شیعہ مناظر کےاعترافات کی حقیقت! - سنی شیعہ مناظرے | دفاع…

شیعہ مناظر کےاعترافات کی حقیقت!

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 3

شیعہ مناظر کےاعترافات کی حقیقت!

 جعفر صادق: میں نے پہلا اعتراف یہ تھوڑی لکھا ہے کہ آپ ابن سبا سے منسوب واقعات کو حقیقت تسلیم کر چکے ہیں۔

♦️شیعہ مناظر کا پہلا اعتراف♦️

*عبداللہ ابن سبا افسانوی کردار ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ ایک مضبوط حقیقت ہے۔*

آپ کے اس اعتراف سے ابن سبا کی شخصیت کا *حقیقت* ہونا ثابت ہوتا ہے۔ ابن سبا سے منسلک واقعات پر تو ہم دونوں میں اختلاف ہے اور یہی ہمارا موضوع بھی ہے کہ شیعیت کے عقائد کا بانی ابن سبا ہے کہ نہیں۔ اسی مسئلے پر ہم یہاں شرائط طئے کر کے دلائل سے گفتگو کر رہے ہیں۔

⬅️ چلیں میں ایک بار پھر موقعہ دے دیتا ہوں۔ آپ چاہیں تو یہ مؤقف اختیار کر سکتے ہیں کہ *ابن سبا کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں وہ تو بس اہل سنت نے افسانوی کردار گھڑ لیا ہے۔*

♦️شیعہ مناظر کا دوسرا اعتراف♦️

یہ اعتراف دراصل اہل تشیع کے جواب دعویٰ میں لکھا گیا ہے۔ جس کے مطابق *ابن سبا کے عقائد شیعہ عقائد جیسے ہوسکتے ہیں اور یہ امکانات میں سے ہے۔*

⬅️ کیا آپ اس اعتراف سے بھی رجوع کر رہے ہیں۔۔ وضاحت مطلوب ہے۔

آپ کو اہل تشیع کے ذیلی فرقوں کی طرف کیوں جانا پڑ رہا ہے؟

 دو ٹوک اپنا مؤقف لکھیں۔ یہی شرائط میں ہم نے طئے کیا ہے۔ شیعہ کے ہاں مختلف آراء ہیں تو ان میں گھسنے کی کیا ضرورت؟ آپ کا اپنا دین ایمان کس مؤقف پر ہے؟ صرف اسے واضح لکھیں اور اسی کی مطابق گفتگو بھی کریں۔ یا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ مؤقف درست نہیں تو جس مؤقف پر یقین ہے اسے ہی لکھ دیں۔ بیچ میں رہ کر وکٹ کی دونوں طرف کھیلنے کا شوق چھوڑیں۔ (یہ بھی ادبی زبان ہے)

 میں نے ابھی کچھ بھی باور نہیں کرایا۔۔۔ میرے دلائل باقی ہیں ، وقت ضایع آپ کی طرف سے ہو رہا ہے۔ میں نے  شیعہ أسماء الرجال کی کتب کے تین اسکینز رکھ کر گذارش کی تھی کہ صاف مختصر الفاظ میں تسلیم کرلیں کہ *ابن سبا ملعون  نہ صرف ایک حقیقت ہے بلکہ وہ قبول اسلام کے بعد اصحاب سیدنا علی میں بھی شامل تھا۔*

بس اتنی سی بات تھی جس کا ڈھنڈورا پورے شہر میں پیٹ ڈالا ہے!  

رہی بات فلاں محققین کے نزدیک فلاں کتاب ثانوی حیثیت رکھتی ہے یہ ابھی سے کیوں رونا شروع کردیا ہے۔

ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں حضور۔۔(یہ بھی محاورہ ہے)

میں آپ کو آپ کی کتب سے منواؤں گا! ان شاء اللہ

 یا 

شرائط کے مطابق ان صحیح روایات اور جید متقدمین شیعہ علماء کا رد بھی صحیح روایات اور جید علماء کے اقوال سے کرئیے گا۔

ذرا پتہ تو لگے کہ شیعیت واقعی دین الہی ہے یا کسی یہودی کے بتائے گئے راستے پر رواں دواں ہے۔ حق واضح کرنا ہے تو جوابات بھی واضح لکھا کریں۔

     میں مدعی ہوں۔۔ دعوی ٰ کو کس طرح ثابت کرنا ہے یہ میرا کام ہے۔آپ اقرار کریں کہ ابن سبا اصحاب سیدنا علی میں شامل تھا۔۔

⬅️ میں گفتگو کو اس اقرار کے بعد آگے بڑھاؤں گا کیونکہ میرے دلائل سے جو حقائق مجھے ثابت کرنے ہیں ان کے لئے یہ اعترافات لازمی ہیں۔

کھل کر اپنے ہی  اعترافات  کو تسلیم کرنے سے شیعہ مناظر رانا سعید  کی  گھبراہٹ!

رانا محمد سعید شیعہ : جو وضاحت یہاں سے 

⬇️⬇️⬇️⬇️⬇️⬇️



⬆️⬆️⬆️⬆️⬆️⬆️

 یہاں تک ہو گئی ، اس کی دوبارہ تکرار شروع کر دی گئی ۔ یہاں تک سب وضاحتیں ہو چکیں ۔ دوبارہ گفتگو کی اصل روح سے مفروری اور واپس اسی طویل بحث کی طرف جانا ثابت کرتا ہے کہ آپ کے پلے ککھ نہیں ہے۔ آپ کا وقت ضائع کرنا سب کیلئے ایمبرسنگ ہے ۔ اور میری دکھتی رگ پر ہاتھ۔

کیا پدی کیا پدی کا شوربہ

چڑیاں کھیت چگ گئی ہوتیں تو آپ اصل گفتگو کی طرف فٹافٹ چلے جاتے۔

    فضول بات۔



    مکرر

 

وضاحت دے دی گئی

⬇️⬇️⬇️⬇️⬇️⬇️

ابن سبا اصحاب علی ع میں سے تھا یہ لکھ کر میرے مخالف فریق نے یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ گویا جس طرح ہم اہلسنت کے نزدیک رسول اللہ کے اصحاب ہیں ویسے ہی شیعہ کے نزدیک آئمہ ع کے اصحاب ۔ نا حضرت جی نا ہمارے نزدیک رسول اللہ ص کے اصحاب کیلئے کلھم عدول و محفوظ کا نظریہ نہیں ھے تو حضرت علی ع و دیگر آئمہ ہے اصحاب کجا ۔

دوسری بات جن مصنفین نے ابن سباء کو اصحاب علی ع میں شمار کیا ہے انکا دارومدار بھی کشی کی ہی روایات ہیں ۔ گویا محققین جن کے نزدیک رجال کشی کے موجودہ نسخہ کی پرائمری حیثیت مصدقہ نہیں ہے وہ اسے افسانہ مانتے ہیں اور جن کے نزدیک رجال کشی کے موجودہ نسخہ کی حیثیت پرائمری طور پر مسلمہ ھے ان کے نزدیک اسکا وجود ثابت شدہ ہے ۔

کوئی کسی خیالی دنیا میں نہیں رہتا ۔ نسخوں کے بارے میں اسنادی اختلاف کوئی اچھنبے کی بات نہیں ۔ اہل علم پر واضح ہے کہ خود آپ کے ہاں بھی اس طرح کے مسائل موجود ہیں ۔

 *دوسرے اعتراف کی وضاحت*جیسا کہ رات میں نے عرض کیا کہ چونکہ ابن سباء کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ یہودی تھا اور اس نے بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا تو یہ بات بھی خارج از امکان نہیں کہ اس نے زیر بحث عقائد کا *لبادہ اوڑھ رکھا ہو اور خود کو ان عقائد کا حامل ظاہر کرتا ہو*

جن کے نزدیک یہ افسانوی کردار ہے وہ اصولی شیعوں میں سے وہ لوگ ہیں جو کٹر قسم کے اصولیین ہیں اور بعض وہ ہیں جن کے نزدیک رجال کشی کا مروجہ نسخہ پرائمری ماخذ کی بجائے ثانوی ماخذ کے طور پر مانا جاتا ہے  کیونکہ اس نے بظاہر اسلام قبول کیا اور خود کا مسلمان ظاہر کیا اور اس وقت سیدنا و مولانا علی ع کا زمانہ تھا تو اسے اصحاب علی ع میں بالکل ویسے ہی وہی حیثیت تھی جو اصحاب رسول اللہ میں موجود منافقین کو تھی۔

⬆️⬆️⬆️⬆️⬆️⬆️⬆️

 اب اس دعوی کے ثبوت میں دلیل لائیے حضرت جی ۔

♦️دعوی اہل سنت♦️

شیعہ اثناعشریہ کے بعض اہم عقائد سیدنا علی خلیفہ بلافصل، وصی رسول اللہ، عقیدہ امامت، خلفائے ثلاثہ سمیت 99.99 فیصد صحابہ کرام پر الزام بازی اور تبرہ ۔(معاذ اللہ) اور عقیدہ رجعت (نبی اور ائمہ اہل بیت کی دوبارہ دنیا میں واپسی) ان سب عقائد کا موجد عبداللہ ابن سبا یہودی ملعون ہے۔

  جعفر صادق: سب دیکھ رہے ہیں کہ آپ خود کتنے کنفیوز ہیں۔

1: شیعہ مناظر رانا محمد سعید کے نزدیک ابن سبا حقیقت ہے۔

2: بقول ان کے شیعہ مؤقف کے مطابق مختلف آراء ہیں۔  کچھ حقیقت سمجھتے ہیں اور کچھ افسانوی کردار۔

3: جواب دعوی میں لکھ دیا کہ ابن سبا شیعہ عقائد کا حامل بلکہ عقائد کا راوی بھی ہوسکتا ہے، یہ ممکنات میں سے ہے۔

صفحہ 1 از 3