اے معیقیب اسے لے لو اور بیت المال میں رکھ دو
علی محمد الصلابیمعیقیب کا بیان ہے کہ دوپہر کے وقت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے بلوایا، میں پہنچا تو دیکھا کہ آپؓ اپنے بیٹے عاصمؓ کو آواز دے رہے تھے پھر مجھ سے کہا: کیا تمہیں کو معلوم ہے اس نے کیا کیا ہے؟ یہ عراق گیا اور وہاں کے لوگوں کو اس بات کا حوالہ دیا کہ میں امیر المؤمنین کا بیٹا ہوں، ان لوگوں سے اس نے خرچ مانگا اور انہوں نے محض میری وجہ سے اسے برتن، چاندی، مختلف سامان، اور تلوار دی ہے، عاصمؓ نے کہا: کیا میں نے ایسا نہیں کیا ہے؟ میں تو اپنے لوگوں کے پاس گیا تھا اور انہوں نے مجھے یہ سب کچھ بغیر کسی طلب کے دیا، حضرت عمرؓ نے فرمایا: اے معیقیب اسے لے لو اور مسلمانوں کے بیت المال میں جمع کروا دو۔
(عصر الخلافۃ الراشدۃ: العمری: صفحہ 236، یہ اثر حسن ہے)
یہ ہے اس مال کی چھان پھٹک کی مثال جسے انسان اپنے مقام و منصب کی وجہ سے حاصل کرتا ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ جب امیر المؤمنین عمر بن خطابؓ نے محسوس کیا کہ ان کے بیٹے عاصمؓ نے اس مال کو محض امیر المؤمنین کا بیٹا ہونے کی وجہ سے پایا ہے تو آپؓ نے اس مال کو عاصمؓ کے پاس چھوڑنا مناسب نہ سمجھا، اس لیے کہ انہوں نے یہ مال بلا کسی محنت کے حاصل کیا تھا جس کی وجہ سے یہ مال شکوک و شبہات کے دائرے میں داخل ہو گیا تھا۔
(التاریخ الاسلامی: جلد 19 صفحہ 40 )