سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی فضیلت پر چند احادیث
علی محمد محمد الصلابیسیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت پر چند احادیث:
• سیدنا براء بن عازبؓ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو نبی کریمﷺ کے کندھے پر دیکھا اور آپﷺ دعا کر رہے تھے:
اَللّٰہُمَّ إِنِّيْ اُحِبُّہُ فَاَحِبَّہُ۔
(صحیح البخاری: حدیث نمبر 3749)۔
’’اے اللہ! مجھے اس سے محبت ہے تو بھی اسے محبوب بنا لے۔‘‘
٭ سیدنا ابوہریرہؓ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے حسن کے بارے میں فرمایا:
اَللّٰہُمَّ إِنِّيْ أُحِبُّہُ فَاَحِبَّہُ وَ احْبِبْ مَنْ یُّحِبُّہُ۔
(صحیح مسلم: حدیث نمبر 2421)۔
’’اللہ مجھے اس سے محبت ہے تو بھی اسے محبوب بنا لے اور جو اس سے محبت رکھے اسے بھی اپنا محبوب بنا۔‘‘
•سیدنا اسامہ بن زیدؓ نبی اکرمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ انھیں اور حسنؓ کو پکڑ کر یہ دعا کرتے تھے:
اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ اُحِبُّہُمَا فَاَحِبَّہُمَا۔
(صحیح البخاری: حدیث نمبر 3747)۔
’’اے اللہ! مجھے ان سے محبت ہے تو بھی ان سے محبت رکھ۔‘‘
• سیدنا ابوبکرہؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا حالانکہ اس وقت سیدنا حسنؓ آپ کی گود میں تھے، آپﷺ کبھی لوگوں کی طرف دیکھتے، کبھی ان کی طرف اور فرماتے:
اِبْنِيْ ہٰذَا سَیِّدٌ وَ لَعَلَّ اللّٰہَ أَنْ یُصْلِحَ بِہِ بَیْنَ فِئَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔
(صحیح البخاری: حدیث نمبر 3746)۔
’’میرا یہ بیٹا سردار ہے، اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا۔‘‘
یقیناً سیدنا حسنؓ کے بارے میں نبی کریمﷺ کا یہ فرمانا کہ سیدنا حسنؓ سردار ہیں، ان کے لیے بڑے فخر کی بات اور شرافت کا تمغہ ہے؛ رضی اللہ عنہ و ارضاہ۔
سیدنا حسنؓ کے نانا محمدﷺ کی یہ بشارت مکمل طور سے صادق آئی، چنانچہ سیدنا حسنؓ سیدنا معاویہؓ کے حق میں خلافت سے دستبردار ہوگئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھوں مسلمانوں کے اختلاف اور ان کی خون ریزیوں کو بند کر دیا۔ یہ 41ھ کا واقعہ ہے۔ سیدنا حسنؓ کی مدت خلافت صرف چھ (6) مہینے ہے۔ اسلامی تاریخ میں اس سال کو ’’عام الجماعۃ‘‘ کہا جاتا ہے، آپﷺ نے حدیث میں اسی بات کی طرف اشارہ کیا تھا:
وَ لَعَلَّ اللّٰہَ أَنْ یُصْلِحَ بِہِ بَیْنَ فِئَتَیْنِ عَظِمَتَیْنِ۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 20، سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 144، 145)۔
’’امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا۔‘‘
حافظ ابن حجر رحمۃاللہ علیہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ اس حدیث میں دلائل نبوت میں سے ایک دلیل اور حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی منقبت پائی جاتی ہے، سیدنا حسنؓ نے حکومت سنبھالنے سے اس لیے کنارہ کشی نہ کی تھی کہ آپؓ کے پاس مال کی قلت تھی، یا کسی ذلت سے بچنا چاہتے تھے، یا اور کوئی وجہ تھی، بلکہ محض رضائے الہٰی مطلوب تھی، اسی لیے سیدنا حسنؓ نے جب مسلمانوں میں آپسی خون ریزی دیکھی تو دین کی افادیت اور امت کی مصلحت و مفاد کو ترجیح دی۔
(فتح الباری: جلد 13 صفحہ 66)۔
مزید تفصیل ان کی سیرت پر میری مستقل کتاب (اس کتاب کے ترجمہ کا شرف بھی ندوۃ السنہ کو حاصل ہے۔ حسن بن علی رضی اللہ عنہما شخصیت اور کارنامے)میں دیکھی جاسکتی ہے۔
• سعید مقبری (آپ کیسان المدنی ہیں، ام شریک کے غلام تھے، آپ ثقہ ہیں۔ 10ھ میں وفات پائی، دیکھئے: التہذیب: 463) سے روایت ہے کہ ہم حضرت ابوہریرہؓ کے ساتھ تھے، کہ ہمارے پاس سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما آئے اور سلام کیا، ہم نے سلام کا جواب دیا اور ابوہریرہؓ ان کی آمد اور سلام نہیں جان سکے،
ہم نے کہا: اے ابوہریرہ، دیکھو حسن بن علی رضی اللہ عنہما آئے ہیں اور سلام کیا ہے، چنانچہ حضرت ابوہریرہؓ ان سے ملے اور کہا: وعلیکم السلام، اے میرے سردار، پھر فرمایا: یہ سردار ہیں۔
(المستدرک: معرفۃ الصحابۃ: جلد 3 صفحہ 149)
اس کی سند صحیح ہے، اور امام ذہبیؒ نے اس کی موافقت کی ہے۔
• سیدنا حسنؓ شکل و شباہت میں رسول اللہﷺ جیسے تھے، سیدنا انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے بڑھ کر رسول اللہﷺ سے مشابہ کوئی نہ تھا۔
(صحیح البخاری: الفضائل: حدیث نمبر 3752)۔
• سیدنا عقبہ بن حارثؓ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابوبکرؓ کو دیکھا وہ حسن کو اٹھائے ہوئے ہیں اور فرما رہے ہیں، میرے باپ ان پر فدا ہوں، یہ نبی کریمﷺ کے زیادہ مشابہ ہیں، علی سے زیادہ مشابہ نہیں، اور حضرت علیؓ کھڑے مسکرا رہے ہیں۔
(صحیح البخاری: حدیث نمبر 3750)۔
پس اپنے نانا محمدﷺ کے مشابہ ہونا ان کے لیے بڑے فضل و شرف کی بات ہے۔
(العقیدۃ فی أہل البیت: 147)۔