Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مدینہ طیبہ

  علی محمد الصلابی

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں مدینہ طیبہ کا شمار اہم ترین اسلامی شہروں میں ہوتا تھا۔ وہی مرکز خلافت تھا، مختلف ممالک اور علاقوں سے وفود اور اسلامی لشکر وہاں پہنچتے تھے، اور وہاں بہت سے مہاجرین و انصار میں سے کبار صحابہ رضی اللہ عنہم اقامت پذیر تھے، جس کی وجہ سے مدینہ کی خصوصی اہمیت تھی۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بحیثیت خلیفہ وہاں مقیم تھے، حضرت عثمان غنیؓ وہاں کے حالات کا خود جائزہ لیتے، غذائی اشیاء کی قیمت بذات خود معلوم کرتے اور لوگوں کے ذریعہ سے بھی حضرت عثمان غنیؓ کو اطلاعات ملتی رہتی تھیں۔

(تاریخ المدینۃ: جلد 3 صفحہ 961، 962)

حضرت عثمان بن عفانؓ جب حج کے لیے سفر کرتے تو واپسی تک کے لیے کسی صحابی کو اپنا نائب مقرر فرماتے، اکثر حضرت عثمان غنیؓ حضرت زید بن ثابت انصاریؓ کو اپنا نائب مقرر فرماتے۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 168، 169)

مدینہ میں بیت المال اور عطیات و وظائف کے لیے دیوان دیگر صوبوں کی طرح قائم تھا، اور حضرت عثمانؓ کے عہد میں دیگر اسلامی صوبوں کی بہ نسبت مدینہ زیادہ پر سکون تھا، الا یہ کہ حضرت عثمان غنیؓ کے آخری ایام میں جب فتنہ پروروں کا لشکر وہاں پہنچا اور حضرت عثمان غنیؓ کا محاصرہ کر لیا اور بعض کبار صحابہ رضی اللہ عنہم وہاں سے دیگر شہروں کو منتقل ہو گئے تو بعد میں وہاں کے حالات میں اضطراب پیدا ہوا۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 169)