فتویٰ تکفیر روافض (از دربار گولڑه شریف)
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہروافض کے کفر کا فتویٰ جب درگاہِ غوث اعظم حضرت پیران پیر شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز سے صادر ہو چکا ہے جیسا کہ غنیۃ الطالبین صفحہ 179 میں بروایت معاذ بن جبلؓ و حضرت انسؓ بایں طور پر منقول ہے:
سيجی فی اخر الزمان قوم ينقصون اصحابی فلان جالسوهم ولا تشآربوهم ولا تواكِلُوهُمْ ولا تناكحوهم ولا تصلوا عليهم ولا تصلوا معهم۔
ترجمہ: آخر زمان میں ایک قوم ہوگی جو میرے اصحابؓ کی تنقیصِ شان کریں گے پس تم ان کی مجلس میں نہ بیٹھو نہ اُن سے مل کر پیو نہ کھاؤ نہ ان سے رشتہ بندی کرو نہ ان کے جنازہ کی نماز پڑو نہ اُن سے مل کر نماز پڑھو۔
اس لیے غوث وقت حضرت قبلہ عالم خواجہ پیر مہر علی شاہ صاحب مدظلہم سجادہ نشین گولڑہ شریف سے بھی یہی توقع ہو سکتی تھی کہ اپنے جدِ امجد کی طرح روافض کی تکفیر کا فتویٰ صادر کریں لیکن رافضی لوگ لوگوں کو غلط فہمی میں ڈالتے اور کہا کرتے ہیں کہ جناب، پیر صاحب ممدوح شیعہ کو اچھا سمجھتے ہیں اور ان کے کفر کا حکم نہیں دیتے۔
خاکسار نے ایک خاص عریضہ کے ذریعہ پیر صاحب مدظلہم سے اس بارہ میں استفسار کیا جس کے جواب میں جناب ممدوح کے حکم سے ایک معزز و مقتدر خاص حضوری جناب خان بہادر مولوی شیر محمد خان صاحب لاہوری نے ایک فتویٰ کی نقل بھیجی جو دربارِ تکفیرِ روافض دربارِ گولڑہ شریف سے صادر ہو چکا ہے۔
(تحریر بدستخطی خان بہادر مولوی شیر محمد خان صاحب منصف کے پاس موجود ہے، جو چاہے دیکھ لے۔ 12) وہو ھٰذا
سوال:
1: قاذف سيدة النساء حضرت عائشہ الصديقۃ العلیا۔
2: منکر صحابیت خلیفہ الحق والصواب حضرت ابوبكر الصديق وعمر بن الخطاب رضی اللہ عنہما
3: منکر بناتِ رسولِ اکرمﷺ سوائے فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا۔
4: محرف و منکر قرآنِ مجید ساب الشیخین می شنبہ۔
5: باز دارند مردم از دین اسلام کافر است یا نے؟ ارتباط نکاح و استنکاح داشتن و طریق الفت و محبت بوئے پیمودن و آمد و شد در اعراس شان کردن و شمولیت در شاد یہائے و مصائب و مواکلت و مشاربت بطریق مواخات و صداقت چہ حکم دارد؟ و ہرکس باچنین شخص طرح صداقت و محبت انداز و باد موالات و مصادقت جائز یا نہ از بیان شانی اطمینان قلب فرمائند۔ والسلام۔
ترجمہ: سیدہ عائشہ صدیقہؓ کو قذف کرنے والا حضرات ابوبکرؓ و عمرؓ کو اصحابِ رسول اللہﷺ نہ سمجھنے والا رسول اللہﷺ کی دوسری بیٹیوں کو سوائے فاطمہؓ کے نہ ماننے والا، قرآنِ موجود کا منکر اور اس کو محرف کہنے والا لوگوں کو دین حق (طریِق اہلِ سنت و الجماعت) سے ہٹانے والا کافر ہے یا نہ؟ ایسے شخص سے رشتہ داری، نکاح کرنا، ان سے دوستی اور یارانہ گانٹھنا ایسے شخصوں کی خوشیوں میں شمولیت، شادی و غمی میں ان سے شرکت، ان سے مل کر کھانا، اور پینا بطورِ دوستی بھائی بندی جائز ہے یا نہ؟ اور جو شخص ایسے شخص سے محبت و پیار کرے اس سے برتاؤ اور سلوک جائز ہے یا نہ؟ جواب شافی دے کر پوری تسلی فرمائیں
الجواب:
شخصے یا فرقہ کہ اوصافش در سوال مذکور شده خارج از دائره اسلام است باچنین شخص یا فرقہ ضالہ باقتضائے الحب اللہ والبغض اللہ اختلاف و ارتباط ممنوع است ساب شیخین عند الجمہور کافر است و حرف و منکر کلام مجید از دائر کا اسلام خارج، قاذف أم المؤمنین رضی اللہ عنہا، نیز منکر قرآن مجید است والباقی کذالک موالات و مصادقت با چنین اشخاص قطعی ممنوع است۔
(حررہ غلام محمد خطیب جامع مسجد بحکمِ قبلہ عالم از گولڑہ شریف)
ترجمہ: جس شخص یا فرقہ میں یہ اوصاف ہوں، جو سوال میں مذکور ہیں وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے ایسے شخص یا گمراہ فرقہ سے حسبِ اقتضائے الحب اللہ والبغض اللہ خلط ملط اور راہ و رسم رکھنا منع ہے شیخین کریمینؓ کو بُرا کہنے والا جمہور المسلمین کے نزدیک کافر ہے اور قرآنِ کریم کا منکر اور تحریف کنندہ بھی مسلمانی سے خارج ہے باقی اُمور کا بھی یہی جواب ہے ایسے اشخاص سے برتاؤ کرنا اور اتحاد رکھنا بالکل ممنوع ہے۔