصرت کے بارے میں بار بار وعدے کیے، وہ سب پیچھے ہٹ گئے اب آپ کے پاس اس کے سوا کوئی اور چارہ نہ رہا کہ حالات کا دلیرانہ مقابلہ کیا جائے، خواہ اس میں جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔ چنانچہ عاشورہ کے دن کربلا کی زمین پر جس بے دردی اور ظالمانہ طور پر اہلِ بیتؓ کے معزز افراد کا خون بہایا گیا، اس سے ہر مسلمان کا دل دکھی ہے اور ہر مسلمان آپ اور آپ کے اہل و عیال کے لیے دعا گو بھی رہتا ہے اور جن کے ہاتھ آپ کے خون سے رنگین ہوئے تھے، خدا تعالیٰ نے ان ہاتھوں کو برباد کیا اور آخرت کا حساب تو ابھی باقی ہے۔

شیخ الاسلام حافظ ابنِ تیمیہؒ (728ھ) ایک مقام پر لکھتے ہیں:  

وَالْحُسَيْنُ رَضِی اللَّهُ عَنْهُ مَا خَرَجَ يُرِيدُ الْقِتَالَ، وَلَكِنْ ظَنَّ أَنَّ النَّاسَ يُطِيعُونَهُ، فَلَمَّا رَأَى انْصِرَافَهُمْ عَنْهُ، طَلَبَ الرُّجُوعَ إِلَى وَطَنِهِ، أَوِ الذَّهَابَ إِلَى الثَّغْرِ، أَوْ إِتْيَانَ يَزِيدَ، فَلَمْ يُمَكِّنْهُ أُولَئِكَ الظَّلَمَةُ لَا مِنْ هَذَا وَلَا مِنْ هَذَا وَلَا مِنْ هَذَا، وَطَلَبُوا أَنْ يَأْخُذُوهُ أَسِيرًا إِلَى يَزِيدَ، فَامْتَنَعَ مِنْ ذَلِكَ وَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ مَظْلُومًا شَهِيدًا، لَمْ يَكُنْ قَصْدُهُ ابْتِدَاءً أَنْ يُقَاتِلَ۔ (منہاج السنہ: جلد 4 صفحہ 42)  

سیدنا حسینؓ قتال کے لیے نہیں نکلے تھے آپ کا خیال تھا کہ وہاں کے لوگ آپ کی اطاعت کریں گے جب آپ کو پتہ چلا کہ وہ آپ کو چھوڑ کر جا رہے ہیں، تو اس وقت آپ نے فریق مخالف سے تین مطالبات کیے:  

1: انہیں وطن واپس جانے دیا جائے۔  

2: آپ کو محاذِ جنگ پر جانے دیا جائے تاکہ دشمن کا مقابلہ کریں۔  

3: آپ کو یزید کے پاس جانے دیا جائے۔  

پس ان ظالموں نے ایک بات نہ مانی، بلکہ آپ کو گرفتاری پیش کرنے کا کہا گیا کہ آپ کو قیدی بنا کر پیش کیا جائے آپ نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا، یہاں تک کہ لڑتے ہوئے مظلومانہ حالت میں شہید ہو گئے تاہم آپ کا ارادہ شروع میں ہرگز جنگ کا نہ تھا۔

علامہ ابنِ تیمیہؒ ایک اور جگہ بھی لکھتے ہیں:  

الْحُسَيْنُ رَضِی اللَّهُ عَنْهُ لَمْ يُقْتَلْ إِلَّا مَظْلُومًا شَهِيدًا، تَارِكًا لِطَلَبِ الْإِمَارَةِ، طَالِبًا لِلرُّجُوعِ: إِمَّا إِلَى بَلَدِهِ، أَوْ إِلَى الثَّغْرِ، أَوْ إِلَى الْمُتَوَلِّي عَلَى النَّاسِ يَزِيدَ۔ (منہاج: جلد 4 صفحہ 535)

اور اگر آپ کے سفرِ عراق کا مقصد جنگ یا جہاد ہوتا تو کیا آپ اپنے گھر کی عورتوں، معصوم بچوں کو اپنے ساتھ لے کر جاتے اور اتنی دور کا سفر کرتے؟ آپ کا سفر اس لیے تھا کہ اہل کوفہ نے آپ کو یہاں آنے اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کر کے آپ کی اطاعت تسلیم کرنی تھی، اور آپ آئے بھی انہی خطوط اور مطالبے پر مگر کوفہ کے شیعوں نے حسبِ سابق آپ سے بے وفائی اور بدعہدی کی اور آپ کو اکیلا چھوڑ دیا، تا آنکہ آپ مقامِ شہادت پا گئے۔

حضرت الاستاذ علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحبؒ لکھتے ہیں: آپ کوفہ جانے سے روکنے والوں میں پانچوں عبداللہ تھے( حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن زبیر، حضرت عبداللہ بن جعفر، اور حضرت عبداللہ بن مطیع رضوان اللہ علیہم اجمعین)اور آپ کے بھائی جنابِ محمد بن الحنفیہ جیسی جلیل القدر شخصیت تھی ان میں سے کسی کی زبان سے یہ بات نہ سنی گئی کہ آپ جنگ نہ کریں سب یہی کہتے رہے کہ یہ کوفہ کے لوگ آپ کو وہاں بلا کر دھوکہ دے رہے ہیں، (ان کی باتوں میں نہ آئیں) ان سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ آپ جنگ کے لیے نہ نکل رہے تھے آپ نے کربلا میں جو تین تجاویز پیش کیں، وہ بھی یہ بتلاتی ہیں کہ آپ جنگ نہ کرنا چاہتے تھے یہ عبیداللہ بن زیاد کا ظلم تھا کہ اس نے اس کنبہ اہل بیتؓ پر حملہ کرنے کے احکام جاری کر دیے اور اس میں سیدنا حسینؓ اور آپ کے (اہل و عیال و رفقاء) کو ظلماً شہید کیا گیا ابنِ زیاد کی طرف سے جب عمرو بن سعد کربلا میں آیا تو اس نے آتے ہی سیدنا حسینؓ سے پوچھا کہ آپ کس لیے یہاں آئے ہیں اس سے بھی یہی پتہ چلتا ہے کہ آپ یہاں جنگ کے ارادے سے نہ آئے تھے آپ نے جواباً کہا کہ میں یہاں خوشی سے نہیں آیا، کوفہ والوں کے بلانے پر آیا ہوں اگر ان لوگوں نے اپنی رائے بدل لی ہے تو میں واپس مکہ جانے کو تیار ہوں پھر جب آپ نے کربلا میں آخری خطبہ دیا، اس خطبے کے الفاظ خود بتا رہے ہیں کہ آپ مکہ مکرمہ سے لڑنے کے لیے نہ نکلے تھے بدبختوں نے آپ پر زیادتی کی، جو آپ کو ظلماً شہید کیا گیا خاندانِ رسالتﷺ کو حکومت کا کوئی لالچ نہ تھا یہ حکومت کے خواہاں ہوتے تو سیدنا حسنؓ اپنی قائم حکومت سیدنا امیر معاویہؓ کے سپرد نہ کرتے سیدنا حسینؓ بھی اسی مزاج کے تھے آپؓ حکومت کے طلبگار ہوتے تو حجر بن عدی کی پیشکش کو نہ ٹھکراتے جو آپ کو سیدنا امیرِ معاویہؓ کی خلافت سے نکلنے کے لیے آمادہ کر رہے تھے آپ عراق میں اپنے چاہنے والوں کی دعوت پر صرف مشاورت کے لیے آ رہے تھے ایسا نہ ہوتا تو آپ پہلے اپنے کزن حضرت مسلم بن عقیل کو کوفہ کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے نہ بھیجتے اور اپنے ساتھ اپنی بیوی، بہن اور بچوں کو ساتھ نہ لے جاتے۔ جنگ کا ارادہ ہوتا تو آپ اس کے لیے آواز دیتے اور ہزاروں نہیں، لاکھوں مسلمان آپ کی آواز پر جمع ہو جاتے اور اپنی جانیں پیش کرنے کے لیے تیار ہوتے۔  

(اشتہار: سیدنا حسینؓ کے تین سفر، جہاد کالم: صفحہ 2، 3)