آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی مرض الموت میں جو وصیت…

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی مرض الموت میں جو وصیت نامہ لکھوانے کا ارادہ کیا تھا اس کی حقیقت

  علی محمد محمد الصلابی

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسولﷺ کی وفات کا وقت قریب ہوا تو گھر میں بہت سے صحابہ کرامؓ موجود تھے، آپﷺ نے ارشاد فرمایا:

ہَلُمُّوْا أَکْتُبُ لَکُمْ کِتَاباً لَا تَضِلُّوْا بَعْدَہُ

 ’’لاؤ میں تمھارے لیے ایک دستاویز لکھ دوں، اگر تم اس پر چلتے رہے تو پھر تم گمراہ نہ ہو سکو گے۔‘‘ 

اس پر بعض لوگوں نے کہا: کہ آپﷺ پر بیماری کی سختی ہو رہی ہے، تمھارے پاس قرآن موجود ہے۔

ہمارے لیے تو اللہ کی کتاب بس کافی ہے پھر گھر والوں میں جھگڑا ہونے لگا، بعض نے تو یہ کہا کہ آپﷺ کو کوئی چیز لکھنے کی دے دو کہ اس پر آپ ہدایت لکھوا دیں تاکہ تم اس کے بعد گمراہ نہ ہو سکو، بعض لوگوں نے اس کے خلاف دوسری رائے پر اصرار کیا، جب شور و غل اور نزاع زیادہ ہوا تو آپﷺ نے فرمایا: ’’قُوْمُوْا‘‘ یہاں سے جاؤ۔ عبید اللہ نے بیان کیا کہ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما ( اس کے بعد) کہتے تھے: مصیبت سب سے بڑی یہ تھی کہ لوگوں نے اختلاف اور شور کر کے آپﷺ کو وہ ہدایت نہیں لکھنے دی۔ (صحیح البخاری: حدیث نمبر 4432) ۔

دوسری روایت میں یوں ہے کہ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے جمعرات کے دن کا ذکر کیا اور فرمایا: ’’معلوم بھی ہے جمعرات کے دن کیا ہوا تھا ‘‘رسول اللہﷺ کے مرض میں تیزی پیدا ہوئی تھی، اس وقت آپ ﷺنے فرمایا: اِئْتُونِيْ بِکَتِفٍ وَدَوَاۃٍ اَکْتُبْ لَکُمْ کِتَابًا لَنْ تَضِلُّوْا بَعَدَہُ أَبَداً

 ’’شانہ و دوات لاؤ میں تمھارے لیے وصیت نامہ لکھ دوں کہ تم اس پر چلو گے تو اس کے بعد پھر تم کبھی گمراہ نہ ہو گے‘‘ 

لیکن یہ سن کر وہاں اختلاف پیدا ہو گیا حالانکہ نبی کریمﷺ کے سامنے نزاع نہ ہونا چاہیے تھا۔ بعض لوگوں نے کہا کہیں آپﷺ شدتِ مرض کی وجہ سے بےمعنیٰ کلام تو نہیں فرما رہے ہیں؟ بات سمجھنے کی غرض سے آپ سے دوبارہ استفسار کر لو، تو آپﷺ سے صحابہؓ پوچھنے لگے، آپﷺ نے فرمایا: دَعُوْنِيْ فَالَّذِيْ أَنَا فِیْہِ خیرْ ٌمِمَّا تَدْعُوْنَنِيْ إِلَیْہِ ’’یہاں شورو غل نہ کرو، جس کام میں مشغول ہو وہ اس سے بہتر ہے جس کے لیے تم کہہ رہے ہو‘‘

 اس کے بعد آپﷺ نے صحابہ کو تین چیزوں کی وصیت کی، فرمایا:

 أَخْرِجُوا الْمُشْرِکِیْنَ مِنْ جَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ وَأَجِیْزُوْ الْوَفَدَ بِنَحْوِ مَاکُنْتُ أُجِیْزُہُمْ۔

 ’’مشرکین کو جزیرۂ عرب سے نکال دو، وفد (جو قبائل کے تمھارے پاس آئیں) ان کی اس طرح خاطر کیا کرنا جس طرح میں کرتا آیا ہوں‘‘ اور تیسری بات (ابن عباس نے یا سعید نے) بیان نہیں کی، یا (سعید بن جیر یا سلیمان نے کہا) میں تیسری بات بھول گیا۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 4431) ۔

اس حدیث اور اس کے مضمون پر مشتمل دیگر احادیث میں صحابہ کرامؓ کے اختلاف اور شورو شغب سے متعلق جو کچھ مذکور ہے اور جسے روافض اپنے طعن وتشنیع کا ہدف بناتے ہیں درحقیقت ان کے تمام تر اعتراضات یکسر فاسد و باطل ہیں، متقدمین علماء نے اس سے متعلق ان کے چند اہم اعتراضات کی تردید کی ہے اور ان کے شبہات کا ازالہ کیا ہے۔

1: بلاشبہ صحابہ کے درمیان اختلاف رہا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آپﷺ کی بات سمجھنے اور اس کا معنیٰ متعین کرنے میں ان کی آراء مختلف رہیں۔ حکم نبوی سے سرتابی کی وجہ سے اختلاف کبھی نہ رہا۔

 امام قرطبیؒ فرماتے ہیں کہ صحابہ میں اختلاف کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے اجتہاد کیا اور نیک نیتی سے اجتہاد کیا، اس اجتہاد میں دونوں فریق حق پر رہے یا ایک درست رائے تک پہنچا اور دوسرا اس سے قاصر رہا ایسی صورت میں درست رائے تک جس کی رسائی نہ ہوسکی وہ گناہ گار نہ ہوگا بلکہ وہ بھی نیک نیتی سے اجتہاد کی بنا پر ثواب کا مستحق ہوگا۔ آگے فرماتے ہیں: وصیت نامہ کے بارے میں اختلاف ہو جانے پر اللہ کے رسولﷺ نے کسی کی کوئی سرزنش نہیں کی اور نہ ہی برا بھلا کہا، بلکہ سب سے کہا:

دَعُوْنِيْ فَالَّذِيْ أَنَا فِیْہِ خَیْرٌ مِمَّا تَدْعُوْنَنِيْ إلَیْہِ

 ’’( یہاں شور وغل نہ کرو) جس کام میں مشغول ہو وہ اس سے بہتر ہے جس کے لیے تم کہہ رہے ہو۔‘‘ 

یہ واقعہ ایسے ہی ہے جیسا کہ غزوۂ احزاب کے موقع پر پیش آیا تھا۔ آپﷺ نے صحابہ کرامؓ سے کہا: لَایُصَلِّیَنَّ أَحَدٌ العَصْرَ إِلَّا فِيْ بَنِيْ قُرَیْظَۃَ

(صحیح البخاری: حدیث نمبر: 4119)۔ 

 ’’تم لوگ بنوقریظہ کے پاس پہنچ کر ہی عصر کی نماز پڑھو۔‘‘ 

چنانچہ ان میں سے کچھ لوگوں نے بنوقریظہ پہنچنے سے پہلے ہی اس خوف سے نماز پڑھ لی کہ نماز کا وقت نہ ختم ہو جائے۔ اور کچھ لوگوں نے کہا کہ اللہ کے رسولﷺ نے ہمیں وہاں پہنچ کر ہی نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے اس لیے ہم وہیں پڑھیں گے۔ لیکن اس اختلاف کے باوجود کسی نے کسی کو برا بھلا نہیں کہا۔

(المفہم لما اشکل من تلخیص کتاب مسلم: جلد 4 صفحہ 559)۔ 

2: روافض کا ایک اعتراض یہ ہے کہ اس موقع پر صحابہ کرامؓ کا آپس میں اختلاف اور اس کے نتیجہ میں نبی کریمﷺ کے وصیت نامہ کا وجود میں نہ آنا۔ دو ایسی چیزیں تھیں جن کی وجہ سے پوری امت مسلمہ فساد کا شکار ہوئی اور وہ معصوم نہ رہ سکی۔

روافض کا یہ اعتراض یکسر باطل ہے، کیونکہ اس کا لازمی مفہوم یہ ہوا کہ نبی کریمﷺ نے ایسی بعض باتوں کی تبلیغ نہیں کی جس سے امت گمراہی سے محفوظ رہ سکتی تھی اور اپنے پاس محض صحابہ کرامؓ کے اختلاف کو دیکھ کر اللہ کی شریعت کو چھپا لیا اور اسی پر موت ہو گئی حالانکہ یہ مفہوم قرآن مجید کی اس آیت کریمہ کے صریح مخالف ہے:

يٰۤاَيُّهَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ‌ وَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسٰلَتَهٗ‌وَاللّٰهُ يَعۡصِمُكَ مِنَ النَّاسِ‌اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الۡكٰفِرِيۡنَ۞ (سورۃ المائدة آیت 67)

ترجمہ: اے رسول! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی تبلیغ کرو۔ اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو (اس کا مطلب یہ ہوگا کہ) تم نے اللہ کا پیغام نہیں پہنچایا۔ اور اللہ تمہیں لوگوں (کی سازشوں) سے بچائے گا۔ یقین رکھو کہ اللہ کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

چونکہ آپﷺ اس خیانت سے بالکل پاک تھے، اور تزکیۂ الہٰی: لَـقَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ اَنۡفُسِكُمۡ عَزِيۡزٌ عَلَيۡهِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِيۡصٌ عَلَيۡكُمۡ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ‏۞ (سورۃ التوبہ آیت 128)

(ترجمہ: تمھارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف لائے ہیں، جو تمھاری جنس سے ہیں جن کو تمھاری مضرت کی بات بہت گراں گزر تی ہے، جو تمھاری منفعت کے بڑی خواہش مند رہتے ہیں۔ ایمان والوں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں۔)

کے بموجب ایسی تہمتوں سے بالکل بری تھے، اس لیے اللہ نے آپ کے قلبی رجحان کو یوں تعبیر کیا کہ آپ (ﷺ) اپنی امت پر حریص ہیں، یعنی امت کی ہدایت اور اس کے دنیوی و اخروی نفع رسانی کے لیے خواہش مند ہیں۔(تفسیر ابن کثیر: جلد 2 صفحہ 404)

تمام مسلمانوں کو اس بات پر یقین ہے، اور جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان کی رمق ہو گی اسے بھی شک نہ ہوگا کہ نبی کریمﷺ نے اللہ کے تمام تر احکامات کو پہنچا دیا، اور وہ اپنی امت کی خیر خواہی کے ہمیشہ خواہش مند تھے جیسا کہ آپ کی مجاہدانہ زندگی، قربانیاں اور ترغیب و تشجیع کے اقوال و واقعات اس پر دلالت کرتے ہیں، تو جب آپﷺ کی یہ دیانت داری اور خیرخواہی ہر خاص و عام کے نزدیک مسلّم ہے تو ہمیں اس بات پر یقین کرنا چاہیے کہ اگر وہ وصیت نامہ اتنا اہم ہوتا جس سے پوری امت گمراہی سے بچ جاتی اور قیامت تک کے لیے اس میں کوئی اختلاف واقع نہ ہوتا، تو عقلاً اور نصًا کسی اعتبار سے یہ بات ہرگز سمجھ میں نہیں آتی کہ آپﷺ اسے اپنی زندگی کے اس تنگ وقت تک کے لیے مؤخر کیے رہتے اور اگر مؤخر بھی کیا تھا تو محض چند صحابہؓ کے اختلاف کی وجہ سے اسے بیان نہ کرتے۔

(مختصر تحفۃالاثنا عشریۃ: صفحہ 251)، الإنتصار للصحب والآل: صفحہ 228، 229) 

ایسا کبھی تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ آپﷺ اپنے رب کے فرمان کی تبلیغ چھوڑ دیں اور اگر بالفرض یہ تسلیم کر لیا جائے کہ کسی مصلحت کی وجہ سے آپ نے اس وقت نہیں لکھوایا، تو بعد میں اسے لکھوانے سے کون سی چیز مانع رہی کیونکہ اس کے بعد مزید چند دنوں یعنی دو شنبہ تک آپ باحیات رہے، جیسا کہ صحیحین وغیرہ میں سیدنا انسؓ سے ثابت ہے۔

(صحیح البخاری: 4448)، صحیح مسلم: 419)۔

جب کہ بالاتفاق وصیت نامہ لکھوانے کا واقعہ جمعرات کا ہے۔

(الإنتصار للصحب والآل: 329)۔

اور اس پر بھی روافض اور اہل سنت سب متفق ہیں کہ پھر اپنی وفات تک آپﷺ نے کچھ نہیں لکھوایا، پس یقینی طور سے ہمیں ماننا پڑے گا کہ جس چیز کو آپﷺ لکھوانا چاہتے تھے، وہ کوئی ایسی چیز نہ تھی جس کی تبلیغ کے لیے آپ مامور رہے ہوں، کیونکہ قرآن کے بیان کے مطابق اللہ نے اس واقعہ سے قبل حجۃ الوداع کے موقع پر ہی دین کے مکمل ہونے کا اعلان کردیا تھا:

اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِيۡنَكُمۡ وَاَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِىۡ وَرَضِيۡتُ لَـكُمُ الۡاِسۡلَامَ دِيۡنًا‌ (سورۃ المائدۃ آیت 3)

ترجمہ: آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا۔‘‘

امام بن تیمیہ رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’ وصیت نامہ لکھوانے کا حکم الہٰی ہوتا تو آپﷺ اسے لکھواتے یا اسی وقت بتاتے، اگر ایسی بات ہوتی تو آپﷺ اس کی بجا آوری سے ہرگز باز نہ آتے، آپ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خلافت سے متعلق متوقع نزاع کے ازالہ کی مصلحت سے کچھ لکھوانا چاہا تھا، لیکن جب آپﷺ کو انداز ہ ہوگیا کہ اختلاف ہونا ہی ہے تو آپﷺ خاموش ہو گئے۔‘‘

(منہاج السنۃ: جلد 6 صفحہ 316)

ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:

’’اس تحریر یا وصیت نامہ کا واقعہ جیسے اللہ کے رسول اللہﷺ لکھوانا چاہتے تھے، بڑی وضاحت سے صحیحین میں سیدہ عائشہؓ سے یوں مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے اپنی مرض الموت میں فرمایا: اُدْعِی لِيْ أَبَاکِ وَأَخَاکِ حَتَّی اَکْتُبَ کِتَابًا، فَإِنِّيْ أَخَافُ أَنْ یَتَمَنَّی مُتَمَنٍّوَیَقُوْلَ قَائِلٌ: أَ نَا أَوْلَی، وَیَابَی اللّٰہُ وَالْمُؤْمِنُوْنَ إِلَّا أَبَابَکْرٍ

 ’’اپنے باپ اور بھائی کو میرے پاس بلاؤ تاکہ میں وصیت لکھ دوں، مجھے ڈر ہے کہ حریص اس کی آرزو کریں گے اور کچھ کہنے والے یہ بھی کہیں گے کہ خلافت کا حق دار میں زیادہ ہوں، مگر ابوبکر کی خلافت کے سوا نہ ہی اللہ کسی کی خلافت کو تسلیم کرے گا اور نہ مسلمان۔‘‘

(صحیح بخاری: 5666، 7217، و صحیح مسلم: 2387)۔

اس کے بعد چند روایات لکھتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ: نبی کریمﷺ نے حضرت عائشہؓ سے جس رائے کا اظہار کیا اس کے متعلق وصیت لکھوانے کا عزم کر لیا تھا، لیکن جب آپ نے دیکھا کہ بعض لوگوں کے ذہنوں میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خلافت سے متعلق شک حائل ہو گیا ہے؟ تو سوچا کہ وصیت نامہ اس شک کو زائل نہیں کر سکتا، لہٰذا وصیت نامہ لکھوانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ مزید آپﷺ کو اس بات کا بھی علم و یقین ہو چکا تھا کہ اللہ تعالیٰ میری ہی خواہش اور عزم کے مطابق مسلمانوں کو سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی خلافت پر متفق کرے گا، جیسا کہ آپﷺ نے فرمایا: ابوبکر کی خلافت کے سوا نہ ہی اللہ کسی کی خلافت کو تسلیم کرے گا، نہ مسلمان۔‘‘

(منہاج السنۃ: جلد 6 صفحہ 23۔25)۔

حدیث کا جو آخری ٹکڑا ہے کہ (لَنْ تَضِلُّوْا بَعْدِيْ) میرے بعد گمراہ نہ ہوگے، 

شاہ ولی اللہ محد ث دہلوی رحمۃاللہ علیہ نے اس کی توجیہ میں فرمایا کہ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جس چیز کو لکھا جانا تھا اس کا تعلق دین سے نہ تھا تو آپﷺ نے اس کے بارے میں یہ کیوں فرمایا: (لَنْ تَضِلُّوْا بَعْدِيْ) یعنی میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے۔

 تو اس کا جواب یہ ہے کہ گمراہی کا لفظ مختلف مقامات پر مختلف معانی کے لیے مستعمل ہے، یہاں مراد یہ ہے کہ نظامِ مملکت چلانے میں غلطی نہ کرو گے، یعنی جزیرۂ عرب سے مشرکین کو نکالنے، وفود کی خاطر و مدارات کرنے، اور لشکرِ اسامہ کو روانہ کرنے میں میری سیاست پر کار بند رہو گئے اور پھر آپﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ایسا ہی کیا، یہاں ’’ضلالت‘‘ کا معنیٰ دین سے گمراہی نہیں ہے۔ 

(مختصر التحفۃ الاثنا عشریۃ ص (251)

3۔ حدیث کے آخر میں ابنِ عباسؓ کا بیان ہے کہ سب سے بڑی مصیبت یہ تھی کہ لوگوں نے شور و شغب کر کے آپﷺ کو کچھ لکھنے نہ دیا۔ (صحیح البخاری: 4432)۔

اس قول کی تشریح میں ابن تیمیہ رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں: 

’’اس وصیت کے لکھنے میں جو چیز حائل ہوئی وہ بڑی مصیبت تھی، لیکن ان کے حق میں مصیبت تھی جنھوں نے خلافتِ صدیقی کے بارے میں شک کیا اور یہ مسئلہ ان پر مشتبہ ہو گیا۔ اگر کوئی وصیت نامہ ہوتا تو یقیناً اس کا شک زائل ہو جاتا اور مصیبت دور ہو جاتی، رہا وہ شخص جسے کامل یقین ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خلافت برحق اور مکمل ہے الحمداللہ ایسے شخص کے لیے کوئی مصیبت نہیں۔‘‘

(منہاج السنۃ: جلد 6 صفحہ 25)۔

اس مفہوم کی توضیح و تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ بات اس وقت کہی جب خوارج و روافض جیسے اہل بدعت اور نفس پرستوں کا ظہور ہو گیا، ابن تیمیہؒ (منہاج السنۃ: جلد 6 صفحہ 316) ۔

اور ابن حجرؒ نے اس کی صراحت کی ہے۔ 

(فتح الباری: جلد 1 صفحہ 209)۔

4: مذکورہ حدیث کی روشنی میں بعض روافض کا یہ دعویٰ ہے کہ آپﷺ اس وصیت نامہ میں حضرت علیؓ کو خلافت کے لیے نامزد کرنا چاہتے تھے، لیکن یہ دعویٰ بھی باطل ہے۔ ابن تیمیہؒ اس دعویٰ کے جواب میں فرماتے ہیں: ’’جسے یہ وہم ہو کہ یہ وصیت نامہ علیؓ کی خلافت کے بارے میں لکھا جانا تھا، وہ علمائے اہل سنت والجماعت، اور علمائے روافض شیعہ دونوں کے عقیدہ کے مطابق بالا تفاق گمراہ اور جاہل ہے، اہل سنت تو اس پر متفق ہی ہیں کہ ابوبکر صدیقؓ خلیفۂ اوّل، اور سب سے افضل تھے اور شیعانِ علی جو کہ حضرت علیؓ کو امامت کا اولین مستحق قرار دیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس واقعہ سے بہت پہلے بالکل واضح اور معروف طریقہ سے آپ کو امامت کے لیے نامزد کیا جا چکا ہے، ایسی صورت میں آپ کے استحقاق کے اثبات کے لیے کسی وصیت نامے کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہتی۔‘‘ 

(منہاج السنۃ: جلد 6 صفحہ 25) الانتصار للصحب والال: صفحہ 281، 282، 283)۔

5۔ اس حدیث کے حوالہ سے روافض شیعہ سیدنا عمر فاروقؓ پر طعن کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے عمر (رضی اللہ عنہ) نے ’’أَھَجَرَ‘‘ کہہ کر نبی کریمﷺ پر بےمعنیٰ کلام کرنے کی تہمت لگائی اور آپﷺ کی بات نہ سنی، اور کہا کہ ہمارے لیے اللہ کی کتاب کافی ہے اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ ’’أَھَجَرَ‘‘ کے لفظ کے نسبت حضرت عمرؓ کی طرف کرنا یکسر غلط اور باطل ہے۔ یہ بات اس موقع پر جو لوگ حاضر تھے ان میں سے کس نے کہی تھی؟ صحیحین کی روایات سے اس کے قائل کی تعیین نہیں ہوتی، کیونکہ اس کے الفاظ (فَقَالُوْا: مَاشَأْنُہُ أَھَجَرَ)میں قائل کے لیے جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے، لہٰذا عمرؓ کو اس کا قائل نہیں مانا جاسکتا ہے۔ حافظ ابن حجرؓ فرماتے ہیں: ’’میرے خیال میں ایک تیسرا احتمال راجح ہے جسے قرطبی نے ذکر کیا ہے۔ وہ یہ کہ ایسی بات کسی ایسے شخص نے کہی ہوگی جو نو مسلم رہا ہوگا، اور وہ پہلے سے جانتا رہا ہوگا جو شخص سخت مصیبت اور الجھن سے دوچار ہوتا ہے وہ اس وقت میں اپنا اصلی مقصد اچھی طرح سے تحریر نہیں کروا پاتا۔‘‘

(فتح الباری: 8 صفحہ 133)۔

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’یہ کہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ بات عمرؓ نے کہی تھی جب کہ اکثر روایات میں قائل کے لیے جمع کا صیغہ ’’قَالُوْا‘‘ وارد ہوا ہے۔‘‘

(مختصر التحفہ والاثنا عشریۃ: صفمحہ 250)۔

درحقیقت اس سلسلہ میں روایات جو صحیح اورثابت ہیں اس میں یہ کلمہ صیغۂ استفہام کے ساتھ یعنی ’’أَھَجَرَ‘‘  وارد ہے اور جن روایات میں ’’ہَجَرَ‘‘ یا ’’یَھْجِرُ‘‘ کے الفاط ہیں، وہ روایات محدثین و شارحین حدیث مثلاً قاضی عیاض، (الشفاء: جلد 2 صفحہ 886)۔

قرطبی، (المفہم: جلد 4 صفحہ 559)

 نووی، (شرح صحیح مسلم: جلد 1 صفحہ 93)۔

اور ابن حجر (فتح الباری: جلد 8 صفحہ 133)۔

وغیرہ کے نزدیک مرجوح ہیں۔

ان محدثین نے صراحتاً یہ بات لکھی ہے کہ حاضرینِ مجلس میں سے جب کسی نے کہا کہ نہ لکھو (الانتصار للصحب والآل: صفحہ 288)۔

تو ’’أَھَجَرَ‘‘ کے قائل نے استفہام انکاری کا یہ صیغہ استعمال کیا۔

(یعنی نبی کریمﷺ بےاختیار کلام نہیں کر رہے۔ (مترجم)

امام قرطبی رحمۃاللہ علیہ نے تبلیغ دین اور دیگر تمام احوال میں غلطیوں سے نبی کریمﷺ کی عصمت اور اس پر صحابہ کرامؓ کے اتفاق کے دلائل کو ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے کہ یہ ناممکن ہے کہ آپﷺ کی سخت بیماری کی حالت میں آپ کے قول کی صداقت میں کسی شک کی بنا پر انھوں نے یہ بات کہی ہو، بلکہ جب قلم اور دوات لانے والے نے لانے میں تردد کیا اور اس سے پیچھے ہٹا، تو انھیں میں سے بعض لوگوں نے انکار و توبیخ کے طور سے یہ بات کہی، گویا ان کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ تم لکھنے کا سامان کیوں نہیں لاتے، کیا سمجھتے ہو کہ آپﷺ غیر اختیاری بات نہیں کریں گے، تردد نہ کرو، اور سامان کتابت حاضر کرو، آپﷺ ہر حال میں حق کہیں گے، بےمعنیٰ کلام نہیں کریں گے۔ (المفہم: جلد 4 صفحہ 559)۔

تو یہ واضح دلیل ہے کہ تمام صحابہ کرامؓ نبی کریمﷺ سے ہذیان گوئی کے وقوع کو بالکل ناممکن سمجھے تھے، اسی وجہ سے جنھوں نے یہ جملہ استعمال کیا لازمی انکار کے لیے استعمال کیا، تاکہ مخالف کے لیے کس طرح سے شک وشبہہ کی گنجائش نہ نکلے اور اسی مفہوم سے روافض کا دعویٰ بھی باطل ہو جاتا ہے۔ (الانتصار للصحب والآل: صفحہ 289)۔

6: روافض کا یہ دعویٰ کہ سیدنا عمر فاروقؓ نے یہ کہہ کر ’’ تمھارے پاس اللہ کی کتاب ہے، ہمیں اللہ کی کتاب کافی ہے‘‘ رسول اللہﷺ سے معارضہ کیا، اور وصیت نامہ لکھوانے سے متعلق نبی کریمﷺ کے حکم کی تعمیل نہیں کی۔ اس بےبنیاد تہمت کا جواب یہ ہے کہ جنابِ عمر فاروقؓ اور آپ کے ہم خیال دیگر صحابہ کرامؓ کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ وصیت نامہ تحریر کروانے سے متعلق آپﷺ کا حکم و جوبی نہیں ہے بلکہ مستقبل میں خلافت سے متعلق بہترین اقدام کی طرف رہنمائی مقصود ہے، اس لیے انھوں نے مخالفت کی، قاضی عیاض، (الشفاء: جلد 2 صفحہ 887)۔

قرطبی، (المفہم: جلد 2 صفحہ 559)۔

نووی، (شرح النووی: جلد 11 صفحہ 91)۔ 

اور ابن حجر (فتح الباری: جلد 1 صفحہ 209)۔ وغیرہ اسی بات پر قائل ہیں اور آپﷺ کے بعد کے عمل سے سیدنا عمر فاروقؓ کے اسی اجتہاد کی تصدیق و توثیق بھی ہوئی، نبی کریمﷺ نے اس مرض سے شفا پانے کے بعد پھر کچھ نہ لکھوایا، اگر اس کا لکھوانا، واجب ہوتا تو صحابہ کرامؓ کا اختلاف اس راستہ میں رکاوٹ نہ بنتا، کیونکہ کسی مخالف کی مخالفت سے آپﷺ اسلام کی تبلیغ سے رک جانے والے نہ تھے، چنانچہ یہی وجہ ہے کہ اس واقعہ کو بھی سیدنا عمر فاروقؓ کے ’’موافقات شرع‘‘ میں شمار کیا جاتا ہے۔ (فتح الباری: جلد 1 صفحہ 209)۔

اسی طرح حضرت عمر فاروقؓ کا یہ کہنا کہ ’’ہمارے لیے اللہ کی کتاب کافی ہے‘‘درحقیقت اس شخص کی مخالفت ہے جو حضرت عمر فاروقؓ سے حجت کر رہا تھا نہ کہ اس میں رسول اللہﷺ کے کسی حکم کی مخالفت ہے، کیونکہ حضرت عمر فاروقؓ کے الفاظ ہیں: عِنْدَکُمْ کِتَابُ اللّٰہِ

گویا حضرت عمر فاروقؓ کے مخاطب کئی لوگ تھے جو آپ کی رائے کی مخالفت کر رہے تھے۔ حضرت عمر فاروقؓ گہری نظر اور درست رائے کے مالک تھے، چونکہ غور و فکر کے بعد آپ اس نتیجہ پر پہنچے کہ آپﷺ کا فرمان فوری طور سے واجب العمل کا متقاضی نہیں ہے اس لیے آپ نے ایک قوی اور شرعاً راجح مصلحت کو مقدم کرتے ہوئے وصیت نامہ کی تحریر پرزور دینے سے منع کیا اور وہ مصلحت یہ تھی کہ مرض کی شدت میں آپﷺ سے کچھ لکھوانا آپﷺ پر شفقت اور محبت کے خلاف اور ایک نامناسب عمل ہے حضرت عمر فاروقؓ نے رسول اللہﷺ کے مرض کی شدت کو جن الفاظ میں تعبیر کیا ہے وہ حضرت عمر فاروقؓ کے اجتہاد کے برمحل اور درست ہونے کی قوی دلیل ہیں۔ حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایاتھا: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم قَدْ غَلَبہُ الْوَجَعُ۔ یعنی آپﷺ سخت تکلیف سے دوچار ہیں، لہٰذا مناسب نہیں ہے کہ ایسی حالت میں آپﷺ کو مزید پریشانی اور تکلیف میں ڈالا جائے،

(الشفاء: جلد 2 صفحہ 888)۔

ساتھ ہی حضرت عمر فاروقؓ کے ذہن میں یہ آیت کریمہ بھی گردش کررہی تھی۔ 

مَّا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِن شَیْءٍ (سورۃ الأنعام: آیت 38)

’’ہم نے کتاب میں کسی چیز کی کمی نہیں چھوڑی۔‘‘

اور ارشاد الہٰی ہے:

وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ (النحل : 89)

’’اور ہم نے تجھ پر یہ کتاب نازل کی، اس حال میں کہ ہر چیز کا واضح بیان ہے۔‘‘

علامہ نووی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں: شارحین حدیث نے سیدنا عمر فاروقؓ کی اس رائے کو بالاتفاق ان کے تفقہ فی الدین کے دلائل، مناقب وفضائل اور دقت نظری میں شمار کیا ہے۔ 

(شرح النووی: جلد 11 صفحہ 90) الانتصار للصحب والال: صفحہ 289۔291)

نیز واضح رہے کہ سیدنا عمرؓ وصیت نامہ کی عدم تحریر پرزور دینے میں ایک مجتہد تھے اور ’’مجتہدفی الدین‘‘ کی غلط رائے بہرحال قابل عفو ہے، بلکہ قول رسول اللہﷺ: إِذَا حَکَمَ الْحَاکِمُ فَاجْتَہَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَہُ أَجْرَانِ وَإَِذا حَکَمَ فَاجْتَہَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَہُ أَجْرٌ (صحیح البخاری: حدیث نمبر 7352) ترجمہ: جب کوئی حاکم فیصلہ دیتے وقت اجتہاد کرے، اور درست رائے کو پہنچ جائے تو اسے دوہرا اجر ملے گا اور جب فیصلہ کیا اور اجتہاد میں غلطی کر گیا تو اسے ایک اجر ملے گا۔(مترجم)

کے مطابق اسے ثواب بھی ملتا ہے۔ تو حضرت عمر فاروقؓ کو اس سلسلہ میں کیوں متہم کیا جاتا ہے، جب کہ حضرت عمر فاروقؓ نے رسول اللہﷺ کی موجودگی میں اجتہاد کیا لیکن آپﷺ نے ان کی نہ کوئی مذمت کی، نہ گناہ گار کہا، بلکہ اپنے عمل سے اس کی موافقت ہی کی۔

 بہرحال اس واقعہ کے سہارے روافض شیعہ صحابہ کے خلاف جو بھی بدزبانی اور طعن کرتے ہیں وہ سب غلط ہیں، اور ان کی حقیقت سامنے آجاتی ہے۔

(الانتصار للصحب والآل: 294،295)۔