سیدنا علی رضی اللہ عنہ بحیثیت داعی و قاضی یمن کی طرف 10 ھ -…

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بحیثیت داعی و قاضی یمن کی طرف 10 ھ

  علی محمد محمد الصلابی

فتح مکہ کے بعد جزیرۂ عرب کے کئی عرب قبائل نے خود بخود اسلام قبول کر لیا تھا اور جو قبائل اب تک اسلام نہ لائے تھے، آپ نے ان کے پاس داعیانِ اسلام کو اسلام کی دعوت کے لیے روانہ کیا، انھیں میں سے حضرت علیؓ بھی ہیں جنھیں آپﷺ نے یمن میں ’’ہمدان‘‘ والوں کے پاس بھیجا تھا۔ اس مہم میں براء بن عازبؓ، حضرت علیؓ کے ہم سفر تھے، وہ اس واقعہ کی پوری روداد یوں بیان کرتے ہیں: جب ہم یمن میں داخل ہوئے اور لوگوں کو ہماری آمد کی اطلاع ہوئی تو سب لوگ حضرت علیؓ سے ملاقات کے لیے اکٹھا ہوئے، آپ نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہم صف بند ی کر کے بیٹھ گئے، پھر حضرت علیؓ ہمارے سامنے آئے، اللہ کی حمد وثنا بیان کی اور رسول اللہﷺ کا خط پڑھ کر سنایا چنانچہ ہمدان کا پورا قبیلہ اسی دن مسلمان ہو گیا۔ آپ نے رسول اللہﷺ کو خط لکھ کر اس کی خبر دی آپﷺ نے جب خط پڑھا تو فوراً سجدہ میں گر گئے، اور دعا کیا: اَلسَّلَامُ عَلٰی ہَمْدَانَ، اَلسَّلَامُ عَلٰی ہَمْدَان

ہمدان والوں پر سلامتی نازل ہو، ہمدان والوں پر سلامتی نازل ہو۔

(زاد المعاد: جلد 3 صفحہ 622، اس کی سند صحیح ہے۔)

اللہ کے رسولﷺ مملکت اسلامی کے جنوبی محاذ کی حفاظت، اور یمنی قبائل کے مسلمان ہو جانے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے، پھر یہ کوشش ایسے کامیاب نتائج کی شکل میں ظاہر ہوئی کہ یمن کے ہرخطہ سے بےشمار وفود مدینہ کی طرف کشاں کشاں چلے آئے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو لوگ یمن کی طرف اسلام کے مبلغ بنا کر بھیجے گئے تھے ان کی کوششیں پیہم اور دُور رس اثرات کی حامل تھیں، اور رسول اللہﷺ کے سرایا دعوتی تحریک پر مہمیز کا کام کرتے تھے۔

چنانچہ آپﷺ نے داعی اسلام کی حیثیت سے حضرت خالد بن ولیدؓ کو یمن روانہ کیا، پھر حضرت علی بن ابی طالبؓ کو بھیجا، اس طرح آپﷺ اساسی قوتوں، معاشرہ، و ممالک پر اثر انداز ہونے والے مراکز کو اپنی اصلاح کا ہدف بناتے تھے اور آپﷺ پوری زندگی اسی فقہ عظیم کا مظاہرہ کرتے رہے۔

(السیرۃ النبویۃ عرض وقائع وتحلیل احداث: جلد 2 صفحہ 596، الفقہ السیاسی للوثائق: صفحہ 231)۔

اس سال آپﷺ نے حضرت علیؓ کو یمن کا قاضی بنا کر بھیجا، حضرت علیؓ واقعہ کی تفصیل یوں بتاتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے مجھے یمن بھیجا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ان لوگوں کے پاس بھیج رہے ہیں،جو مجھ سے زیادہ عمر دراز ہیں اور میں ابھی نوعمر ہوں، مجھے اچھی طرح فیصلہ کا ملکہ نہیں ہے۔ آپﷺ نے اپنا دست مبارک میرے سینہ پر رکھ دیا اور کہا: 

اَللّٰہُمَّ ثَبِّتْ لِسَانَہُ وَاہْدِ قَلْبَہُ، یَا عَلِيُّ إِذَا جَلَسَ إِلَیْکَ الْخَصْمَانِ فَلَا تَقْضِ بَیْنَہُمَا حَتَّی تَسْمَعَ مِنَ الْآخَرِ مَا سَمِعْتَ مِنَ الْأَ وَّلِ فَإِنَّکَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِکَ تَبَیَّنَ لَکَ الْقَضَائُ۔

’’اے اللہ ان کی زبان کو حق پر ثابت رکھ اور دل کو ہدایت دے دے۔ اے علی! جب تمھارے پاس جھگڑنے والے دونوں فریق آ جائیں تو جب تک دونوں سے برابر برابر پوری بات نہ سن لو فیصلہ نہ کرو،

اگر تم ایسا کرو گے تو تمھاے سامنے حق کا فیصلہ واضح اور آسان ہو جائے گا۔‘‘

چنانچہ میں نے اس پر عمل کیا، اور اس کے بعد کوئی بھی فیصلہ میرے لیے مشکل نہ رہا،

(فضائل الصحابۃ: 2 صفحہ 900 اثر نمبر (1239) اس کی سند حسن ہے۔)

اور جب یمن میں اسلام پھیل گیا تو وہاں کے باشندوں کو ایک ایسے آدمی کی ضرورت محسوس ہوئی جو انھیں دین کی تعلیمات دے اور اسلامی شریعت کے مطابق نزاعی معاملات کا فیصلہ کرے، اللہ کے رسولﷺ نے یمن کے مختلف علاقوں میں معاذ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما جیسے دیگر صحابہ کو روانہ کیا، ان میں سب سے افضل علیؓ تھے، چنانچہ تاریخ، حدیث اور فقہ وغیرہ کی کتب میں حضرت علیؓ کے یمن میں قیام کے دوران ان کے کئی فیصلے ملتے ہیں ان میں سے دو کا ذکر یہاں کیا جا رہا ہے۔

1: شیر کے شکار کے لیے کھودے ہوئے کنویں میں اٹھکیلیاں کھاتے ہوئے گرنے والے چار لوگوں کے بارے میں آپ کا فیصلہ:

حنش سے روایت ہے، وہ حضرت علیؓ کے روایت کرتے ہیں کہ آپ کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ نے مجھے یمن بھیجا، وہاں ایسے لوگوں سے ہماری ملاقات ہوئی جنھوں نے آبادی سے باہر شیر کا شکار کرنے کے لیے ایک کنواں کھود رکھا تھا، کنویں میں شیر کے گر جانے اور پھنس جانے کے بعد وہ تماشہ دیکھنے میں اٹھکیلیاں کر رہے تھے کہ اچانک ایک آدمی گڑھے میں گرنے لگا، اس نے ایک دوسرے آدمی کو اور دوسرے نے تیسرے کو بچاؤ کے لیے پکڑا، بالآخر چار آدمی ایک دوسرے کے اوپر گرے اور ان سب کو شیر نے بری طرح زخمی کر ڈالا، تماشائیوں میں سے ایک آدمی نے جب یہ حالت دیکھی تو ہمت کی، اور ایک تیز ہتھیار سے شیر کو مار ڈالا، اُدھر وہ چاروں آدمی بھی زخموں کی تاب نہ لا سکے اور مر گئے، پھر ایک نزاعی مسئلہ کھڑا ہو گیا، کہ ہر پہلے گرنے والے شخص کے اولیاء دوسرے شخص کے اولیا سے لڑائی جھگڑے اور دیت کے مطالبہ پر بضد ہوگئے۔ اتنے میں وہاں سیدنا علیؓ آ گئے اور کہا : کیا رسول اللہﷺ کے باحیات ہوتے ہوئے تم آپس میں کٹ مرنا چاہتے ہو، میں تمھارا فیصلہ کرتا ہوں، اگر تم اسے مان لیتے ہو تو ٹھیک ہے ورنہ اس وقت تک جھگڑا بند رکھو جب تک کہ تم سب نبی کریمﷺ کے پاس نہ پہنچ جاؤ، اور پھر آپﷺ ہی تمھارا فیصلہ کریں۔ اس کے بعد بھی جو زیادتی کرے اس کا کوئی حق نہ ہوگا، میرا فیصلہ ہے کہ گڑھے کے پاس جتنے لوگ تماشہ دیکھنے آئے تھے ان سب کے قبیلہ والے مجموعی طور سے اتنا تاوان جمع کر لیں جو ایک چوتھائی دیت، ایک تہائی دیت، نصف دیت اور مکمل ایک دیت کے لیے کافی ہو، پھر جو شخص سب سے پہلے گرا ہے اس کے اولیاء کو ایک چوتھائی دیت دیں اس لیے کہ وہی دوسرے کے ہلاکت کا سبب بنا ہے، اسی طرح گرنے والے دوسرے شخص کے اولیاء کو ثلث اور تیسرے کے اولیاء کو نصف دیت دی جائے، لیکن وہ آپ کے اس فیصلہ اور معاملہ کو لے کر نبی کریمﷺ کے پاس آئے آپ مقامِ ابراہیم کے پاس تھے، انھوں نے پورا واقعہ بتایا، آپﷺ نے فرمایا: أَنَا أَقْضِیْ بَیْنَکُمْ۔ میں تمھارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں۔ پھر آپﷺ فیصلہ  دینے کے لیے بیٹھ گئے، اتنے میں ایک آدمی نے کہا: حضرت علیؓ اس سلسلہ میں ہمارے درمیان فیصلہ کر چکے ہیں، اور پھر پورا فیصلہ بتایا، آپﷺ نے اسی فیصلہ کو درست اور نافذ قرار دیا۔

(فضائل الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 900، اثر نمبر 1239) اس کی سند صحیح ہے۔)

2: ایک ہی طہر میں ایک عورت کے ساتھ تین افراد کی مجامعت:

حضرت زید بن ارقمؓ کا بیان ہے کہ جب سیدنا علیؓ یمن میں تھے تو  سیدنا علی  ؓ کے پاس ایسے تین لوگ حاضر کیے گئے جنھوں نے ایک عورت سے ایک ہی طہر میں مجامعت کی تھی۔  سیدنا علیؓ نے ان میں سے دو سے تیسرے کے بارے میں پوچھا: کیا تم اقرار کرتے ہو کہ رحم میں پلنے والی اولاد اس کی ہے؟ دونوں نے انکار کر دیا، اس طرح آپ ہر ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر تیسرے کے بارے میں وہی بات دریافت کرتے، لیکن سب نے انکار کر دیا۔ آخر میں  سیدنا علیؓ  نے ان سب کے درمیان قرعہ اندازی کیا، اور جس کے نام قرعہ نکلا، اولاد کو اس کی طرف منسوب کر دیا، اور اس پر دو ثلث دیت تاوان نافذ کیا۔

(منہج علی بن أبی طالب فی الدعوۃ إلی للہ: صفحہ 87)۔ 

راوی کا کہنا ہے کہ جب اللہ کے رسولﷺ کو یہ واقعہ بتایا گیا تو آپﷺ ہنسنے لگے، یہاں تک کہ آپ کے دانت مبارک دکھائی دیے۔ 

(اس معنیٰ کی ایک دوسری روایت بھی باسناد حسن لغیرہ‘‘ فضائل الصحابۃ اثر نمبر 1095) میں موجود ہے)

اللہ کے رسولﷺ حضرت علیؓ کی درست رائے پر مسرت خوشی سے ہنس پڑے تھے کہ اللہ نے انھیں اپنی توفیق سے نوازا اور اسی لیے آپ نے ان کے فیصلہ کو صحیح مانا۔

(سنن السنائی: جلد 6 صفحہ 182، حاشیۃ السندی۔ )

واضح رہے کہ یہاں اس بات کا قوی احتمال ہے کہ ان تینوں افراد کی یہ نازیبا حرکت ان کے مسلمان ہونے سے پہلی کی ہو، کیونکہ دین اسلام میں یہ صراحتاً حرام ہے۔ 

(منہج علی بن أبی طالب فالدعوۃ الی اللہ: صفحہ 88)۔