قرآن مجید، احادیثِ مبارکہ اور اکابر سلف کے بیانات سے واضح ہوا کہ حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اللہ و رسولﷺ کے ممدوح ہیں، اور وحی الہٰی ان کے کمالات و صفات سے رطب الّلسان ہے، وہ کسی کی تعدیل کے محتاج نہیں وہ جب حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے تو وحی الہٰی کے انوار سے ان کے قلوب خورشید بد اماں ہو گئے اور وہ مقامِ تزکیہ و تصفیہ کی اس معراج پر پہنچ گئے کہ رشک ملائک ٹھہرے، اگر ان سے النادر کالمعدوم کے تحت معصیّت کا صدور ہوا بھی تو اس میں حق تعالیٰ شانہ کی تکوینی حکمت کار فرما تھی۔
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ (متوفیٰ 150 ہجری) فرماتے ہیں:
ما قاتل احد علياً الا و على اولىٰ بالحق منه، ولو لا ما سار على فيهم ما علم أحد كيف السيرة فی المسلمين
(مناقب الامام الاعظم از صدر الائمہ المکی: جلد 2 صفحہ 73، 74)
حضرت علی المرتضیٰؓ سے جس نے بھی جنگ کی اس میں سیدنا علی المرتضیٰؓ حق سے زیادہ قریب تھے۔ اگر حضرت علیؓ ان کے ساتھ اس طرح کا معاملہ نہ کرتے تو کسی کو معلوم نہ ہوتا کہ مسلمانوں کے درمیان جب آپس میں اختلاف ہو تو کیا طرزِ عمل اختیار کیا جائے۔
حضرت مولانا عاشق الہٰی میرٹھی رحمۃ اللہ تذکرۃ الخلیل میں قطب الارشاد حضرت شاہ عبدالرحیم رائے پوری رحمۃ اللہ کے تذکرہ میں لکھتے ہیں:
ایک مرتبہ بعد عصر حسبِ معمول آپ صحنِ باغ میں چارپائی پر بیٹھے ہوئے اور چار طرف خدّام و حاضرین کا ایک کثیر مجمع چاند کا ہالہ بنا بیٹھا تھا کہ راؤ مراد علی خاں صاحب نے حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی باہمی جنگ و رنجش کا تذکرہ شروع کر دیا اور اس پر رائے زنی ہونے لگی کہ فلاں نے غلطی کی اور فلاں کو ایسا نہ کرنا چاہیے تھا، یہاں تک کہ نوبت پہنچی تو دفعۃً حضرت کو جوش آ گیا اور مہر سکوت ٹوٹ گئی کہ جھرجھری لے کر حضرت سنبھلے اور فرمایا راؤ صاحب! ایک مختصر سی بات میری سن لیجیے کہ جناب رسول اللہﷺ دنیا میں مخلوق کو قیامت تک پیش والی تمامی ضروریاتِ دین و دنیا سے باخبر کرنے کے لیے تشریف لائے تھے۔ اور ظاہر ہے کہ وقت اتنی بڑی تعلیم کے لیے آپﷺ کو بہت ہی تھوڑا دیا گیا تھا، اس تعلیم کی تکمیل کے لیے ہر قسم کے حوادث اور واقعات پیش آنے کی ضرورت تھی کہ ان پر حکم اور عمل مرتب ہو تو دنیا سیکھے کہ فلاں واقعہ میں یوں ہونا چاہیے، پس اصول کے درجہ میں کوئی واقعہ بھی ایسا نہیں رہا جو حضرت روحی فداہ کے زمانۂ بابرکت میں حادث نہ ہو چکا ہو اب واقعات تھے دو قسم کے ایک وہ جو منصبِ نبوتﷺ کے خلاف نہیں، اور دوسرے وہ جو عظمتِ شانِ نبوتﷺ کے منافی ہیں پس جو واقعات منصبِ نبوتﷺ کے خلاف نہ تھے وہ تو خود حضرتﷺ پر پیش آئے مثلاً تزویج اور اولاد کا پیدا ہونا، ان کا مرنا، دفنانا، کفنانا وغیرہ وغیرہ تمامی خوشی و غمی کے واقعات حضرتﷺ کو پیش آ گئے اور دنیا کو عملاً یہ سبق مل گیا کہ عزیز کے مرنے پر ہم کو فلاں فلاں کام کرنا مناسب ہے اور فلاں نامناسب، اور کسی کی ولادت و ختنہ و نکاح وغیرہ کی خوشی کے موقع پر یہ بات جائز ہے اور یہ خلافِ سنت۔
مگر وہ واقعات باقی رہے جو رسول اللہﷺ پر پیش آویں تو عظمتِ رسالتﷺ کا خلاف ہو اور نہ پیش آویں تو تعلیمِ محمدیﷺ ناتمام رہے مثلاً زنا و چوری وغیرہ ہو تو اس طرح عدد تعزیر ہونا چاہیے اور باہم جنگ و قتال یا نفسانی اغراض پر دنیوی امور میں نزاع و رنجش ہو تو اس طرح اصلاح ہونا چاہیے۔ یہ امور ذاتِ محمدیﷺ پر پیش آنا کسی طرح مناسب نہ تھے اور ضرورت تھی پیش آنے کی۔
لہٰذا حضراتِ صحابہ کرامؓ نے اپنے نفوس کو پیش کیا کہ ہم خدّام و غلام آخر کس مصرف کے ہیں جو امور حضرتﷺ کی شان کے خلاف ہیں وہ ہم پر پیش آویں اور حکم و نتیجہ مرتب کیا جائے تاکہ دین کی تکمیل ہو جائے، چنانچہ حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر وہ سب ہی کچھ پیش آ لیا جو آئندہ قیامت تک آنے والی مخلوق کے لیے رشد و ہدایت بنا اور دنیا کے ہر بھلے برے کو معلوم ہو گیا کہ فلاں واقعہ یہ کرنا اور اس طرح کرنا مناسب ہے۔ پس کوئی ہو ایسا باہمت جاں نثار جو تکمیلِ دینِ محمدیﷺ کی خاطر ہر ذلت کو عزت اور عیب کو ہنر سمجھ کر نشانۂ ملامت بننے پر فخر کرے اور بزبانِ حال کہے کہ
نشود نصیب دشمن کو شود ہلاک تیغت
سر دوستاں سلامت کہ تو خنجر آزمائی
شہرت اور نیک نامی اور عزت و نام آوری سب چاہا کرتے ہیں مگر اس کا مزہ کسی عاشق سے پوچھو کہ جان نثاری کیا لطف ہے اور کوچۂ معشوق کی ننگ و عار کیا لذیذ شے ہے۔
از ننگ چہ گوئی مرا نام زننگ سست
واز نام چہ پرسی کہ مراننگ زنام است
سچے عاشق تو اس طرح ہماری تمہاری اصلاح و تعلیم کی خاطر اپنی عزت و آبرو نثار کریں اور ہم ان کے منصف و ڈپٹی بن کر 1300 برس بعد ان کے مقدمات کا فیصلہ دینے کے لیے بیٹھیں اور نقطہ چینیاں کر کے اپنی عاقبت گندی کریں، اس سے کیا حاصل؟ اگر ان جواہراتِ سنیّہ کے قدر دان نہیں بن سکے تو کم سے کم بد زبانی و طعن سے اپنا منہ بند رکھیں کہ الله الله فی اصحابی لا تتخذوھم من بعدی غرضاً دیرتک آپ نے یہ تقریر فرمائی کہ دہنِ مبارک سے پھول جھڑتے اور سامعین کے مشامِ جاں میں جگہ پکڑتے رہے۔
(تذکرۃ الخلیل: صفحہ 246، 248)