سیدہ ام کلثوم بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
علی محمد الصلابیسیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی تیسری خالہ سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا تھیں، اپنی کنیت سے معروف تھیں، مصعب زبیریؓ سے روایت کرتے ہوئے امام حاکم نے ان کا نام ’’امیہ‘‘ ذکر کیا ہے۔ وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے عمر میں بڑی تھیں۔
(الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 46)
ان سے عتیبہ بن ابولہب کی شادی ہوچکی تھی۔ وہ عتبہ کا بھائی تھا، جس کی شادی ان کی بہن سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا سے ہوچکی تھی، دونوں کی رخصتی نہیں ہوئی تھیں، اس کو اس کے ماں اور باپ نے حکم دیاکہ وہ ان کو طلاق دے دے، جس طرح اس کے بھائی کو حکم دیا تھا کہ وہ ان کی بہن سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: تم اپنے دین کے منکر ہوگئے ہو، میں نے تمھاری بچی کو طلاق دے دی، تمھارے اور میرے مابین کوئی محبت نہیں، پھر اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کردیا، آپ کی قمیص کو پھاڑ دیا، وہ ملک شام جا رہا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أَمَا إِنِّیْ أَسْأَلُ اللّٰہَ أَنْ یُّسَلِّطَ عَلَیْکَ کَلْبًا مِنْ کِلَابِہِ۔
’’میں اللہ سے اس بات کی دعا کر رہا ہوں کہ وہ تم پر کسی کتے کو مسلط کردے۔‘‘
چنانچہ وہ قریش کے تاجروں کے ساتھ ملک شام گیا، وہ لوگ مقام ’’زرقاء‘‘ میں ٹھہرے، اس رات ان کے پاس شیر پہنچا، عتیبہ کہنے لگا: ہائے میری بربادی، اللہ کی قسم محمد کی بددعا کے مطابق وہ مجھے کھا جانے والا ہے، کیا ابن ابی کبشہ مکہ میں ہوتے ہوئے مجھے قتل کرنے والا ہے، جب کہ میں ملک شام میں ہوں، لوگوں میں سے شیر نے اس پر حملہ کیا، اس کا سر پکڑ کر جبڑوں کے مابین دبا دیا اور مار ڈالا۔
(المعجم الکبیر للطبرانی: جلد 22 صفحہ 435، 436) اس میں زہیر بن علاء ضعیف راوی ہیں۔ الذریۃ الطاہرۃ للدوالیبی: رقم: 76)
جب عتیبہ بن ابولہب نے ان کو طلاق دے دی تو وہ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی رہیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کی جانب ہجرت کا شرف حاصل کیا۔
(الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 46)
ا: سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی شادی
سعید بن مسیب رحمہ اللہ کا قول ہے کہ رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو داغ مفارقت دیا اور سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما کو ان کے شوہر نے، سیدنا عمر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور کہا: کیا تمھیں حفصہ کی چاہت ہے؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کی بات نہیں مانی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا تذکرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپﷺ نے فرمایا: کیا تمھیں اس سے بہتر کی چاہت ہے؟ میں حفصہ سے شادی کر لیتا ہوں، اور عثمان کی شادی ان سے بہتر ام کلثوم سے کر دیتا ہوں۔
(المستدرک للحاکم: جلد 4 صفحہ 49 حدیث صحیح ہے۔)
سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی شادی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ربیع الاول 3ھ میں ہوئی، اور جمادی الاولیٰ میں ان کی رخصتی ہوئی۔
(سنن ابن ماجہ: رقم: 110 اس میں ضعف پایا جاتا ہے۔)
حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بچی کے پاس آئے وہ سیدنا عثمانؓ کا سر دھلا رہی تھیں، آپﷺ نے فرمایا: تم ابو عبداللہ کے ساتھ اچھی طرح پیش آؤ وہ مجھ سے اخلاق میں تمام صحابہؓ سے زیادہ مشابہ ہیں۔
(مجمع الزوائد و منبع الفوائد: جلد 9 صفحہ 81) ہیثمی نے کہا: اس کی سند میں محمد بن عبداللہ ہیں جو مطلب سے روایت کرتے ہیں، میں انھیں نہیں جانتا ہوں بقیہ راوی ثقہ ہیں)
ب: سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی وفات
سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس ہی رہیں یہاں تک کہ شعبان 9ھ میں وفات پائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جنازے کی نماز پڑھائی، ان کی قبر کے کنارے بیٹھے، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی قبر کے پاس بیٹھے ہوئے دیکھا، کہتے ہیں میں نے آپﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہتے دیکھا، آپﷺ نے فرمایا: کیا تم میں کوئی ایسا ہے جس نے رات میں ہم بستری نہ کی ہو؟ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ آپﷺ نے فرمایا: تم ان کی قبر میں اترو۔
(صحیح البخاری: کتاب الجنائز: جلد 3 صفحہ 208، رقم: 1285)
انھیں سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا اور صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا نے غسل دیا، ان کے غسل میں ام عطیہ رضی اللہ عنہا حاضر تھیں، اور انہوں نے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول اِغْسِلْہَا ثَـلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ۔
(انھیں تین یا پانچ یا اس سے زیادہ مرتبہ غسل دو) کو بیان کیا ہے۔
(صحیح البخاری: رقم: 1353)
طبقات ابن سعدؓ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی بن ابوطالب، فضل بن عباس، اسامہ بن زید اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ ان کی قبر میں اترے، اور ان کو غسل دینے والیاں، اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا اور صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہما ہیں۔
(الطبقات: جلد 8 صفحہ 38، 29۔ الاستیعاب: رقم 3063)
ج: سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی اولاد:
علماء کا اتفاق ہے کہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کے بطن سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔
(طبقات ابن سعدؓ: جلد 8 صفحہ 38۔ الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد 4 صفحہ 487۔ الإصابۃ: جلد 4 صفحہ 489۔ مجمع الزوائد: جلد 9 صفحہ 217۔ عیون الأثر لابن سید الناس: جلد 2 صفحہ 380۔ الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 49)
عجیب و غریب بات ہے کہ شیعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بچیوں کے نسب کی صحت پر تنقید کرتے ہیں، اس کے باوجود قرآن کریم، حدیث نبویﷺ، اور تاریخ اسلامی کی مخالفت کرتے ہوئے وہ اس زعم باطل میں مبتلا ہیں کہ انھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے، ان کی تردید کے لیے اللہ کا یہ قول کافی ہے:
يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزۡوَاجِكَ وَبَنٰتِكَ وَنِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ يُدۡنِيۡنَ عَلَيۡهِنَّ مِنۡ جَلَابِيۡبِهِنَّ ذٰلِكَ اَدۡنٰٓى اَنۡ يُّعۡرَفۡنَ فَلَا يُؤۡذَيۡنَ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ۞
(سورۃ الأحزاب آیت 59)
ترجمہ: اے نبی! تم اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی چادریں اپنے (منہ کے) اوپر جھکا لیا کریں۔ اس طریقے میں اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ وہ پہچان لی جائیں گی، تو ان کو ستایا نہیں جائے گا۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
’’اے نبی! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں، اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی، اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘
چنانچہ قرآن مجید نے آپﷺ کی بچیوں کا تذکرہ صیغۂ جمع سے کیا ہے۔