امام کے ظہور کا وقت ہے
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہچونکہ اس وقت شیعوں پر سخت اعتراض ہو رہا ہے کہ ان کا قرآن جمع کردہ علیؓ کہیں نظر نہیں آتا اس کے متعلق مطالبہ پر مطالبہ ہو رہا ہے کہ شیعہ کہیں سے وہ قرآن پیدا کریں ورنہ ان کی کوئی مسلمانی نہیں جب کہ ان کے ہاتھ میں کتاب آسمانی نہیں شیعہ بیچارے سخت پریشان ہیں کچھ جواب بن نہیں سکتا شیعوں کا عقیدہ ہے کہ وہ قرآن صاحب الامر حضرت امام مہدی علیہ السلام کے پاس موجود ہے اور شیعہ یہ بھی کہتے ہیں کہ امام علیہ السلام بمع اپنے فرزندوں کے ایک غائب ملک میں حکمران کر رہے ہیں شیعوں کے قبلہ و کعبہ علامہ سید علی الحائری کی ایک مصنفہ کتاب غایۃ المقصود میں بہت سی حکایات درج ہیں کہ لوگوں نے وہاں جا کر آپ کی زیارت بھی کی۔ چنانچہ اسی کتاب کے صفحہ 25 سے 30 تک ایک قصہ لکھا ہوا ہے کہ چند کس دریائی سفر کرتے ہوئے اس ملک میں جا پہنچے اور وہاں پانچ بڑے بڑے شہر دیکھے جو امام کے فرزندوں کے زیرِ حکومت تھے ان میں سے بعض کا طول و عرض دو ماہ کا راستہ بعض کا چار ماہ کا راستہ ہے وہاں بڑے بڑے شہر اور تجارت کی منڈیاں دیکھی گئیں اور عجیب و غریب باغات وَ جَنّٰتُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ الخ.
سورة آل عمران آیت (36) مشاہدہ میں آئے ان لوگوں نے امام علیہ السلام کی زیارت بھی کی اور اسلام بھی تازہ ہوا۔
معلوم نہیں اتنی بڑی آبادی جغرافیہ والوں کی آنکھوں سے آج تک کیوں مخفی ہے، جنہوں نے زمین کا چپہ چپہ پیمائش کر کے جغرافیہ سدنیا تیار کیا ہے، یہ سب داستانیں فرضی بوستانِ خیال یا شیخ چلی کی گپوں سے زیادہ وقعت نہیں رکھتیں بہر حال اگر امام اتنی بڑی سلطنت کے مالک دنیا کے کسی حصہ میں رہتے ہیں، آپ گاہے بگاہے اپنے خواص شیعہ کو ملتے بھی رہتے ہیں، جیسا کہ حائری کی کتاب غائية المقصود میں ہے، تو کیا وجہ ہے کہ اس وقت کے شیعہ اس نعمت زیارت امام سے محروم ہیں؟
اس کی وجہ سوائے اس کے کچھ نہیں ہو سکتی کہ یہ سب حلوے مانڈے اور چالوں کے شیعہ ہیں اصلی شیعہ کی ان میں بو تک نہیں ہے ورنہ اگر اس وقت دنیا میں کوئی ایک بھی سچا شیعہ موجود ہوتا تو اس آڑے وقت میں حضرت امام ان کی ضرور دستگیری کرتے اور اصلی قرآن اگر اس وقت ظاہر نہیں کیا جاسکتا تو اس کی نقل ہی کرا کر کسی مخلص شیعہ کی معرفت دنیا میں بھیج دیتے تاکہ شیعہ بیچارے وہ قرآن دکھا کر سرخروئی حاصل کرتے۔